آمنہ مفتی کا کالم: مجاہدین، طالبان، دہشت گرد، حکمران!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آج سے کوئی 17 سال پہلے لفظ 'دہشت گرد' جن معنوں میں استعمال ہونا شروع ہوا وہ خاصا قابلِ غور ہے۔ مجھے اپنے بچپن کی دھندلی یادوں میں ایک بات واضح طور پر یاد ہے کہ روس نامی ایک ملعون ملک ہمارے برادر اسلامی ملک پہ حملہ آور تھا اور اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہدین اس سے نبرد آزما تھے۔

ایک مخصوص اصطلاح میں 'فرسٹ لائن آف افنس اینڈ ڈیفنس۔'

بچے چونکہ معصوم ہوتے ہیں اس لیے کبھی یہ سوال ذہن میں نہ آیا کہ اس برادر اسلامی ملک کی اپنی فوج کہاں تھی جو مجاہدین روس کے دانت کھٹے کر رہے تھے؟

آمنہ مفتی کے دیگر کالم پڑھیے!

غیر تربیت یافتہ پولیس!

آئندہ میں صرف اچھی عورتوں کے قصے لکھوں گی

نیا سال ، ترکی اور مزید ترکی !

تاریخ کے پاس اس سوال کا جواب یقیناً ہو گا لیکن مجھے نہ کل یہ سوال سوجھا اور آج تو میرے فرشتے خان کی بھی ہمت نہیں کہ یہ سوال پوچھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس حملے سے کوئی دو سال قبل پاکستان میں کامیاب فوجی بغاوت ہو چکی تھی۔

سنہ 1989 میں وظیفے کے امتحان کی تیاری کرائی جا رہی تھی اور اخبار کی سرخیوں میں سے موٹے موٹے لفظ ڈھونڈ ڈھونڈ کر املا کرائی جاتی تھی۔ ایک سطر بار بار سامنے آ جاتی تھی، 'افغانستان سے روسی فوجیوں کا انخلا۔'

افغان مجاہدین کے ساتھ اس کے بعد کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں۔ چند سال بعد کچھ نئے نام کانوں میں پڑے، 'طالبان،' 'اسامہ بن لادن، 'القاعدہ' اور 'ملا عمر۔'

ایک نجی ٹی وی پر ملا عمر پر بنائی گئی ایک ڈاکیومنٹری بھی نظر سے گزری۔

ڈاکیومنٹری میں وائس اوور دینے والے صاحب کی بھرائی ہوئی آواز اور الفاظ کا انتخاب سن کر ہی میرے کان کھڑے ہو گئے تھے کہ تیری تباہی کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پھر ستمبر کی ایک گرم شام خبر ملی کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر تباہ کر دیا گیا ہے اور مجرم افغانستان میں ہے۔ عجیب اتفاق کہ اس واقعے سے سال بھر پہلے بھی پاکستان میں کامیاب فوجی بغاوت ہو چکی تھی۔ اب پاکستان دہشت گردی کی عالمی جنگ میں 'فرسٹ لائن آف افنس اینڈ ڈیفنس' تھا۔

گذشتہ 17 سالوں کے ہر دن مجھ پر اس لفظ کے وہ وہ معنی کھلتے گئے کہ اگر میں بیان کرنے پر آؤں تو غالب کی طرح مجھے بھی مشروط ولی تسلیم کر لیا جائے گا۔ چونکہ خواتین ولایت کی اہل نہیں ہوتیں اس لیے میں یہ معانی بھی آشکارا نہیں کروں گی۔ کانٹ چھانٹ کے بعد جو بچتا ہے وہ پیش ہے۔

'دہشت گرد وہ شخص ہوتا ہے جو پتہ نہیں کس سے ہتھیار لیتا ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ کیا کھاتا ہے؟ کس سے تربیت لیتا ہے؟ کون اس کے کپڑے لتے، رہنے سہنے، کھانے پینے کا خرچ اٹھاتا ہے؟ اس ساری مارا ماری سے اس کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ جب تک زندہ رہتا ہے کسی کو نظر نہیں آتا پھر اچانک ایک بڑی واردات کر گزرتا ہے۔

اس واردات کی ذمہ داری اس کی تنظیم قبول کرتی ہے۔ سنتے تو یہ ہی آئے ہیں کہ مجرم ہمیشہ اپنے جرم سے مکرتا ہے لیکن یہاں یہ سینہ ٹھونک کے کہتے ہیں کہ ہم نے کیا ہے۔

جانے یہ ذمہ داری وہ کس کے کان میں قبول کرتے ہیں؟ دہشت گرد کی ایک پہچان پکی ہے، دنیا کے کسی بھی ملک سے اس کا تعلق ہو، اس کا حلیہ لوئر مڈل کلاس والا ہوتا ہے۔

سنا ہے اس کو ان حرکتوں کے بہت پیسے دیے جاتے ہیں (دینے والا کون ہوتا ہے؟) لیکن پھوہڑ اتنا ہوتا ہے کہ پھر بھی پھٹے ہوئے کپڑوں میں گدھے، سائیکل یا موٹر سائیکل پر پھرتا ہے۔

کچھ بدخواہ کہتے ہیں کہ سارا پیسہ مرنے سے پہلے بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے کھاتوں میں ڈال جاتے ہیں اسی لیے تو پاکستان کے چپے چپے پر یونیورسٹیاں کھل گئی ہیں۔

یہ اکثر گنجان آباد علاقوں میں رہتا ہے، مرنے سے پہلے تک کسی کو نظر نہیں آتا لیکن مرنے کے بعد اس کا دنیا کی بڑی بڑی تنظیموں سے تعلق ایک دم کھل کے سامنے آجاتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ آپ کے ملک کے بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے نقصان کا ذمہ دارہوتا ہے حد یہ کہ اگر آ پ کی گائے کا کھر خراب ہو جائے یا دم میں 'کھندرو' پڑ جائے تو اس کا ذمہ دار بھی یہ ہی ہوتا ہے۔

سنا ہے دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان کامیاب مذاکرات طے پا گئے۔ 18 مہینوں میں امریکی فوج کا اٖفغانستان سے انخلا ہو جائے گا ۔غالباً اب طالبان اقتدار میں بھی حصے دار بنیں گے۔

طالبان جو کچھ عرصے پہلے 'دہشت گرد ' تھے آج میز پر بیٹھے ہیں۔ مجاہدین، طالبان، دہشت گرد، حکمران۔

بھئی میرا تو سر چکرا گیا۔ دیکھنا یہ کون طورخم بارڈر پر کولیٹرل ڈیمیج کے نام پہ 40 سال سے مرنے والوں کی روحوں کے ساتھ کھڑا دہائی دے رہا ہے؟

اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی آف دی بے دھیاناں دی آف دی مونگ دی دال دی آف دی درفٹے منہ امریکہ تے پاکستان گورنمنٹ دی۔'

اسی بارے میں