ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلہ: ’سی ٹی ڈی پنجاب کی کارروائی ناقص منصوبہ بندی کے تحت کی گئی‘

پنجاب پولیس سی ٹی ڈی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال کی حدود میں کاؤنٹرٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) کے اہلکاروں کے ہاتھوں چار افراد کی ہلاکت کیسے ہوئی، اس کے گرد کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔

تاہم حکومتِ پنجاب اب تک دو غلطیوں کا اعتراف کر چکی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں شامل ایک ہی خاندان کی خاتون اور بچی سمیت ’تین افراد ‘ بے گناہ تھے اور محکمۂ داخلہ پنجاب کے ایک سینیئر افسر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’سی ٹی ڈی پنجاب کی یہ کارروائی ناقص منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔‘

انھوں نے یہ بات بدھ کو لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے منعقد کی گئی اِن کیمرہ بریفنگ میں کہی۔

ان کا اصرار ہے ’آپریشن انٹیلیجینس ایجنسیوں کی مصدقہ اطلاع پر کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ گاڑی میں خطرناک دہشت گردوں کے ساتھی سفر کر رہے تھے۔‘

ان کیمرہ دی گئی اس بریفنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساہیوال آپریشن سے قبل سی ٹی ڈی پنجاب کے اہلکاروں کو علم ہی نہیں تھا کہ گاڑی میں کتنے افراد تھے اور ان میں کتنے یا کون مبینہ طور پر دہشت گردوں کا ساتھی تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیوں بنایا گیا؟

ساہیوال: سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ

’اگر گاڑی روک کر مارا ہے تو کوئی معافی نہیں‘

ساہیوال واقعے میں ہلاک ہونے والا ذیشان کون ہے؟

سچ کا انکاؤنٹر تو بہت پہلے ہو چکا

محکمۂ داخلہ کے افسر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے صرف ایک گاڑی چلانے والا ذیشان جاوید نامی شخص ’داعش سے تعلق رکھنے والے گروہ کا ساتھی پایا گیا‘ تاہم ان کی مہیا کردہ معلومات کے مطابق اس بات کی تصدیق واقعہ میں ذیشان کے مرنے کے بعد کی گئی۔

اس سے قبل مرنے والے ذیشان نامی شخص کا کوئی کرمنل ریکارڈ موجود نہیں تھا یعنی سی ٹی ڈی پنجاب کے ساہیوال ریجن کے اہلکاروں نے بنیادی طور پر محض گاڑی کو نشانہ بنایا۔ ان کو نہیں معلوم تھا کہ گاڑی کے اندر موجود افراد میں کون مبینہ دہشت گرد تھا۔؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کیمرہ بریفنگ کا مقصد چند حساس نوعیت کی ’معلومات‘ کے ذریعے میڈیا کو یہ بتانا تھا کہ کس طرح آپریشن میں نشانہ بنائے جانے والی گاڑی دہشت گردوں کے استعمال میں تھی اور ذیشان دہشت گردوں کا ساتھی تھا۔

محکمہ داخلہ نے ذیشان کے بارے میں کیا بتایا؟

سی ٹی ڈی پنجاب کی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے محکمۂ داخلہ پنجاب کے افسر کا کہنا تھا کہ لاہور کے علاقے چنگی امر سدھو کے رہائشی ذیشان جاوید کا مبینہ طور پر ’داعش کے ایک انتہائی خطرناک گروہ کے سرغنہ عدیل حفیظ نامی شخص سے براہِ راست رابطہ تھا۔‘

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس تعلق کا علم پہلی بار عدیل حفیظ کے مارے جانے کے بعد اس کے موبائل فون سے ملنے والی معلومات سے ہوا تاہم اس کی تصدیق ذیشان کے مرنے کے بعد ان کے فون سے ملنے والی معلومات کے بعد ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عدیل حفیظ کو سی ٹی ڈی پنجاب نے سانحہ ساہیوال سے چند روز قبل ایک آپریشن کے دوران فیصل آباد میں ہلاک کیا۔ ان کے فون سے جو معلومات ملیں ان میں ان کی ذیشان سے خط و کتابت بھی شامل تھی۔

یہ خط و کتابت ’تھریما‘ نام کی ایک ایپلیکیشن کے ذریعے کی جاتی تھی۔ اس موبائل ایپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس پر ہونے والی بات چیت محفوظ ہوتی ہے۔

محکمۂ داخلہ کی جانب سے دکھائی جانے والی تصاویر کے مطابق یہ بات چیت صوتی اور تحریری پیغامات کے ذریعے ہوتی تھی۔

عدیل حفیظ کی موبائل سم کی مدد سے ان کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ وہ چونگی امر سدھو کے اسی علاقے میں کئی روز تک موجود رہے جہاں ذیشان جاوید کی رہائش تھی۔

محکمۂ داخلہ کے افسر کے مطابق ’عدیل حفیظ اور ان کے گروہ کے زیرِ استعمال سلور رنگ کی ایک ہنڈا سٹی گاڑی کو سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے گذشتہ تاریخوں میں لاہور میں دیکھا گیا اور ہر جگہ اس کی رہنمائی ایک سفید رنگ کی سوزوکی آلٹو کرتی تھی۔‘

’اس آلٹو گاڑی کی نگرانی شروع کی گئی جو ذیشان جاوید کے گھر کے باہر کھڑی پائی گئی۔ یہ وہی گاڑی تھی جو سانحۂ ساہیوال میں نشانہ بنی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ گاڑی عدیل حفیظ نے چند ماہ قبل خریدی تھی جو ذیشان جاوید کے استعمال میں تھی۔ ‘

ذیشان جاوید کے موبائل فون سے ایک سیلفی ملی تھی جو عدیل حفیظ کے ساتھی عثمان کے ساتھ لی گئی تھی۔ واضح رہے کہ عثمان سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث تھا۔

عدیل حفیظ کون تھا؟

محکمۂ داخلہ کے افسر کے مطابق ’عدیل حفیظ پنجاب میں داعش کا سرغنہ تھا۔ یہ گروہ علی حیدر گیلانی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس اہلکاروں کے اغوا اور قتل میں ملوث رہا تھا۔ یہ گروہ پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔‘

عدیل حفیظ کے مارے جانے کے بعد ان کے ساتھی ان کی موت کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ افسر کے مطابق ’افغانستان سے آنے والی ایک خط و کتابت انٹیلیجینس ایجنسیوں نے پکڑی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس مقصد کے لے خود کش جیکٹس اور دہشت گرد لاہور پہنچائے جا چکے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ان میں سے دو دہشت گرد مبینہ طور پر وہاں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں ذیشان جاوید رہائش پذیر تھا۔ تاہم ساہیوال والا سانحہ ہونے کے بعد انھوں نے جگہ بدل لی۔ ان کی نگرانی جاری رکھی گئی۔ یہ وہی دو دہشت گرد تھے جنھوں نے مبینہ طور اسی رات گوجرانوالہ میں سی ٹی ڈی کے ایک آپریشن کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

بہت سے سوال اب بھی جواب طلب

تاہم اس حوالے سے ابہام اب بھی باقی ہے کہ اس قدر معلومات مل جانے کے بعد ذیشان جاوید کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ خلیل اور ان کا خاندان ذیشان کے ساتھ کیوں اور کیسے گاڑی میں سوار ہوا؟

اس بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلوم کیوں نہیں ہو سکا؟ بچوں اور خواتین کو دیکھ لیے جانے کے باوجود گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کیوں اور کس کے حکم پر کی گئی؟

گولی چلانے سے پہلے اس بات کی تصدیق کیوں نہیں کی گئی کہ کون دہشت گرد تھا؟ بچوں اور خواتین کی موجودگی کا علم ہونے پر آپریشن روکا یا معطل کیوں نہیں گیا؟

محکمۂ داخلہ کے افسر کے مطابق اس نوعیت کے مذید سوالات کے جوابات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا انتظار کرنا ہو گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’آپریشن کی منصوبہ بندی ناقص تھی جس کے نتیجے میں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں