’امل عمر بل‘ پر والدین کو اعتراض

امل عمر تصویر کے کاپی رائٹ Amal Umar Family
Image caption امل عمر کی ہلاکت کے بعد سندھ حکومت نے ایک نیا بل پیش کیا ہے۔

حال ہی میں سندھ حکومت نے کراچی میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی 10 برس کی بچی امل عمر کے کیس کو بنیاد بنا کر سندھ اسمبلی میں ایک بِل پیش کیا۔ لیکن امل کے والدین نے اس بِل میں موجود چند نکات پر اعتراض کیا ہے۔

13 اگست 2018 میں امل عمر اور ان کے والدین کراچی میں ایک کانسرٹ دیکھنے جارہے تھے جب سگنل پر ان کی گاڑی ایک ڈکیت کے نرغے میں آگئی۔ ڈکیتی کے بعد پولیس کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں امل کی موت واقع ہوئی۔

اس واقع میں پولیس کے کردار پر تو انگلیاں اُٹھیں لیکن ساتھ ہی پرائیوٹ ہسپتال بھی تنقید کا نشانہ بنے۔ جب امل عمر کو گولی لگی تو ان کے والدین اُنہیں قریب ترین ہسپتال نیشنل میڈیکل سینٹر لے گئے۔ امل کی والدہ کے مطابق ہسپتال کے عملے نے ان کے مدد کرنے کے بجائے تاخیر سے کام لیا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔

سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا اور سماعت کے دوارن ہسپتال کے عملے نے اپنے بیان میں کہا کہ امل ہسپتال پہنچتے ہی انتقال کرچکی تھیں۔

مزید پڑھیے

کیا مریض کی جان بچانا اولیت رکھتا ہے؟

’کاش کسی ماں باپ کو ایسی بہادری کا مظاہرہ نہ کرنا پڑے‘

ہسپتال کی جانب سے امل کے والدین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر یہ بحث چِھڑ گئی کہ کیا پرائیوٹ ہسپتال ایمرجنسی میں لائے گئے زخمیوں کا علاج کرنے کے پابند ہیں یا نہیں؟ اور اگر مان لیا جائے کہ نہیں، تو کیا انھیں پابند کیا جاسکتا ہے؟

اس بِل کے اہم نکات کیا ہیں؟

سندھ کے وزیرِ اعلی سید مراد علی شاہ کی طرف سے پیش کیے گئے بِل کا نام سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ (امل عمر) ایکٹ 2019 ہے۔ یاد رہے اسی طرز کا ایک اور بِل 2014 میں پیش کیا گیا تھا جو نئے بِل کے آنے کے بعد منسوخ ہوچکا ہے۔

اس بِل کے چند اہم نکات میں ہسپتال کو پابند کیا گیا ہے کہ آنے والے ہر زخمی مریض کا بنا کسی تاخیر کے یا میڈیکو لیگل کاروائی کے فوری علاج کیا جائے گا۔

ساتھ ہی بِل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ زخمی کا علاج لازمی ہے اور اُن کو فوری طور پر پیسے دینے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ ہسپتال کے عملے اور زخمی کے لواحقین کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

اگر کوئی زخمی ہسپتال کی فیس نہیں دے سکتا ہو تو ایسی صورت میں ہسپتال اس کے علاج کا بِل بھرے گا۔

کسی بھی صورت میں ہسپتال میں لائے جانے والے زخمی مریض کو پولیس تھانے نہیں لے جایا جائے گا جبکہ پولیس اہلکار کسی زخمی کے علاج میں خلل پیدا نہیں کرسکتے۔ اس کے ساتھ ہی اگر کسی زخمی کی جان بچانے کی لیے فوری طبی امداد دینی پڑے تو یہ عمل اس کے اہلِ خانہ سے اجازت لیے بغیر کیا جائے گا کیونکہ ہسپتال کی پہلی ترجیح زخمی کی جان بچانا ہوگی۔

خلاف ورزی کرنے والے کے لیے پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور تین سال قید سزا مقرر کی گئی ہے۔

امل کے والدین کے بِل پر کیا اعتراضات ہیں؟

Image caption امل کے والدین، عمر عادل اور بینش عمر

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امل عمر کی والدہ بینش عمر نے کہا کہ’اب بھی اس بِل کے ذریعے پرائیوٹ ہسپتالوں کو پناہ دی جارہی ہے کہ آیا وہ کسی مریض کا علاج کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ بِل کے سیکشن 2 (بی) اور 7 میں ترمیم کر کے ان الفاظ کو بدلنے کی ضرورت ہے جہاں کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال کی رائے میں جہاں زخمی کو لایا گیا ہو۔۔۔’ اس سے پرائیوٹ ہسپتالوں کو زخمی کا علاج کرنے یا نہ کرنے کا آپشن دیا جارہا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بِلا امتیاز سب ہی ہستپالوں کو پابند کیا جائے کہ وہ علاج کریں۔‘

اس کے علاوہ شِق 2 (جے) اور (آئی) میں ہسپتال کی تعریف میں ہر نجی و سرکاری ہسپتال، ٹراما سینٹر، کلینک کو شامل کیا جائے جہاں مریضوں کے لیے بستر اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں اور اس بات کو کسی نوٹیفیکیشن کے جاری ہونے کا محتاج نہیں کیا جانا چاہیے۔

’دیکھیں عام آدمی کو نہیں پتہ کہ نوٹیفائیڈ ہسپتال سے کیا مراد ہے۔ نوٹیفیکیشن کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی ہمیں پتا ہے کہ نوٹیفائیڈ ہسپتال کیا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بِل میں پرائیوٹ ہسپتال کی تعریف میں ان سب جگہوں کو شامل ہونا چاہئیے جہاں طبی امداد دی جاتی ہے اور وہ سرکاری ہسپتال کے زمرے میں نہ آتے ہوں۔

ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں علاج کرنے کا اجتماعی طریقہ کار یکساں اور واضح ہونا چاہیے اس کے علاوہ عملے کے تربیت یافتہ ہونے کو یقینی بنایا جائے۔

سندھ اسمبلی اس بارے میں کیا کر رہی ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلی کے مشیر برائے قانون مرتضی وہاب نے کہا کہ امل کے والدین کی طرف سے دی گئیں دو تجاویز کو بِل میں شامل کر لیا گیا ہے۔ جبکہ ہسپتال کی تعریف سے متعلق جو تجویز تھی اُسے بل پر غور کرنے والی سلیکٹ کمیٹی نے اس لیےشامل نہیں کیا کیونکہ پہلے سے ہی پرائیوٹ اور سرکاری ہسپتال کی تعریف اس بِل میں دی ہوئی ہے۔ پیر (28 جنوری) کو یہ قانون اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے ٹیبل ہوگا اور ہم پُرامید ہیں کہ ہم اس کو پاس کروالیں گے۔‘

میڈیکولیگل کیا ہے؟

میڈیکو لیگل قانونی کارروائی کا ایک اہم حصہ ہے جس کے ذریعے قتل، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کا سراغ لگانے میں پولیس اہلکاروں اور وکلا کو مدد ملتی ہے۔ اس میں سر میں لگی گولی سے لے کر لاش پر موجود کسی بھی قسم کے تشدد کے نشان کا جائزہ لے کر تفتیشی رپورٹ بنائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے پاس موجود زیادہ تر اسلحہ دراصل فوج کا استعمال شدہ ہے جو فوج اپنے استعمال کے بعد ان کو بھیج دیتی ہے۔

لیکن کراچی کی ڈیڑھ کروڑ آبادی کے لیے شہر کے صرف تین سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکو لیگل افسران موجود ہیں جن پر کام کا دباؤ کافی زیادہ ہے۔

کراچی میں دو دہائیوں سے جرائم اور دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے اور اب تک شہر میں تین بڑے آپریشن ہوچکے ہیں جن میں سے ایک اب تک جاری ہے۔ لیکن چوری اور ڈکیتی کے واقعات اب بھی پیش آتے ہیں اور اس بِل کے پیش ہونے سے چند دن قبل، 20 جنوری کو کراچی کے علاقے کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلے کی زد میں آکر ایک 28 سالہ حاملہ خاتون شدید زخمی ہوئیں جس کے بعد انپسکٹر جنرل پولیس سندھ سید کلیم امام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی رپورٹ طلب کی ہے۔

اسی بارے میں