زلمے خلیل زاد کے دورے کے موقع پر حافظ محب اللہ کی گرفتاری، افغان طالبان کو ’پیغام‘

طالبان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چند دن قبل زلمے خلیل زاد نے متحدہ عرب امارت اور قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دھڑے سے ملاقات بھی کی تھی

افغان طالبان کے مطابق پاکستانی فوج نے گروپ کے اہم رہنما اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوران مذہبی امور کے وزیر رہنے والے حافظ محب اللہ کو پشاور سے حراست میں لے لیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب افغان میں مفاہمتی عمل کے لیے امریکی حکومت کے مشیر خاص زلمے خلیل زاد منگل کو پاکستان کے دورے پر پہنچنے والے ہیں۔

افغان طالبان امریکہ سے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں اور اس حوالے سے چند دن قبل زلمے خلیل زاد نے متحدہ عرب امارت اور قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دھڑے سے ملاقات بھی کی تھی۔

افغان طالبان سے امن مذاکرات کے حوالے سے مزید پڑھیے

افغان طالبان کے وفد کی پاکستان آمد

افغان طالبان سے مذاکرات اور امید کی فضا

امریکہ کو پاکستان کی افغانستان میں دوبارہ ضرورت کیوں؟

’پاکستان افغان مذاکرات میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے‘

امریکہ نے ماضی میں متعدد بار پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ملک میں پناہ دینا بند کرے جبکہ پاکستان نے تردید کی ہے کہ وہ ان کی کسی قسم کی مدد کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ کی جانب سے افغان امور کے مشیر خاص زلمے خلیل زاد منگل کو پاکستان کے دورے پر پہنچنے والے ہیں

امریکی حکومت کا پاکستانی حکام سے یہ بھی کہنا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرے جس کی مدد سے افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے لیکن پاکستان کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

'حافظ محب اللہ کی گرفتاری'

طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حافظ محب اللہ کافی عرصے سے پشاور میں رہائش پذیر تھے۔

طالبان کے دو رہنماؤں نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا حافظ محب اللہ کی گرفتاری اس موقع پر اس لیے عمل میں آئی ہے کیونکہ وہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ زلمے خلیل زاد اور ساتھ ساتھ افغان صدر اشرف غنی کے نمائندوں سے ملاقات کریں۔

طالبان حکام نے ابھی تک افغان حکومت سے براہ راست بات کرنے سے انکار کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ افغان حکومت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اسی وجہ سے وہ اب تک صرف امریکی عہدے داران سے ملے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ افغان طالبان اپنے موقف میں نرمی پیدا کر لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption افغان طالبان رہنما کے مطابق پاکستانی حکام نے حافظ محب اللہ کو اس لیے گرفتار کیا ہے تاکہ انھیں ’پیغام‘ بھیجا جا سکے

ایک سنیئر افغان طالبان رہنما نے بی بی سی کو بتایا: 'انھوں نے حافظ محب اللہ کو اس لیے گرفتار کیا ہے تاکہ ہمیں پیغام بھیج سکیں۔'

افغان طالبان کے رہنماؤں کی کونسل، کوئٹہ شوریٰ کے ایک رکن نے کہا: 'ان امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی حکام سے ملاقات ہوئی تھی لیکن اس کا اختتام اچھا نہیں تھا۔ ان مذاکرات کے بعد پاکستانی حکام نے کئی چھاپے مارے اور محب اللہ کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد ہمارے رہنما شیخ ہیبت اللہ نے سب کو ہوشیار رہنے کا پیغام بھیجا ہے۔'

ماضی میں طالبان حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ افغان حکومت سے مذاکرات صرف اس وقت کریں گے جب امریکی افواج کے مکمل طور پر انخلا ہونے کی تاریخ طے ہو جائے گی۔

'پاکستان پر دباؤ امریکہ سے نہیں بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آیا ہے'

اس بدلتی صورتحال پر بی بی سی نے تجزیہ کار احمد رشید نے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔

'ایسا لگ رہا ہے کہ فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی طالبان کو آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ افغان حکومت اور امریکیوں سے مذاکرات کرنے پر رضامند ہو جائیں۔ پاکستان پر اصل دباؤ امریکہ سے نہیں بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آیا ہے۔'

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے پاکستان کی مخدوش اقتصادی حالات کے پیش نظر اسے اربوں ڈالر کے قرضے دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تجزیہ کار احمد رشید کہتے ہیں کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی طالبان کو آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ افغان حکومت اور امریکیوں سے مذاکرات کرنے پر رضامند ہو جائیں

پاکستان کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ ان کا طالبان پر ویسا اثر نہیں ہے جو ماضی میں تھا لیکن ان کی 'خواہش ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان قائم ہو۔'

اس سے پہلے گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان نے افغان طالبان کے بانیان میں سے ایک رہنما ملا برادر کو رہا کر دیا تھا تاکہ وہ امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

احمد رشید نے اس حوالے سے کہا کہ 'طالبان کے لیے سازو سامان کی بڑی تعداد ابھی بھی پاکستان سے آتی ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس عمل کو روکا گیا ہے کہ نہیں۔'

دوسری جانب طالبان اراکین کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان حکام کی نیت پر بھروسہ نہیں ہے کیونکہ امن مذاکرات کے لیے پاکستان طالبان گروپ کے اُس حصے کا ساتھ دے رہا ہے جو پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے بجائے اس دھڑے کا جو طالبان کے قطر میں موجود سیاسی دفتر کا نمائندہ ہے۔'

طالبان ذرائع نے کہا کہ 'اگر ان پر دباؤ زیادہ ڈالا گیا تو مذاکرات ختم ہو جائیں گے۔'

اسی بارے میں