منی بجٹ: بالواسطہ ٹیکس میں اضافے کی صورت میں مہنگائی بڑھےگی

وزیرِ خزانہ اسد عمر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیرِ خزانہ اسد عمر

ملک میں اس وقت ایک اور ’منی بجٹ‘ کی آمد آمد ہے۔

حکومت اور اس کے نمائندے اس کو درست معاشی سمت میں ایک قدم قرار دے رہے ہیں جب کہ حزبِ اختلاف اس کو موجودہ حکومت کی معاشی میدان میں ناکامی سے تعبیر کر رہی ہے۔

عوام اس تذبذب کا شکار ہیں کہ آنے والا بجٹ ان کی زندگی کو کس حد تک متاثر کرے گا۔

اگر وہ حکومتی دعوؤں پر کان دھرتے ہیں کہ اس منی بجٹ کے نتیجے میں کوئی ایسا نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جس سے روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہوں لیکن اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق یہ منی بجٹ گرانی کی ایک نئی لہر کو جنم دے گا۔

یہ ’منی بجٹ‘ کیا ہے، کن حالات کے مدِ نظر اسے پیش کی جاتا ہے، کیا یہ معاشی میدان میں حکومتی ناکامی کا ممکنہ اظہار ہوتا ہے اور کن صورتوں میں یہ عام لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ’منی بجٹ‘، ترقیاتی اخراجات میں کمی

جب پچ اور موسم دونوں ناسازگار ہوں۔۔۔

چین مالی مدد دینے پر تیار، پندرہ معاہدوں پر دستخط

روپے کی قدر برقرار رکھنے کے لیے آٹھ ارب ڈالر خرچ

بجٹ کیا ہے؟

سادہ الفاظ میں یہ اخراجات اور آمدن کا وہ تخمینہ ہے جو حکو متِ وقت اپنی معاشی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے تجویز کرتی ہے۔ یہ تخمینہ جسے منی بل بھی کہا جاتا ہے ایوانِ زیریں میں موجود اکثریتی ممبران کی حمایت حاصل کرنے پر پاس ہو جاتا ہے۔

تاہم جاری مالی سال کے دوران کسی بھی وقت اگر حکومت سمجھتی ہے کہ غیر متوقع معاشی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پہلے سے منظور شدہ اہداف میں ردوبدل کی جائے تو وہ منی بجٹ پیش کر سکتی ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے گذشتہ برس اپریل میں مالی سال 2018-2019 کے لیے وفاقی بجٹ پیش کیا۔ موجودہ حکومت ستمبر 2018 میں ایک منی بجٹ پیش کر چکی ہے اور ترجمان وزارتِ خزانہ کہ مطابق ایک اور منی بجٹ جسے وہ ’ریفارمز پیکج‘ قرار دیتے ہیں 23 جنوری (بدھ) کو وفاقی کابینہ کہ سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس کے فوراً بعد اسے منظوری کے لیے ایوانِ زیریں میں پیش کر دیا جائے گا۔

منی بجٹ کیوں پیش کیا جاتا ہے؟

ماہرِ معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ نظرثانی شدہ بجٹ پیش کرنے کی دو اہم صورتیں ہو سکتی ہیں۔

بعض اوقات کسی بڑے زلزلے، سیلاب یا کسی اور قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے حکومت کو اضافی اخراجات کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں حکومت پہلے سے مختص کردہ آمدن کو اس کے منظور شدہ مصرف سے نکال کر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اس صورت میں منی بجٹ پیش کیا جا سکتا ہے کیوں کہ حکومت پیسہ استعمال کرنے کے منظور شدہ مصرف میں تبدیلی لا چکی ہے۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق دوسری صورت یہ ہے کہ حکومت پہلے سے منظور شدہ بجٹ میں ظاہر کردہ آمدن اور اخراجات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے تو اس کو کوئی راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا ’پچھلے چھ ماہ میں محصولات میں اضافے کی شرح بہت کم رہی ہے اور اخراجات میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ بڑھا ہے۔‘

ان کے مطابق حکومتِ وقت عموماً منی بجٹ کو ایک 'درست اقدام' قرار دیتی ہے تاہم اس کا بنیادی مقصد آمدن کو بڑھانا اور اخراجات کو کم کرنا ہوتا ہے تاکہ مالی سال کے اختتام پر مقرر کردہ بجٹ اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

کیا منی بجٹ عوام پر اثرانداز ہو گا؟

ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے اگر منی بجٹ کے ذریعے حکومت ٹیکس میں اضافہ کرتی ہے خاص کر بالواسطہ ٹیکس میں تو اس کا اثر یقیناً عام آدمی پر پڑے گا۔ اسی طرح اگر کچھ ایسے حکومتی خرچے کم کر دیے جائیں جن سے عام آدمی مستفید ہو رہے تھے تو اس سے بھی عوام متاثر ہو سکتے ہیں۔

صحافی خرم حسین کہتے ہیں کہ اگر جی ایس ٹی ریٹ کو بڑھایا جاتا ہے جس کے حوالے سے اشارے موجود ہیں تو یقیناً اس کا اثر عام عوام پر مہنگائی کی صورت میں پڑے گا۔

کیا منی بجٹ حکومتی ناکامی کا ممکنہ اظہار ہے؟

ڈاکٹر حفیظ پاشا کا دعوی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نو ماہ کی قلیل مدت میں تیسرا بجٹ پیش کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پہلا بجٹ مسلم لیگ نواز کی حکومت اپنے آخری دنوں میں پیش کر گئی تھی اور اس میں بے تحاشہ مراعات تھیں۔

اس کے مقابلے میں ستمبر 2018 میں موجودہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا پہلا نظرثانی شدہ بجٹ بہت کمزور تھا کیونکہ اس میں ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا اور جاری اخراجات میں کوئی کمی نہیں دکھائی گئی تھی۔

اور اب دوسرے نظرثانی شدہ بجٹ سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پہلا نظرثانی شدہ بجٹ کافی حد تک فیل ہو چکا ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے ہیں ناکام رہا ہے۔

صحافی خرم حسین کا کہنا ہے کہ کسی حد تک یہ کہہ سکتے ہیں کہ دوبارہ منی بجٹ کا آنا حکومتی ناکامی کا ممکنہ اظہار ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کے ستمبر 2018 میں آنے والے پہلے منی بجٹ میں حکومت کے پاس یہ عذر بہرحال موجود تھا کہ مالی سال 2018-2019 کا بجٹ گزشتہ حکومت نے پیش کیا جس کو موجودہ حکومت نے 'حقائق کے منافی' قرار دیتے ہوئے درست کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا 'تاہم ان ترامیم کے کچھ ہی ماہ بعد اگر حکومت کہتی ہے کہ وہ مزید ترامیم کرنا چاہتی ہے تو سوالات اٹھیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترجمان وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کے یہ منی بجٹ نہیں بلکہ 'انوسٹمنٹ اینڈ ایکسپوٹ پروموشن ریفارمز پیکج' ہے جو کہ 23 جنوری کو وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

منی بجٹ نہیں اصلاحاتی پیکج

ترجمان وزارتِ خزانہ ڈاکٹر خاقان حسن نجیب کا کہنا تھا کہ اس کو منی بجٹ کہنا درست نہ ہو گا بلکہ یہ 'انوسٹمنٹ اینڈ ایکسپوٹ پروموشن ریفارمز پیکج' ہے جو کہ 23 جنوری کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

سرمایہ کاری اور انڈسٹری کے فروغ کے لیے یہ اصلاحاتی پیکج لایا جا رہا ہے اور یہ پہلے سے جاری 'امپورٹس کمپریشن مئیر' یا درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے کے اقدامات کا تسلسل ہو گا جس کے مثبت نتائج پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔

اس کے چیدہ خدوخال یہ ہیں کہ کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کی جائیں اور اس سلسلے میں درپیش مشکلات کو دور کیا جائے نیز خام مال کی درآمد کو آسان بنایا جائے تاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔

ترجمان وزارتِ خزانہ کا کہنا تھا کہ 'اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا ماسوائے پرتعیش مصنوعات کے جیسا کہ 1800 سی سی سے اوپر کی گاڑیاں جن کا عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ بیلنس آف پیمنٹس میں مشکلات پیش آ رہی ہیں پرتعیش مصنوعات کی ملک میں روک تھام کرنی چاہیے۔'

انھوں نے کہا کہ یوں سمجھیے کہ عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے پرتعیش مصنوعات کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے گی تاکہ کرنٹ اکاؤنٹ کو سنبھالا جا سکے اور روپے پر موجودہ دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

'ان تمام اقدامات سے عام آدمی کے لیے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا۔ یہ بل تمام متعلقہ اداروں سے بات چیت کر کے تیار کیا گیا ہے۔'

صحافی خرم حسین کا کہنا ہے کہ حکومت نے کبھی اس کو منی بجٹ نہیں کہا تاہم اگر مالی سال کے دوران محصولات کے حوالے سے نئے اقدامات کیے جائیں جیسا کے نئے ٹیکسز کا نفاذ یا نافذالعمل ٹیکسز کی شرح میں اضافہ تو اس کو منی بجٹ کہیں گے۔

اگر پرتعیش مصنوعات کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے موجودہ ڈیوٹیز کو بڑھایا جا رہا ہے تو یہ منی بجٹ ہے ورنہ تو ایس آر اوز کے ذریعے نئی مراعات یا منصوبوں کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں