خیبر پختونخوا کے جامعہ عثمانیہ میں پہلی بار آرٹ اور فوڈ فیسٹول کا انعقاد

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
خیبر پختونخوا کے مدرسے میں آرٹ اور فوڈ فیسٹول

کسی دینی مدرسے کے احاطے میں سٹیج ڈرامے کا اہتمام ہو، جہاں مزاحیہ شعر و شاعری اور ہلکا پھلکا مزاح بھی ہو اور طلبہ سٹیج پر پشتونوں کے بعض تاریخی اور مشہور روایات کا مظاہرہ بھی پیش کریں، لیکن وہاں کسی ساز کی آواز سنائی نہ دے۔

شاید اپ کو یقین نہ آئے، لیکن یہ منظر خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے دینی مدرسے جامعہ عثمانیہ کا ہے، جہاں حال ہی میں پہلی مرتبہ طلبہ کے لیے آرٹ اور فوڈ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔

اس فیسٹول میں دینی مدارس کے طلبہ کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جامعہ عثمانیہ پبی، نوشہرہ کیمپس میں منعقدہ اس دو روزہ نمائش میں مختلف علاقوں کے 17 کے قریب سٹالز لگائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اکثر والدین کی بچوں کو مدارس بھیجنے کی وجہ مذہب

لمبی داڑھی اور کرکٹ یونیفارم میں مدارس کے طلبا

نوشہرہ کے مدرسے کا 'قرآن باغ'

ہر سٹال میں مذکورہ ضلع یا علاقے کی کوئی تاریخی عمارات، وہاں کی ثقافت، لباس اور طور طریقوں کی عکاسی ایسے انداز میں کی گئی کہ ایک نظر دیکھتے ہی معلوم ہو جاتا کہ اس علاقے کا کلچر کیا ہے۔

ہر سٹال میں ایک یا دو طلبہ گائیڈ کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتے نظر آئے اور ہر آنے والے مہمان کو پورے سٹال کا دورہ کرانے کے ساتھ ساتھ انھیں وہاں رکھے گئے مختلف تاریخی ماڈلز، دینی کتب، مقامی ثقافت اور طلبہ کی جانب سے سجائے گئی چیزوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے رہے۔

نمائش میں طلبہ کی جانب سے مقامی کھیلوں کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا جس میں ’مخہ‘ اور ’رسہ کشی‘ قابل ذکر ہیں۔ ان سٹالوں میں قدیم دور میں استعمال ہونے والا پرانا اسلحہ اور ہتھیاروں کے نمونے بھی دکھائی دیے جس میں حاضرین نے دلچپسی ظاہر کی۔

تاہم فیسٹول میں موجود مہمند اور باجوڑ کا سٹال خاص طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ یہاں طلبہ نے پشتون معاشرے کی ایک مستند روایت، حجرے کی محفل بنا رکھی تھی۔

طلبہ نے حجرے میں چارپائیاں رکھی ہوئیں تھی جہاں ایک طالب علم پشتون ملک کا روپ دھار کر وہاں کے لوگوں کے مسائل سنتا اور پھر باری باری گاؤں کے دیگر معاملات پر بحث کی جاتی۔ اس دوران محفل میں مزاحیہ خاکے بھی پیش کیے جاتے رہے جس سے محفل میں دلچپسی برقرار رہتی۔

فسیٹول میں مختلف علاقوں کی مشہور سوغات، خشک میوجات، ثقافتی ملبوسات اور قدیم زمانے میں بادشاہوں کے زیر استعمال رہنے والے نادر اشیا بھی نظرآئیں۔

فیسٹول میں موجود جامعہ عثمانیہ کے سربراہ اور عالم دین مفتی غلام الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ’کسی دینی مدرسے کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے جس کا بنیادی مقصد طلبہ کو عصری تقاضوں کا ادارک کرانا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جس رفتار سے دنیا ترقی کر رہی ہے، اس سے انھیں یہ فکر لاحق ہو رہی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مدرسوں کے طلبہ عملی میدان میں دیگر لوگوں سے پیچھے رہ جائیں۔

'دنیا آج گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے اور ہماری بھی یہی سوچ ہے کہ ہمارے طلبہ بھی ان تقاضوں کا ادراک کریں اور جب تک ایک عالم دین اور فاضل اپنے معاشرے کے احساسات کا ادارک نہ کر سکے وہ معاشرے کی بہتر خدمت نہیں کرسکتا ہے۔‘

نمائش کے اختتام پر جرگے کے موضوع پر ایک سٹیج ڈرامے بھی پیش کیا گیا، جس میں طلبہ کی جانب سے مزاحیہ اور اصلاح پر مبنی خاکے پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ بعض طلبہ کی جانب سے مزاحیہ شعر و شاعری بھی کی گئی جسے حاضرین نے بہت سراہا۔

جامعہ عثمانیہ کے میڈیا انچارج مفتی سراج حسن نے کہا ’فیسٹول کے دوران طلبہ کے شعر و شاعری کے شوق کو دیکھتے ہوئے جامعہ نے ایک ادبی سوسائٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ اگلے سال اس طرح کے پروگراموں میں مشاعرے کا اہتمام بھی کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو ان کی صلاحیتوں کا بہتر انداز میں اظہار کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

اس دو روزہ نمائش میں دینی مدارس کے طلباء کے لیے وہ تمام تر سرگرمیاں موجود رہیں جو کسی یونیورسٹی یا کالج کے پرگراموں میں ہوتے ہیں، سوائے ساز اور موسیقی کے۔

جب ایک طالب علم ضماد احمد سے پوچھا کہ اس فیسٹول میں موسیقی کی آواز کیوں سنائی نہیں دی تو اس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ موسیقی اسلام کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور شاید یہاں اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں