دباؤ یا کچھ اور؟ پشاور پریس کلب کا پی ٹی ایم کو سیمینار کی اجازت دینے سے انکار

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں قبائلی نوجوانوں کی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ ان کی تنظیم کو پشاور پریس کلب میں مقامی مسائل پر سیمنار منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم پریس کلب کی انتظامیہ نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ پی ٹی ایم کا سیمینار کسی دباؤ کے نتیجے میں منسوخ کیا گیا ہے۔

پشاور میں پی ٹی ایم کے ایک رہنما رحیم شاہ ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم کی طرف سے ایک ہفتہ قبل پریس کلب میں سیمینار کے انعقاد کے لیے بکنگ کی گئی تھی اور اس ضمن میں 15000 روپے پیشگی رقم جمع کرائی گئی تھی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز پریس کلب کی انتظامیہ کی طرف سے ان کو بذریعہ ٹیلی فون مطلع کیا گیا کہ چونکہ ان پر بعض لوگوں کی طرف سے دباؤ ہے لہذا ان کو کلب میں سیمینار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

رحیم شاہ ایڈووکیٹ کے مطابق یہ سیمینار خیبر ایجنسی کے قبائل کے مقامی مسائل سے متعلق ہے جس میں ان کے ٹرانسپورٹ اور آّڈوں کے معاملات قابل ذکر ہیں۔

پی ٹی ایم کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

کیا پی ٹی ایم کی میڈیا کوریج کرنا جرم ہے؟

پی ٹی ایم: مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

پی ٹی ایم کے گرفتار کارکنوں کی ضمانت منظور

منظور پشتین کے ساتھ تصویر بنوانا غیر قانونی؟

انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صحافیوں کے ایک ایسے ادارے نے سیمینار کے انعقاد سے انکار کیا جس کا مقصد ہی عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا مزید کہنا تھا کہ کلب کی جانب سے انکار کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ یہ سیمینار اب پریس کلب کے باہر سڑک پر منعقد کیا جائے گا اور جس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

دوسری طرف پشاور پریس کلب کی انتظامیہ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ پی ٹی ایم کا سیمینار کسی دباؤ کے نتیجے میں منسوخ کیا گیا ہے۔

پریس کلب کے صدر سید بخار شاہ نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو واضح طورپر بتایا گیا تھا کہ چونکہ کلب میں تعیمراتی کام ہو رہا ہے لہذا ایسی صورت یہ ممکن نہیں ہو گا اور نہ ان کے پاس اتنے سارے افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کلب کے عہدیدار بھی پی ٹی ایم کو سیمینار کی اجازت دینے پر منقسم تھے لہذا مصلحت اسی میں جانی گئی کہ ان کو معذرت کی جائے۔

دریں اثنا پشتون تحفظ موومنٹ نے اپنے ایک سرگرم رہنما عالم زیب محسود کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمے کے اندراج کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

پی ٹی ایم ذرائع کے مطابق یہ احتجاج بدھ کو ملک کے مختلف شہروں کے پریس کلبوں اور عوامی مقامات پر کیا جا رہا ہے جس میں عالم زیب محسود کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی پولیس نے عالم زیب خان محسود کو چہرے پر کپڑا باندھ کر، سنگین جرم کے مرتکب الزام میں پیش کیے جانے والے ملزم کی طرح انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تھا

خیال رہے کہ عالم زیب محسود کو منگل کو کراچی میں گرفتاری کے بعد مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

کراچی پولیس نے عالم زیب خان محسود کو چہرے پر کپڑا باندھ کر، سنگین جرم کے مرتکب الزام میں پیش کیے جانے والے ملزم کی طرح انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تھا۔

یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے شہر کی پشتون آبادی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا تھا جس کے بعد عالم زیب اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں آئی۔

اسی بارے میں