ایک خاتون خانہ کا گھریلو بجٹ: ’مہنگائی نے پاکستان میں عام شہری کی مشکلات میں اضافہ کر دیا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے متوسط طبقے کی مشکلات میں اضافہ

’میں تنخواہ دار ہوں اور اب مہینے کے آخر میں مجھے یہ علم نہیں ہوتا کہ میرے پاس کچھ رقم بچے گی یا نہیں'۔ کچھ یہی رائے پاکستان میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کی ہے۔

راولپنڈی میں ایک نجی سکول سے وابستہ عمرانہ عامر کو حکومت کے پہلے کچھ ماہ نے مایوس کیا ہے 'میرے لیے اب خاصا مشکل ہو گیا ہے کہ میں اپنی تتنخواہ سے بجٹ ترتیب دوں اور کچھ ایسی ہی صورت حال تنخواہ لینے والے باقی لوگوں کی بھی ہے، اب تو یہ نوبت آ گئی ہے کہ بنیادی ضروریات زندگی کی بنیادی اشیا خریدتے وقت بھی کئی بار سوچنا پڑتا ہے'۔

‎پاکستان میں حزبِ مخالف گذشتہ چند مہینوں سے مہنگائی کا شور بپا کیے ہوئے ہے جسے حسبِ روایت موجودہ حکومت سیاسی بیان بازی قرار دیتی رہی ہے۔

ڈالر کی قدر میں اضافے اور روپے کی قدر گرنے کی بدولت کئی اشیا مہنگی تو ہوئی ہیں تاہم وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی ریفارمز اور شماریات مخدوم خسرو بختیار نے چند روز قبل وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں اس تاثر کو رد کرتے ہوئے اسے حزبِ مخالف کا 'پراپیگنڈہ' قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

منی بجٹ: نو ماہ میں تین بجٹ کیوں؟

’بل زیادہ اور بجلی کم، ہر طرف ہے گیس بند‘

پاکستان میں لنڈا مجبوری، امیر ملکوں میں فیشن

پاکستان میں ’منی بجٹ‘، ترقیاتی اخراجات میں کمی

‎لیکن مقامی مارکیٹس میں عام صارف کے لیے گذشتہ ایک سال کے دوران کیا مہنگا ہوا ہے اور کیا سستا یہ جاننے کے لیے ہم نے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بازار میں بھی معلوم کیں اور سرکاری ادارے کے اعداد و شمار کا بھی تقابلی جائزہ بھی لیا۔

مختلف اشیا کا دسمبر 2017 سے دسمبر 2018 کے دوران قیمتوں کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے بیشتر کی اوسط قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ چند ایک پہلے کی نسبت کم قیمت پر بھی دستیاب ہیں۔

‎پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق دسمبر سنہ 2018 میں مہنگائی کی شرح 6.2 رہی جو اس سے پچھلے مہینے یعنی نومبر کی نسبت تو کم تھی تاہم دسمبر 2017 سے زیادہ ہے جو اس وقت 4.6 فیصد تھی۔

‎جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں مصالحہ جات سب سے پہلے آتے ہیں جو ایک برس پہلے کے مقابلے میں تقریبا 15 فیصد مہنگے فروخت کیے جا رہے ہیں۔

گوشت اور سگریٹ 13 فیصد، چائے 11 فیصد، پھل 10 فیصد جبکہ چاول اور مرغی کی قیمت میں تقریباً نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح ایک سال پہلے بعض اشیا کی قیمتیں موجودہ قیمتوں سے خاصی زیادہ تھیں مثلاً ٹماٹر ایک برس پہلے کی نسبت آج نصف قیمت پر دستیاب ہیں۔ اسی طرح پیاز 53 فیصد جبکہ آلو 36 فیصد سستے بِک رہے ہیں۔ تازہ سبزیاں بھی گذشتہ برس کی نسبت 27 فیصد کم قیمت پر مل رہی ہیں۔

‎یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مہنگائی میں اضافہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ہی نہیں ہوا بلکہ گذشتہ حکومت اور نگراں حکومت کے وقت بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق اس ایک سال کے دوران کئی بار ماہانہ مہنگائی کی شرح موجودہ حکومت کے مقابلے میں سابق حکومت کے وقت میں زیادہ تیزی سے بھی بڑھتی رہی ہے۔

‎دوسری جانب گیس کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، اب صارفیں کو گیس 83 فیصد زیادہ قیمت پر مل رہی ہے، اسی طرح پٹرول ایک سال پہلے 78 روپے فی لٹر تھا جس میں اب تقریباً 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 27 فیصد اور ایل پی جی سلینڈر تقریباً 1400 روپے سے بڑھ کر 1600 روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

‎اور تو اور کئی پابندیوں اور سینسر شپ حتی کہ بندش کی نہج تک پہنچنے والے اخبارات بھی مہنگے ہوئے ہیں۔ ایک اخبار کی قیمت میں تقریباً 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ موٹر فیول، کیروسین آئل میں 25 اور 22 فیصد جبکہ سفری سہولتیں استعمال کرنے والی عوام کو آمدورفت کے لیے 15 فیصد زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح گاڑی آج 12 مہینے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اور خواتین کے کاسمیٹکس اور لان کے کپڑے 12 فیصد مہنگے مل رہے ہیں۔

‎لیکن اعداد و شمار کے اس پورے گورکھ دھندے کے دوران ایک شہ مستقل ہے یعنی ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہ!

‎عمرانہ عامر کہتی ہیں 'اخراجات اوپر جا رہے ہیں اور تنخواہ وہیں کی وہیں رکی ہوئی ہے۔ عوام کو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں بے حد مشکل کا سامنا ہے'۔

اسی بارے میں