’ برطانوی بچے میٹھے مشروبات سے منہ موڑ رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں بچے میٹھے مشروبات سے منہ موڑ رہے ہیں اور ایسے مشروبات پینے والوں کی تعداد میں گذشتہ نو برسوں میں ایک تہائی کمی آئی ہے۔

بچوں کی نصف تعداد نے ان مشروبات کو پینا چھوڑ دیا ہے جبکہ آج جتنے بچے اسے پی رہے ہیں وہ سنہ 2008-09 کے بچوں کے مقابلے کم مقدار میں پی رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا میٹھی چیزیں واقعی آپ کے لیے نقصان دہ ہیں؟

پیپسی اور کوکا کولا نہیں صرف ناریل کا پانی

انرجی ڈرنکس بچوں کے لیے کتنے خطرناک؟

اس تبدیلی کا اثر مجموی طور پر چینی کے استعمال میں کمی کا سبب بنا ہے۔

تاہم برطانیہ میں قومی سطح پر خوراک کے جائزے ’نیشنل ڈائٹ اور نیوٹریشن سروے‘ کے نو سالہ تجزیے کے مطابق ہر عمر کے افراد اب بھی تجویز کردہ حد سے زیادہ شکر استعمال کر رہے ہیں۔

فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی اور پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی رپورٹ کے مطابق بہت سے دیگر پیمانوں پر پرکھا جائے تو غذا میں بہتری نہیں آئی ہے۔

پھلوں اور سبزیوں کے استعمال میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے اور اب بھی لوگ دن میں پانچ بار ایسی چیزیں کھانے کی تجویز پر عمل پیرا نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'فائو اے ڈے' میں پانچ اقسام کی پھل اور سبزیوں کا انتخاب قابل عمل سمجھ کر کیا گیا ہے۔

فائبر کا استعمال تھوڑا کم ہوا ہے جبکہ وٹامن اور معدنیات کے استعمال میں بھی کمی آئی ہے۔

اس کے علاوہ چکناہٹ والی مچھلی کے استعمال میں بھی معمولی سی تبدیلی آئی ہے۔

بریٹی ڈائٹک ایسوسی ایشن کی ایمر ڈیلینی نے کہا کہ وہ اب تک کی پیش رفت سے خوش ہیں۔

البتہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھانے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔

فروزن اور ٹِن میں موجود پھل اور سبزیاں اتنی ہی مفید ہوتی ہیں اور لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کہ وہ اس قسم کے پھلوں اور تازہ کھانوں کا استعمال زیادہ کریں۔

کیا یہ فِزی مشروبات کی موت ہے؟

جہاں تک گیس والے مشروبات وغیرہ کا تعلق ہے، ہمیں اب بھی ایک طویل راستہ طے کرنا ہے لیکن سروے کے مطابق غور کرنے والی پہلی چیز ’کنزیومر` کی اصطلاح کی تعریف ہے۔

انھوں نے لوگوں سے چار دنوں تک ڈائری میں فِزی مشروبات کے استعمال کا ریکارڈ رکھنے کو کہا اور اس دوران جس نے بھی ان کا استعمال نہ کیا اس کا شمار ’نان کنزیومر‘ کے طور پر ہوا۔

اُس تناظر میں حالیہ سروے کے مطابق بچوں کی نصف تعداد نے ان کا استعمال کیا۔

استعمال میں کمی کی خبر صحت کے ماہرین کے لیے بہت خوش آئند ہے جو گذشتہ ایک دہائی سے عوام کو اس کے خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔

اس سروے کے آنے کے بعد برطانیہ میں میٹھے مشروبات پر ٹیکس سنہ 2018 میں لاگو ہو گیا تھا لیکن اس قانون میں تبدیلی کی وجہ چینی کی مقدار سے متعلق ایک عرصے سے چلنے والی بحث تھی۔

کولا کا ایک کین چینی کی تجویز کردہ دن بھر کی مقدار کی حد کو پار کرتا ہے۔

چینی کی مقدار کا چارٹ

پھلوں اور سبزیوں کے متعلق کیا خیال ہے؟

'فائیو اے ڈے' یا ’دن میں پانچ‘ والا پیغام ایک عرصے سے دیا جا رہا ہے اور اس حکومتی مہم کا آغاز سنہ 2003 میں ہوا تھا۔

مگر اس کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔

65 سال سے کم عمر کے افراد اوسطاً دن میں چار پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں، جبکہ اس سے بڑی عمر کے لوگ اور بچے اس سے بھی کم۔

دن میں پانچ والی مہم عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ ہے جو کم سے کم 400 گرام پھل اور سبزیاں دن میں استعمال کرنے کا کہتی ہے جس سے سنگین صحت کے مسائل سے بچا جاسکتا ہے جیسے کہ دل کا مرض اور مختلف اقسام کے سرطان۔

'فائیو اے ڈے' میں پانچ اقسام کے پھل اور سبزیوں کا انتخاب قابل عمل سمجھ کر کیا گیا۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ دن میں دو بار پھل اور سبزیاں کھانے سے ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں