ساہیوال واقعے میں ہلاک ہونے والی کمسن اریبہ ’لائق طالبہ اور بہترین نعت خوان تھیں‘

ایوارڈ تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Jalil
Image caption اریبہ اپنے سکول کی ذہین ترین لڑکیوں میں سے تھیں

صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے خلیل، ان کی بیوی اور 13 سالہ بیٹی اریبہ خلیل کو حکومت نے تحقیقات کے بعد بے گناہ قرار دیا ہے۔

اس واقعہ میں ہلاک ہونے والی کمسن اریبہ کے بارے میں ان کے خاندان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایک لائق طالبہ تھیں اور ایک بہترین نعت خوان بھی جس نے چھٹی جماعت میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

اریبہ کی چچی صادقہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ شادی کے بعد اپنے سسرال آئیں تو اس وقت اربیہ پانچ سال کی ’بہت پیاری بچی تھی۔‘ وہ گھر کی پہلی اور بڑی بچی ہونے کی وجہ سے بہت لاڈلی بھی تھی، ہر کوئی اس کے ناز نخرے اٹھاتا اور اس پر جان نچھاور کرتا تھا، ’میں آپ کو کیا بتاؤں کہ اس کو کتنا پیار ملا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بچپن سے ہی وہ انتہائی خوش مزاج اور ہمیشہ مسکراتی رہتی تھی۔

مزید پڑھیے

’بار بار مت پوچھیں کہ بیٹا بتاؤ کیا ہوا تھا!‘

ساہیوال واقعے میں ہلاک ہونے والا ذیشان کون ہے؟

’سی ٹی ڈی کو معلوم نہیں تھا گاڑی میں دہشت گرد کون ہے‘

’وہ مجھ سے بہت مانوس تھی اور میرے ساتھ اس کا بہت پیار تھا۔ وہ اکثر ہمارے کمرے میں آ کر بیٹھتی اور بہت پیاری پیاری باتیں کرتی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اریبہ اپنے چچاذاد بہن اور بھائی کا خیال رکھتی، اکثر ایسا ہوتا کہ اگر ہمیں کہیں جانا پڑتا تو اریبہ سے کہتے تھے کہ وہ بچوں کو سنبھال لے اور تھوڑا گھر کا کام دیکھ لے اور وہ یہ سب خوشی خوشی کر لیتی تھی۔‘

Image caption اریبہ کا جیومیٹری باکس

’اپنے کسی چچا اور چچی کی معمولی سے تکلیف پر تڑپ اٹھتی، جب اس کے چچا رات گئے گھر آتے تو وہ ان سے کھانے کا پوچھتی اور ان کی خدمت کرکے خوشی محسوس کرتی تھی۔‘

صادقہ کا کہنا تھا کہ اریبہ میں کچھ بننے کی لگن تھی اوراس کے والدین کا بھی اس کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا خواب تھا۔ اربیہ کو نہ صرف خود ڈاکٹر بننے کا شوق تھا بلکہ اس کی والدہ کو تو اریبہ کو ڈاکٹر بنانے کا جنون تھا۔

انھوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا ’اب بتائیے نا کہ اربیہ اور اس کےوالدین کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوا وہ اس کے حق دار تھے؟ وہ تو شادی کی خوشیاں منانے گئے تھے اور اریبہ تو گذشتہ ماہ سے شادی کی تیاریاں کررہی تھی ۔ اربیہ کی والدہ نےاس کی خواہش کے مطابق اریبہ کی پسند کے کپڑے دلائے تھے۔`

’جس وقت وہ شادی پر جارہی تھی بہت خوش تھی اور گھر سے جاتے وقت اس نے پرانے کپڑے پہنے تاکہ نئے کپڑے شادی پر پہن سکے۔ مگر اس کو کپڑے پہنے کا موقع کیا ملتا پولیس تو اس کا اٹیچی بھی ساتھ لے گئی۔`

Image caption البراق پبلک سکول کے اساتذہ بھی اپنی ذہین شاگرد کے دنیا سے چلے جانے پر بہت غم زدہ ہیں

انھوں نے الزام لگایا کہ ’میں نے خود دیکھا تھا کہ اس کے کانوں سے بالیاں بھی کھینچی گئیں تھیں۔ میں نے ننھی اریبہ کے ساتھ کتنا ظلم دیکھا یہ میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی ہوں میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں۔`

انھوں نے مزید کہا کہ ’اریبہ نے شادی پر جاتے ہوئے خصوصی طور پر مجھ سے ملاقات کی اور میری بیٹی مناہل کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا بلکہ اریبہ کی والدہ نے بھی مجھ سے اریبہ کی خواہش پوری کرنے کی درخواست کی لیکن میں نے کہا کہ آپ جائیں ہم بعد میں آئیں گے جس پر اریبہ مسکراتے ہوئے رخصت ہوئی اور میں اس کا مسکراتا چہرہ کبھی نہیں بھول سکتی۔`

اریبہ کی خالہ زاد بہن سعدیہ جو گیارہویں جماعت کی طالبہ ہیں کا کہنا تھا کہ اریبہ اس کی بہترین دوست تھی اور اریبہ کو دنیا میں کچھ کرنے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا۔

یہ بھی پڑھئیے!

’سی ٹی ڈی کو معلوم نہیں تھا گاڑی میں دہشت گرد کون ہے‘

ساہیوال: سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ

ساہیوال واقعے میں ہلاک ہونے والا ذیشان کون ہے؟

سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیوں بنایا گیا؟

ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلہ: پانچ بڑے سوالات

Image caption اریبہ کی خالہ زاد بہن سعدیہ گیارہویں جماعت کی طالبہ ہیں

’چھٹی کلاس میں اس نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور نتیجے والے دن وہ مجھے بھی سکول ساتھ لیکر گئی تھی جب نتیجہ کا اعلان ہوا تو وہ زارو قطار رونے لگی اور میرے گلے لگ کر کہا دیکھیں آپی جان آپ نے مجھے جو سوالات کروائے تھے وہ ہی امتحان میں آئے اور میں نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔`

سعدیہ نے مزید بتایا کہ شادی پر جانے سے پہلے وہ میرے گھر آئی اورمجھ سے کہا کہ ابھی تو وہ شادی پر جارہی ہے مگر جب وہ واپس لوٹے گی تو مجھے اس کو ساتویں جماعت کے امتحان کی تیاری کروانی ہے مگر افسوس ایسا نہ ہو پائے گا۔

اربیہ خلیل اپنے علاقے کے البراق پبلک سکول میں زیرِ تعلیم تھیں۔ ان کی کلاس میں اس کی تمام ہم جماعت طالبات حاضر تھیں۔ کلاس میں عموماً ایک بینچ پر تین طالبات بیٹھتی ییں مگر ایک بینچ پر بیٹھی دو طالبات سے جب پوچھا گیا کہ ان کی تیسری ساتھی کہاں ہے تو اریبہ کی ساتھی طالبہ رومیسا نے بے ساختہ کہا کہ ’اریبہ اب اس دنیا میں نہیں رہی ہے۔`

رومیسا کا کہنا تھا کہ اربیہ بہت ہی اچھی تھی، گھر سے لایا ہوا لنچ بھی ہمارے ساتھ شیئر کرتی تھی۔ اگر دوستوں میں سے کوئی ناراض ہوجاتا تو وہ خود ان سے 'سوری ' کرلیتی تھی۔

البراق پبلک سکول کے اُساتذہ بھی اپنی ذہین شاگرد کے دنیا سے چلے جانے پر بہت غم زدہ تھے۔ سکول کی استاد فضیلہ بیگم کہتی ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی اریبہ سے آخری ملاقات کو نہیں بھول پائیں گئیں۔

اریبہ کی استاد فضیلہ بیگم نے بتایا کہ ’سکول کے ایک فنکشن کی تیاری کے لیے ٹیبلو کی ریہرسل کرنی تھی۔ مگرریہرسل والے دن اریبہ نے شادی میں شرکت کے لیے جانا تھا ۔ وہ شادی میں شرکت کے لیے خوش بھی تھی اور ٹیبلو ریہرسل میں شریک نہ ہونے پر پریشان بھی۔

جب اس نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو میں نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اطمینان سے شادی میں شرکت کرے، واپس آکر سالانہ امتحان دے جس کے بعد میں اس کو خصوصی طور پر ریہرسل کروا دوں گی۔ میں اب بھی انتظار میں ہوں کہ اریبہ آئے امتحان دے اور میں اس کو.ڈرامے کی ریہرسل کرواؤں۔‘

Image caption اریبہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اور وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں

اریبہ نے اپنے استاد شاہد علی سے دو سال تک کپمیوٹر اور حساب پڑھا تھا۔ شاہد علی نے اریبہ کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر وہ زندہ ہوتی تو ایک شاندار مستقبل اس کا انتظار کررہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے چھٹی جماعت سے اریبہ کو پڑھا رہا ہوں اور وہ انتہائی ہونہار طالبہ تھی۔ ساتویں کلاس کی فرسٹ ٹرم میں اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ فرسٹ ٹرم میں جو کم نمبر آئے ہیں وہ اس کو بہتر بنائے گی اور وہ واقعی ان میں بہتری لائی تھی۔ جس پر مجھے اس پر فخرہے۔‘

اس کے بعد اس نے پھر مجھ سے ایک اور وعدہ کیا کہ میں فائنل ٹرم کے امتحانات میں اور بہتر کارگردگی دکھاؤں گی اور چھٹی کلاس کی طرح پہلی پوزیشن حاصل کروں گی۔ مگر اس کو یہ امتحان دینے کا موقع نہیں ملا۔`

انھوں نے مزید بتایا کہ نہ صرف انھیں بلکہ پورے سکول کو اس کی کمی بہت شدت سے محسوس ہو رہی ہے اور بروز بدھ سکول میں فائنل ٹرم کے امتحانات شروع ہوچکے ہیں اگر وہ آج زندہ ہوتی تو وہ اپنا وعدہ پورا کرتی۔

اسی بارے میں