ساہیوال واقعے میں ہلاک ہونے والا مبینہ دہشت گرد ذیشان کون ہے؟

ذیشان

صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے دعویٰ کے مطابق مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والا لاہور کا رہائشی تیس سالہ ذیشان جاوید مذہبی تنظیم مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کا حامی تھا۔

محلہ داروں اور پڑوسیوں کے مطابق محمد ذیشان نے غریب خاندان مین آنکھ کھولی تھی۔ بعد میں اس نے کمپیوٹر کا کاروبارشروع کیا لیکن نقصان اٹھانے کے بعد کریم آن لائن ٹیکسی سروس سے منسلک ہوگیا تھا۔

اتوار کی رات ذیشان جاوید کی نماز جنازہ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان لاہور کے امیر رانا نصراﷲ نے پڑھائی تھی۔

ساہیوال واقعے کے بارے میں مزید پڑھیے

’اگر گاڑی روک کر مارا ہے تو کوئی معافی نہیں‘

بچے کی زبانی ہلاکت کی کہانی سننا مناسب ہے؟

ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلہ: پانچ بڑے سوالات

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ محمد ذیشان کو کئی سالوں سے جانتے ہیں۔ محمد ذیشان ان کی یوتھ ونگ کا فعال کارکن تھا اور پارٹی سرگرمیوں میں فعال رہتا تھا۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے لاہور میں سیکرٹری اطلاعات حافظ سعد رفیق بھی ذیشان جاوید کو گزشتہ دس سال سے جانتے ہیں اور اس کے محلے دار بھی ہیں۔

رانا نصراﷲ اور حافظ سعید رفیق کا کہنا تھا کہ ہمیں حکومت کی جانب سے قائم کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن کی رپورٹ کا انتظار ہے اور ہم نے اپنی پارٹی کا اجلاس بھی طلب کررکھا ہے اور تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آنے کے بعد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

لاہور کی ڈولفن پولیس فورس میں خدمت سرانجام دینے والے ذیشان جاوید کے چھوٹے بھائی احتشام جاوید نے بی بی سی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'ذیشان جاوید مذہبی امور کا پابند تھا اور عبادات کو بہت اہمیت دیتا تھا اور پورے علاقے میں مذہبی عبادات اور شرافت کی بنا پر نیک نام تھااور پورے علاقے میں اسی حوالے سے جانا پہچانا جاتا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption گاڑی میں والدین کے ساتھ یہ دو بچیاں اور ان کا ایک بھائی بھی موجود تھا

ذیشان جاوید لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو کا رہائشی تھا۔ اس علاقے کے بزرگ اور ذیشان جاوید کے قریبی پڑوسی افضال بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ذیشان جاوید کے خاندان کو اس وقت سے جانتے ہیں جب ذیشان جاوید اس دنیا میں بھی نہیں آیا تھا۔

ذیشان جاوید کی والدہ شادی کے بعد سیالکوٹ چلی گئی تھیں مگر علیحدگی کے بعد اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ واپس اپنے والدین کے گھر آگئی تھیں۔

ذیشان جاوید بڑا بیٹا تھا اور ان کی والدہ نے کچھ سال پہلے اپنے ہی رشتہ داروں میں بیٹے کی شادی کروا دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ذیشان جاوید اور ان کے بھائی احتشام جاوید جائنٹ فیملی سسٹم کے تحت ایک ہی گھر میں رہائش پذیر تھے۔

ذیشان جاویدکے تین اور محلے داروں رحمان گل، افضل بٹ اور سلمان بٹ کا بھی کہنا تھا کہ ذیشان جاوید اپنے علاقے میں معروف تھا اور تقریبا تمام لوگ ہی اس کو جانتے ہیں۔

خیال رہے کہ ساہیوال واقعہ کے حوالے سے پنجاب حکومت کے وزیر قانون راجہ بشارت نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ذیشان شدت پسند تنظیم کا سہولت کار تھا اور کار میں اسلحہ منتقل کیا جارہا تھا۔

اسی بارے میں