پی آئی اے: چوری اور منشیات کے الزامات پر سینکڑوں ملازمین برخاست

پی آئی اے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ چند سالوں کے دوران پی آئی اے سے کم از کم پانچ سو قریب ملازمین کو جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر فارغ کیا جا چکا ہے

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے نے مختلف وجوہات کی بنا پر اب تک 450 ملازمین کو نکالا ہے جن میں جعلی ڈگریوں والے اہلکاروں سے لے کر چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے ملازمین بھی شامل ہیں۔

پی آئی اے کی جانب سے فراہم کی جانے تفصیلات کے مطابق پی آئی اے نے چالیس بیگج ہینڈلرز کو مشتبہ سرگرمیوں، بغیر اجازت غیر حاضری، چوری کرنے اور منشیات کے الزامات کے تحت ملازمت سے برخاست کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی آئی اے کے آڈٹ میں سات ارب روپے غائب ہو گئے

پی آئی اے، کیکی چیلنج اور نیب

سپریم کورٹ نے حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری سے روک دیا

یاد رہے کہ کئی بار مسافروں کی جانب سے سامان غائب ہونے یا سامان میں سے قیمتی اشیا غائب ہونے کی شکایات کی جاتی رہی ہیں۔

ان جرائم میں ملوث زیادہ تر اہلکار دیہاڑی دار ہیں جن کی پی آئی اے میں کل تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔

چوری یا مشتبہ کارروائیوں میں ملوث نکالے جانے والے اہلکاروں کی اکثریت کراچی میں کام کر رہی تھی جس کے بعد لاہور اور پھر اسلام آباد میں کام کرنے والے ملازمین شامل ہیں۔

اسی طرح پی آئی اے نے صرف گزشتہ چند دنوں کے اندر اندر 70 ملازمین کو ان کی جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر نوکری سے برخاست کیا ہے۔ ان میں 6 پائلٹس، کیبن کرو اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔

گذشتہ چند سالوں کے دوران پی آئی اے سے کم از کم پانچ سو قریب ملازمین کو جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر فارغ کیا جا چکا ہے۔

200 کے قریب 'گھوسٹ' ملازمین کو فارغ کیا گیا جو بغیر کام کیے تنخواہ وصول کر رہے تھے یا جو صرف نام کے ہی ملازم تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں