پیٹرنٹی لیو: والد کو چھٹی دینے سے بچے کی ماں کو کیا فائدہ ہوگا؟

نوزائیدہ بچہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بچے کی پیدائش پر والد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے

بچے کی پیدائش ایک زندگی بدل دینے والا تجربہ ہے جس سے گزرنے اور اس نئے تعلق کو سمجھنے کے لیے پیدائش کے ابتدائی دنوں میں بچے کے ساتھ گزارے گئے وقت کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش کے موقع پر عورت کو انتہائی توجہ اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ پہلے یہ مدد عزیزواقارب اور قریبی رشتہ داروں کی طرف سے میسر ہوتی تھی، تاہم بدلتی دنیا اور فیملی سسٹم میں تبدیلیوں کی وجہ سے والد کے کردار کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

دنیا بھر میں بچے کی پیدائش پر والد کو ابتدائی کچھ دنوں کے لیے نوکری سے چھٹی دی جاتی ہے، تاہم اس چٹھی کی مدت اور اس سے متعلق قوانین ہر ملک میں مختلف ہیں۔

مزید پڑھیے

'بچہ رات کو روتا تھا مگر میں سوتی رہ جاتی'

ماں یا باپ کی دوسری شادی اور بچے

جب باپ کو اپنی بچی کو دودھ پلانا پڑ گیا

ڈیٹا جرنلسٹ نیال مکارتھی کے مطابق جہاں جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک مرد حضرات کو بچے کی پیدائش پر بالترتیب 52 اور 53 ہفتوں کی چھٹی کی سہولت دیتے ہیں، وہیں کینیڈا، امریکا، چیک ریپبلک، اسرائیل، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ جیسے ممالک میں اس قسم کی چھٹی کا وجود ہی نہیں۔

ہمسایہ ممالک ایران اور انڈیا میں بھی بچے کی پیدائش پر والد کو بالترتیب 15 اور 14 دن کی چھٹی دی جاتی ہے۔

پاکستان میں عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نوزائیدہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کی تمام ضروریات و متعلقہ مسائل ماں کی ذمہ داری ہیں، جبکہ والد کا کام صرف روزی روٹی کمانا ہے۔

تاہم گزشتہ دنوں اس سمت میں ایک مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں بچے کی پیدائش پر والد کے لیے بھی دس دن کی چھٹی کی منظوری دی ہے۔

وزارتِ انسانی حقوق کی سیکرٹری رابعہ جاوید آغا نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کے سروس قوانین منظور کرتے ہوئے پاکستان میں پہلی بار وفاقی حکومت کے مرد ملازمین کو بچے کی پیدائش پر 10 دن کی چھٹی کی منظوری دے دی ہے۔

تاہم بعد میں انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے اس ٹویٹ کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ چھٹی سب کے لیے نہیں، اس کا اطلاق صرف نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کے مرد ملازمین پر ہوگا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کس طرح اس کا دائرہِ کار پورے ملک تک بڑھایا جائے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔‘

پاکستان میں بعض نجی ادارے اپنے مرد ملازمین کو بچے کی پیدائش پر چھٹی کی اجازت دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ حکومتِ پنجاب نے بھی سنہ 2012 میں 1981 کے قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے پنجاب بھر کے مرد ملازمین کو پہلے دو بچوں کی پیدائش پر سات دن کی چھٹی کا حق دیا تھا۔

وفاقی حکومت کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس سے پہلے وفاقی ملازمین کو ’پیٹرنٹی لیو‘ میسر نہیں تھی، تاہم اس سے پہلے بھی وہ حکومتِ پنجاب کا نوٹیفیکیشن اپنی درخواست کے ہمراہ لگا کر یہ چھٹی لیتے رہیے ہیں۔ ایسے کیسز میں چھٹی کی منظوری کا انحصار متعلقہ افسر پر ہوتا تھا۔

انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اب اگر نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کے علاوہ دیگر وفاقی ملازمین کو ’پیٹرنٹی لیو‘ چاہیے ہو تو وہ متعلقہ ادارے کی نوٹیفیکیشن کو استعمال کرتے ہوئے چھٹی کی درخواست دے سکتے ہیں۔

وفاقی حکومت کی خواتین ملازمین کو پہلے تین بچوں کی پیدائش پر 90 دن کی چھٹی کی اجازت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پیدائش کے بعد کے دنوں میں باپ کو بچے کے ساتھ وقت گزارنے سے انسیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے

مردوں کے لیے بچے کی پیدائش پر چھٹی کیوں ضروری ہے؟

بی بی سی نے جب یہ سوال گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سلمیٰ کفیل قریشی سے کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ’جب عورت ڈلیووری کے لیے جاتی ہے، چاہے وہ نارمل ڈلیووری ہو یا سیزیرین، اس کے بعد اُسے مدد کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ پرانے وقتوں میں خاندان اکھٹے رہتے تھے اور عورتوں کو فیملی کی سپورٹ حاصل ہوتی تھی جو آج کل ہر ایک کو میسر نہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ شوہر شروع کے آٹھ دس مشکل دنوں میں بیوی اور بچے کا خیال رکھنے اور دیگر گھریلو مسائل و ضروریات میں مدد کے لیے اس کے ساتھ موجود ہو۔‘

پاکستانی عورت کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

ڈاکٹر سلمیٰ قریشی کے مطابق بچے کی پیدائش کے موقع پر عورت جسمانی اور ذہنی طور پرایک مشکل مرحلے سے گزرتی ہے، وہ اتنی متوازن حالت میں نہیں ہوتی کہ اپنے ساتھ ساتھ ایک نوزائیدہ بچے کی بھی بہتر دیکھ بھال کر سکے۔ ایسے موقع پر جہاں شوہر کی موجودگی عورت کے لیے بہت حوصلہ افزا اور ہمدردانہ ہے، وہیں اس سے باپ کو بچے کے ساتھ انسیت بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر اس خبر کے بارے میں ملاجلا ردِعمل دیکھنے میں آیا۔

ٹویٹر صارف ثنا خان کا کہنا ہے کہ ’وہ امید کرتی ہیں کہ یہ چھٹی گزارتے ہوئے مرد حضرات کو مل جل کر پرورش اور ڈائپر تبدیل کرنے کی بھی تربیت دی جائے گی۔۔۔ ورنہ میں تو انھیں آرام دہ، پلنگ توڑ آلو بنتے اور ہر گھنٹے چائے کی فرمائش کرتے ہی دیکھ رہی ہوں۔‘

ان ڈن نامی ٹویٹر صارف کو نہیں لگتا کہ اس سے کچھ تبدیل ہوگا۔ وہ کہتی ہیں ’بیوی کو اپنی ماں یا اُس کی ماں کے پاس چھوڑ کر خود دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں گے اور دن بھر سوئیں گے۔ ہمارے ہاں کے مرد اپنے نوزائیدہ بچے کو نہیں پوچھتے، بیوی تو دور کی بات ہے۔‘

ٹونی خان کے مطابق ’پیٹرنٹی کی چھٹی کا بل جو حالیہ دنوں پاکستان میں ذیر غور ہے، اس حوالے سے میں حقیقتاً یہ دیکھنا چاہوں گا کہ وہ اسے نجی اداروں پر کس طرح لاگو کرتے ہیں۔ میں ابھی سے بدنامی، قدامت پسندی اور عامیانہ سوچ کی حد دیکھ رہا ہوں۔ تجھے چھٹی کیوں چاہیے بھائی؟ بیوی اور ساس کو بول۔‘

صحافی نسیم زہرہ اسے ایک اچھا قدم قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں ’پیٹرنٹی کی چھٹی والد کی نوزائیدہ بچے سے لطف اندوز ہونے کی محرومی کو ختم کر دیتی ہے۔۔۔ والد کے لیے باپ بننے کی خوشی سے دوری ٹھیک نہیں ہے۔‘

آمنہ سِڈ کے مطابق اُن کی نانی اس 10 دن کی پیٹرنٹی لیو کی خبر پر بہت ہنسیں اور بولیں ’مرد 10 دن گھر بیٹھ کر کریں گے کیا؟ اور کام ہی بڑھائیں گے۔‘

عائشہ سروری لڑکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں ’یہ آپ کے لیے موقع ہے کہ سپرم ڈونر سے آگے بڑھ کر تربیت میں برابر حصہ ڈالیں۔ پیٹرنٹی کی چھٹی کے 10 دن کرکٹ میچ دیکھنے اور بیوی سے یہ کہنے میں مت گزاریں کہ بچہ دوسرے کمرے میں لے جاؤ تاکہ آپ بنا آواز کے رات بھر سو سکیں۔‘

اسی بارے میں