مردہ مرغیاں دریا میں ڈالنا ‘نیکی کر دریا میں ڈالنے’ کے مترادف

مرغیاں تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

’اس قسم کی مردہ مرغیوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے ہمارے پاس اور کوئی طریقہ کار وضع نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے گندے نالے میں پھینک دیتے ہیں۔‘

یہ کہنا تھا مردان فوڈ کنٹرولر اتھارٹی کے انسپیکڑ صابر علی کا جن کے ادارے نے جمعرات کو مردہ پولٹری کی ایک گاڑی پکڑی تھی اور ان مردہ مرغیوں کو تلف کرنے کے لیے قریبی کلپانی نالے میں ڈال دیا گیا تھا۔

مردہ مرغیوں کو پانی میں پھینکنے کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اس کو مختلف لوگوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ماحول دشمن اقدام قرار دیا گیا۔

باورچی خانے کی صافیاں فوڈ پوائزننگ کا سبب

ریستوران کا کھانا فاسٹ فوڈ سے زیادہ نقصان دہ

اس بارے میں جب مردان فوڈ کنٹرولر کے اہلکار صابر علی سے بات کی گئی تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ گاڑی مردہ مرغیوں سے بھری تھی۔

انھوں نے بتایا کہ جب ان کے دفتر کو اس بارے میں اطلاع ملی تو انھوں نے کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کو پکڑا اور مردہ مرغیوں کو کلپانی نالے میں ڈال دیا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ پانی اور ماحول کے لیے مضر نہیں؟ تو انھوں نے جواب میں بتایا کہ یہ دریا نہیں ہے بلکہ ایک گندہ نالہ ہے جہاں پر ہر کوئی گندگی پھینک دیتا ہیں۔

’ہمارے پاس وسائل اتنے نہیں ہیں اور نہ اس قسم کے کیسز میں گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لیے کوئی طریقہ کار موجود ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ تحصیل میونسپل اتھارٹی اور واٹر اینڈ سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ والوں کے ساتھ پہلے اس قسم کی گندگی کو تلف کرنے کے بارے میں بات کی گئی ہے لیکن وہ بھی مدد نہیں کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

خیبر پختونخوا میں حال ہی میں حلال فوڈ اینڈ سیفٹی اتھارٹی کا ایک ادارہ بنایا گیا ہے جو صوبے میں خوراک کی کوالٹی پر چیک رکھتا ہے۔

حلال فوڈ اتھارٹی کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالستار شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جس طریقے سے ان مردہ مرغیوں کو ضائع کیا گیا ہے یہ قطعی طور پر درست طریقہ نہیں ہے۔

انھوں نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ایک جامع حکمت عملی بھی بنائی ہے اور سارے اضلاع کے فوڈ کنٹرولرز کو بھیجی ہے کہ کس طرح اس قسم کے فضلے اور گندگی یعنی ’سالڈ ویسٹ‘ کو ٹھکانے لگانا ہے۔

اسی مد میں نومبر کے مہینے میں ضلعی فوڈ کنٹرولر کو ایک خط میں لکھا گیا ہے کہ ’سالڈ ویسٹ‘ کو کبھی بھی دریا، نالے یا کسی قسم کے پانی کے ذخیرے میں ڈالنے سے گریز کیا جائے۔

اسی نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سالڈ ویسٹ‘ کو مناسب جگہ ڈالا جائے اور اس کے لیے درست طریقے سے ایک گڑھا کھودا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ڈاکٹر عبدالستار نے یہ بھی بتایا کہ ضلعی فوڈ کنٹرولر کے پاس یہ اختیار بھی نہیں کہ وہ کسی جگہ پر چھاپہ مارے اور اس قسم کی کارروائی کریں۔

ان کے مطابق،'اگر اس قسم کا کوئی غیر قانونی کام ہو رہا ہے تو ضلعی فوڈ دفتر حلال فوڈ ان سیفٹی اتھارٹی کو اس کی اطلاع دے گا اور حلال فوڈ اتھارٹی پھر کارروائی کرے گی۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ ’سالڈ ویسٹ‘ کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری کس کی ہے، تو انھوں نے کہا کہ ہم واٹر اینڈ سینٹیشن ڈیپارٹمنٹ کو اس قسم کی کارروائی کرنے کے لیے بتاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ڈمپ کرنے کے وسائل موجود ہوتے ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پور وائرل ہونے والی ویڈیو پر حکومت کو بہت تنقید کا نشانا بنایا گیا ہے۔ ٹوئٹر پر ایک صارف مبین جگوال نے لکھا ہے کے اس کی مثال'نیکی کر اور دریا میں ڈال' کے مترادف ہے۔

ایک صارف علی نے لکھا ہے کہ ’یہ نہایت شرم کی بات ہے کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ سالڈ ویسٹ کو کس طرح ٹھکانے لگایا جائے۔‘

اسی بارے میں