بسنت کی راہ میں واحد رکاوٹ لاہور کے موٹر سائیکل سوار

بسنت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کا صوبہ پنجاب رواں برس بھی بسنت نہیں منا رہا ہے، یعنی اس بار بھی پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہو گی۔

حکومتِ پنجاب نے اپنے اس فیصلے سے لاہور ہائی کورٹ کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایک درخواست گزار نے عدالت سے حکومت کو بسنت منانے سے روکنے کی استدعا کی تھی۔

بسنت نہ منانے کا فیصلہ صوبہ پنجاب کے سینیئر وزیر عبدالعلیم خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات پر کیا گیا۔

کمیٹی کے خیال میں پتنگ بازی کے دوران انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے، ان کے لیے چھ ماہ تک کا عرصہ درکار ہو گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیا پنجاب میں اگلے سال بسنت منائی جائے گی؟

فروری میں لاہورمیں بسنت منائے جانے کا امکان

بسنت پالا اڑنت!

پنجاب حکومت نے گذشتہ برس کے آخر میں بسنت منانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ کمیٹی قائم کی تھی اور اس سے سفارشات طلب کیں تھیں۔ ماضی میں بھی اس مسئلے پر ایسی کمیٹیاں بنتی رہیں تاہم ان کا فیصلہ بھی ’نفی‘ ہی میں رہا ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ آخر بسنت منانے میں رکاوٹ کیا ہے؟ پتنگ بازی کی صنعت سے منسلک افراد، پولیس اور انتظامیہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ رکاوٹ ’موٹر سائیکل‘ ہے۔

مگر کیسے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پنجاب پولیس کے سابق انسپیکٹر جنرل مشتاق سکھیرا نے بی بی سی کو بتایا ’ایسا ممکن نہیں ہے کہ یہ چیک کیا جا سکے کہ کون دھاتی ڈور استعمال کر رہا ہے اور کون عام ڈور سے پتنگ اڑا رہا ہے۔ یہ دھاتی ڈور موٹر سائیکل سوار پر تلوار کی طرح کام کرتی ہے۔ گلے پر پھرنے سے موت واقع ہو سکتی ہے۔ ایسے واقعات میں بڑی تعداد میں اموات کے بعد حکومت کو پتنگ بازی پر پابندی عائد کرنا پڑی تھی۔‘

مشتاق سکھیرا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ دھاتی ڈور سے موٹر سائیکل سوار سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بسنت کے حوالے سے سفارشات دینے والی کمیٹیوں میں شامل پولیس کا محکمہ بسنت سے پابندی اٹھانے کا سب سے بڑا مخالف رہا ہے۔

مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں ایسی کوئی کمیٹی نہیں بنی، تاہم ’اگر کوئی پولیس سے یہ کہے کہ وہ 100 فیصد گارنٹی دے سکتا ہے کہ بسنت کے تہوار میں کوئی حادثہ نہیں ہو گا تو ایسا ممکن نہیں، ایسی گارنٹی کوئی بھی نہیں دے سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

موٹر سائیکل میں ڈور الجھنے کے کتنے امکانات؟

ڈسٹرکٹ کائٹ فلائینگ ایسوس ایشن لاہور کے صدر شیخ محمد شکیل حکومتِ پنجاب کے بسنت نہ منانے کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں بھی مسئلہ موٹر سائیکل کا ہے، تاہم ان کی منطق یہ ہے کہ ’دو دن کے لیے موٹر سائیکل کو روکا بھی تو جا سکتا ہے؟‘

لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ لاہور میں کتنے افراد موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر لاہور عدیل امجد کے مطابق لاہور میں تقریباً 50 لاکھ کے قریب موٹر سائیکل رجسرڈ ہیں۔ ’سالانہ اڑھائی سے تین لاکھ موٹر سائیکل رجسٹر ہوتے ہیں۔‘

اتنی بڑی تعداد میں موٹر سائیکلوں کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہو سکتا اور اگر وہ رکتے نہیں، تو اتنی بڑی تعداد کے ڈور سے الجھنے کے امکانات انتہائی زیادہ ہوں گے۔

تو کیا بسنت کبھی منائی جا سکے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سینئیر وزیر عبدالعلیم خان نے کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا تھا کہ ’اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو ایسی مثبت سرگرمیوں کا انعقاد ہو سکتا ہے۔‘

سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا ان کی تجویز کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ ’ہر موٹر سائیکل پر ایک انٹینا نصب کرنے کو لازمی بنائے جائے۔ یہ انٹینا ڈور کو موڑ دیتا ہے۔ ساتھ ہی ہیلمٹ اور موٹر سائیکل کے سامنے سکرین لگانا بھی لازمی ہونا چاہیے۔‘

ایسے اقدامات سے ڈور سے موٹر سائیکل سواروں کو پیش آنے والے حادثات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ مشتاق سکھیرا کا ماننا ہے کہ حادثات کی دیگر وجوہات پر قابو پانا ممکن ہے جیسا کہ ہوائی فائرنگ۔

’ہوائی فائرنگ کا ایک زمانے میں رجحان آیا تھا تاہم اس پر قابو پا لیا گیا۔ اس کے علاوہ پیدل چلنے والے بھی آرام سے ڈور کو دیکھ سکتے اور اس سے بچ سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کسی بھی تہوار میں حادثات کو 100 فیصد روکنا ممکن نہیں ہوتا تاہم ایسے حفاظتی اقدامات سے ان کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

سینئیر وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کے لیے چار سے چھ ماہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ’اگر تمام ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے یہ اقدامات کر لیں تو آئندہ برس بسنت منائی جا سکتی ہے۔‘

حکومت کے پاس تجاویز

سابق آئی جی مشاق سکھیرا کا ماننا ہے کہ اگر حکومت آئندہ برس بسنت منانے کا ارادہ رکھتی ہے تو ’موٹر سائیکل پر انٹینا نصب کروانے جیسے اقدامات کا آغاز آج ہی سے کرنا ہو گا۔‘

سینئیر وزیر عبدالعلیم خان کے ترجمان گوہر عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈور اور اس سے موٹر سائیکل سواروں کو در پیش خطرات بسنت نہ منانے کی بڑی وجوہات میں سرِ فہرست ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مختلف تجاویز ہیں جن پر عمل کیا جائے گا۔

اپنے بیان میں سینئیر وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ڈور اور پتنگ کی تیاری کا نظام رجسٹرڈ ہونا چاہیے۔

’دھاتی تار کے استعمال اور مروجہ قوانین کی خلاف ورزی پر فوری اور سخت کاروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر دیگر معاملات کو دائرے میں لانے کے لیے مزید قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے۔‘

یاد رہے کہ پنجاب میں سنہ 2009 میں پتنگ بازی کی ممانعت کا قانون منظور کیا گیا تھا جس کے مطابق پتنگ اڑانے اور پتنگ اور اس کو اڑانے کے لیے ڈور اور اس پر لگانے والا کانچ کا مانجھا بنانے اور بیچنے پر پابندی ہے۔

تاہم اس قانون کے مطابق ضلعی ناظم حکومتِ پنجاب کی پیشگی اجازت کے ساتھ بہار کے موسم میں 15 دن کے لیے پتنگ فروشی اور پتنگ بازی کی اجازت دے سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں