نجی سکولوں کی فیس میں کمی: کیا سپریم کورٹ کا حکم تعلیمی معیار میں کمی کا باعث بن سکتا ہے؟

نجی سکول تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نجی سکول: مافیا یا معیاری تعلیم فراہم کرنے کا واحد ذریعہ؟

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے 'مہنگے' نجی سکولوں کی فیس میں جبری کٹوتی کے بعد بیشتر سکولوں نے اپنی فیسوں میں کمی تو کردی ہے لیکن ماہرینِ تعلیم اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ فیس میں اس کمی کا نقصان سکول مالکان سے زیادہ تعلیم اور طلبا کو ہو گا۔

'سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اساتذہ اور بچوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ معیارِ تعلیم بتدریج تنزلی کا شکار ہوگا اور یہ کوئی اچمبے کی بات نہیں ہوگی اگر ہمیں نئے تعلیمی سال کے آغاز میں برطرفی کا نوٹس تھما دیا جاۓ۔'

یہ بات لاھور میں مختلف نجی سکولوں میں پڑھانے والے معاشیات کے استاد عمران لطیف نے بی بی سی کے اس سوال کے جواب میں کہی کہ سکولوں کی فیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والی کمی کا اثر کیا اور کس پر ہو گا؟

اس بارے میں مزید جانیئے

نجی سکولوں کو بیس فیصد فیس کم کرنے کا حکم

خیبر پختونخوا میں دو دن تک نجی سکول بند

خیبرپختونخواہ کے نجی سکولوں کے کھاتے منجمد کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کے فیس کم کرنے کے حکم نامے میں کیا ہے؟

سپریم کورٹ کے حال ہی میں آئے عبوری حکم کے مطابق تمام وہ سکول جو 5000 سے زائد فیِسں وصول کر رہے ہیں ان کو 5000 سے زائد رقم وصول کرنے پر 20 فیصد کٹوتی کرنا ہوگی۔ مزید یہ کہ والدین کو گرمیوں کی چھٹیوں میں وصول کردہ نصف رقم بھی لوٹانا ہوگی۔

چند نجی سکولوں کے خلاف متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گذشتہ سال جون کے ماہ میں نجی سکولوں کو گرمیوں کی فیس نہ وصول کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ والدین فِیسوں کی ادائگیوں کے معاملے میں اگرلاپرواہی برتیں گے تو اُن کےخلاف سکول اپنے قوائد کے مطابق کارروائی کرے گا۔ حکم کے مطابق اس کٹوتی کے نتیجے میں سکول مالکان سہولیات اور اساتذہ کی تنخواہوں میں کمی نہیں کرسکتے اور نہ ہی کسی کو برطرف کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے عبوری حکم میں وفاقی محتسب کی زیرِصدارت قائم کردہ کمیٹی کی شائع کردہ رپورٹ کا بھی ذکر ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق اِس رپورٹ میں آئین کی شق 25A کی عملداری پر زور دیا گیا ہے۔ یہ شِق ریاست کو پانچ سے 16 سالہ عمر کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی ذمیداری سونپتی ہے۔

سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے اہم نکات

  • ملک بھر میں 'تعلیمی ایمرجنسی` نافذ کرنے کی سفارش
  • پانچ سے 16 سالہ عمرکے بچوں کا 57 فیصد حصہ سکولوں سے باہر ہے۔
  • ملک بھر میں یکساں نظامِ تعلیم کو متعارف کرانا چاہیے۔
  • سکول جانے والے بچوں کا 36 فیصد حصہ تاحال نجی سکولوں میں زیرِ تعلیم ہے۔
  • نجی سکولوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک مستند طریقہ کار وضح کرنا اور ایک طاقتور ریگولیٹر کا ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر کاشف مرزا نے بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ'98 فیصد نجی سکول 5000 سے کم فیِس وصول کرتے ہیں اور اِس حکم کا اطلاق صرف 2 فیصد سکولوں پرہوگا۔' ایک اندازے کے مطابق ان دو فیصد سکولوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ان میں لاکھوں بچے (ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد) پڑھتے ہیں۔

کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے زیرِاثرتمام سکول اس حکم کی عملداری کر رہے ہیں اس کے باوجود کہ متعدد سکولوں کو اِس پر تحفظات ہیں۔

Image caption چند نجی سکولوں کے خلاف عدالتوں کو متعدد شکایات موصول ہوئیں

کیا والدین کے لیے یہ فیصلہ خوش آئند ہے؟

گذشتہ کچھ عرصے میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایسے میں متوسط آمدن والے طبقے کے والدین کے لیے یہ فیصلہ خوش آئند بھی ہے اور باعث سہولت بھی۔ بی بی سی اردو کی گفتگو کامل زیدی سے ہوئی جن کے تین بچے ایک نجی سکول میں زیرِ تعلیم ہیں اور انھوں نے باقاعدگی سے عدالتی کاروائی میں بھی حصہ لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سرکاری سکولوں کا نظام اب اِس قابل نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو وہاں بھیج سکیں اور نجی سکولز عدالتی فیصلوں کے برعکس فیِسوں کے معاملے میں اپنی من مانی کر رہے ہیں۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ماہانہ وار گھریلو خرچے میں اس فیصلے کی روشنی میں نمایاں کمی آئے گی۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور والدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

مالکان اور منتظمین سراپا احتجاج

گذشتہ دنوں لاہور کے 'سکالیسٹک اسلامیہ' نامی نجی سکول کے سربراہ توصیف حسن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی جس میں اُنھیں چیف جسٹس سے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرتے دیکھا گیا۔

بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو میں توصیف حسن نے کہا کہ حکومت آئین کی شق 25A کی عمل درآمد میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور مزید ایسے عدالتی فیصلے ہمارے نجی اداروں کی حوصلہ شِکنی کرتے ہیں جو معیاری تعلیم فراہم کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری بنیادی ترجیح بچوں کی تعداد نہیں بلکہ تعلیمی معیار ہے اور اگر ہمارا سکول بند ہوجاتا ہے تو اس کا فائدہ بھی ان 21 سکولوں کو ہوگا جن کو سپریم کورٹ نے 'مافیا' سے تشبیہ دی تھی۔ ان بڑے نیٹورکس میں اب بچوں کی تعداد بڑھ جائے گی اور اس کا براہ راست اثر تعلیم کے معیار پر پڑے گا۔'

اسلام آباد کےنجی ایڈوپیا سکول کی سربراہ جویریا سیٹھی نے ایک ہی شاخ پر مشتمل سکولوں کے لیے اِس فیصلے کو سزائے موت سے تشبیہ دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ 'تعلیم کے شعبے میں ریگولیشن معیار کی بنیاد پر ہونی چاہیے نہ کہ قیمت کی بنیاد پر۔'

قرۃالعین رضوی جو اسلام آباد میں جی ایس آئ ایس نامی سکول چلا رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ گرمیوں کی فِیس لوٹانے میں دشواری آرہی ہے اور انھیں ادائگیوں کے لیے قرضے بھی لینے پڑ رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایسے فیصلوں کو لاگو کرنے سے پہلے تمام سکولوں کی شنوائی ہونا لازم ہونا چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سکول میں طلبا کی بڑھتی تعداد تعلیمی معیار کو متاثر کرے گی۔

کیا اساتذہ نوکری سے متعلق عدمِ تحفظ کا شکار ہیں؟

لاہورمیں معشیات کے استاد عمران لطیف جو بیکن ہاؤس، روٹس اور لکاس سکول سے منسلک ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ اساتذہ میں ایک خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے کہ گویا سکول نئے سال کے آغاز میں اُن کے کنٹریکٹ برقرار رکھے گا کہ نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر سکولوں نے غیرنصابی سرگرمیاں کچھ مدت کے لیے معطل کردی ہیں۔

عمران لطیف کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو مراعات میں اضافے کے وعدے بھی پورے ہوتے نہیں دکھائی دے رہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ 'سکول اپنے منافعے کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کی تعداد بڑھا سکتا ہے جس کا براہ راست اثر معیارِ تعلیم پر پڑے گا اور بچوں کو خاص انفرادی توجہ نہیں مل پائے گی۔'

بی بی سی اردو نے اس بارے میں متعدد اساتذہ سے بات کی جنھوں نے اپنی ملازمت کو لاحق ممکنہ خطرات کی وجہ سے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کرتے ہوئے اوپر بیان کردہ تحفظات سے ہمیں آگاہ کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ان کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔

بڑوں کی لڑائی میں بچے کا کیا ہوگا؟

بچے کے لیے اولین ترجیح معیاری تعلیم کا حصول ہونا چاہیے۔ والدین اور نجی سکولوں کے بقول اُن کی بھی یہی ترجیح ہے لیکن ایک فریق پیسہ بچانا چاہتا ہے اور ایک زیادہ سے زیادہ کمانا چاہتا ہے۔ اس لین دین سے صرف تعلیمی معیار ہی متاثرہوتا ہے۔ تین سکول جاتے بچوں کے والد کامل زیدی کو بھی یہ خدشہ ہے کہ یہ نجی سکول والدین کو مستقبل میں سہولیات گھٹا کر 'بلیک میل' کریں گے۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر کاشف مرزا کے بقول'آنے والا وقت نجی سکولوں کے لیے کافی مشکل ثابت ہوگا۔ بڑھتی افراطِ زر کے نتیجےمیں سنہ 2015 سے 2018 کے درمیا ن 3600 نجی سکول اب تک بند ہوچکے ہیں۔'

بیکن ہاؤس سکول سے منسلک ڈاکٹر لارنس برک کی شایع کردہ رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے پاکستانی نظامِ تعلیم پر شدید منفی اثرات مرتب ہونگے۔

رپورٹ کے چند اہم نکات:

  • صرف ایک شاخ پر مشتمل سکول بند ہوجایئں گے
  • بڑے سکول نیٹورکس جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے سے اجتناب کریں گے
  • نصاب میں مثبت تبدیلیاں نہیں آئیں گی
  • غیر نصابی سرگرمیوں کو معطل کردیا جائے گا
  • بہت سے اساتذہ اور دیگر سٹاف برطرف بھی ہوں گے
  • بچے کا معیارِ تعلیم بُری طرح متاثر ہوگا

اسی بارے میں