چینی کا بحران: ’جتنی قیمت شوگر مل والے دے رہے ہیں اس سے بہتر ہے ہم گڑ بنا لیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
گنے کے کاشتکاروں کا گلہ ہے کہ وہ جتنی محنت کرتے ہیں، انھیں اس کا صلہ نہیں ملتا

ایک بڑی کڑھائی میں شیرہ پک رہا ہے اور قریب ہی جنریٹر کی مدد سے مشین چلا کر گنے سے رس نکالا جا رہا ہے۔ یہ رس گھی کے دس کلو والے خالی ڈبے میں جمع ہوتا ہے جسے اس کڑھائی میں انڈیل دیا جاتا ہے۔ یہ گڑ بنانے کا دیسی طریقہ ہے۔

خلیل احمد آٹھ ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ انھوں نے اس سال گنے کی فصل شوگر ملوں کو دینے کی بجائے خود ہی گڑ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول جتنی قیمت انھیں شوگر ملیں دے رہی ہیں اس سے بہتر کام گڑ بنانے کا ہے۔

’جتنی محنت کرتے ہیں اتنا صلہ نہیں ملتا۔ مقروض ہیں کیا کریں؟ اس حساب سے ہم نے گڑ بنانے کی مشین لگائی ہے، اب گڑ نکالیں گے اور شوگر مل سے پھر بھی اچھے رہیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں جدید کاشت کاری، کم خرچ زیادہ منافع

انڈیا کے لیے سونا، پاکستانی کسان کے لیے خاک کیوں؟

’کیا ہے ہمارے پاس، کچھ بھی تو نہیں‘

موسم سرما کی آمد پر گُڑ کا تحفہ

قرضوں میں جکڑے پاکستانی کسان

خلیل احمد کا تعلق میر پور خاص سے ہے اور وہ ایک چھوٹے کاشتکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گڑ بنانے سے ایک تو کرایہ اور مزدوری بچتی ہے اور دوسرے اس کے دام بھی اچھے ملتے ہیں، یعنی 80 روپے کلو۔

اس کے برعکس حکومت نے گنے کی فی من قیمت 182 روپے مقرر کی ہے، جس میں 30 روپے تو خرچہ نکل جاتا ہے اور شوگر مل مالکان ادائیگی بھی تاخیر سے کرتے ہیں۔

’پچھلے سال ہمارا گنا اچھا تھا لیکن شوگر مل مالکان نے مل تاخیر سے چلا کر اسے سُکھا دیا۔ اس سے لکڑی کی قیمت زیادہ ہے، لکڑی پر کوئی خرچہ نہیں۔ گنے پر اتنا خرچہ کرتے ہیں لیکن ملتا کچھ نہیں، اس پر فی ایکڑ پر دس ہزار کا بیج لگتا ہے اس کے بعد کھاد، زرعی ادویات، ٹریکٹر اور مزدوری کے اخراجات الگ ہوتے ہیں اور آخر میں بچتا کچھ نہیں ہے۔‘

سندھ شوگر ملز ایکٹ کے تحت شوگر مل مالکان پر لازم ہے کہ وہ 30 نومبر تک اپنی ملیں چلائیں، لیکن کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 2009 سے اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ اسی سال سنہ 1950 کے ایکٹ میں ترامیم کی گئی تھیں۔

اس قانون کے تحت ایک شوگر بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس کے چیئرمین صوبائی وزیر زراعت ہوں گے جبکہ اراکین میں دو رکن صوبائی اسمبلی، شوگر مل مالکان اور کاشتکاروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ بورڈ شوگر ملز کی کریشنگ کے دورانیے اور نرخ کا تعین کرے گا۔ اس قانون میں شوگر مل مالکان اور کاشت کار کے مالی لین دین کا طریقۂ کار بھی واضح کیا گیا ہے۔

کاشت کار رہنما عمر بگھیو کا کہنا ہے کہ مل مالکان اور حکومتی گٹھ جوڑ کی وجہ سے بورڈ کا اجلاس ہی منعقد نہیں کیا جاتا کیونکہ کئی شوگر مالکان کا تعلق حکومت سے ہے اور مالکان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وقت پر ملیں نہ چلیں، کریشنگ کا دورانیہ کم ہو تاکہ کم نرخ پر گنا مل سکے۔

’جیسے جیسے وقت گذرے گا کاشت کار مجبور ہو جائے گا۔ اسے ہر حال میں گنے کی کٹائی کر کے دوسری فصل کی تیاری کرنی ہے۔ اس صورت حال میں مل مالکان کی من مانی بڑھ جاتی ہے۔‘

سندھ ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے سربراہ اور کاشت کار علی پلھ کا کہنا ہے ’رواں سیزن میں بھی شوگر ملیں تاخیر سے چلائی گئیں، اس سے نہ صرف کاشت کار متاثر ہوئے بلکہ اس سے متعلقہ مزدور بھی بیروزگار رہے۔ ان کے بقول ان کے گنے کی کٹائی سے لے کر شوگر ملوں تک رسائی کے مراحل میں ڈھائی لاکھ مزدوروں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔‘

گذشتہ سال گنے کے نرخ کے تعین اور عملدرآمد پر کاشت کاروں اور شوگر مل مالکان میں تنازع رہا۔ سندھ حکومت نے رواں سال گنے کا سرکاری نرخ 182 روپے فی من مقرر کیا تاہم کشیدہ صورت حال کی وجہ سے کئی کاشت کاروں نے محدود کاشت کی۔

عمر بگھیو نے اس سال 150 ایکڑ پر گنے کی فصل کاشت کی جبکہ وہ 300 ایکڑ پر فصل کاشت کرتے تھے۔ انھوں نے غیر یقینی کی صورت حال کے باعث آدھی فصل چارے میں بیچ دی۔

’فصل چارے میں اس لیے دی کیونکہ گنا کمزور تھا، ہم شوگر ملوں کو صفائی کے بعد خالص گنا دیتے ہیں جبکہ چارے میں گنا گھاس اور پتوں سمیت فروخت ہوتا ہے یعنی فی ایکڑ چارے والے کو دیں گے تو اس کے 300 روپے فی من بنیں گے اگر وہی گنا صاف کر کے شوگر ملوں کو دیں گے تو 100 روپے فی من بنے گا۔ چارے والوں نے گنا 150 روپے فی من خریدا جبکہ شوگر ملوں نے 140 روپے فی من نرخ دینا شروع کیا تو اب زمیندار کو جہاں فائدہ ہو گا وہیں فروخت کرے گا۔

گنے کی فصل کے بعد جیسے ہی زمین فارغ ہوتی ہے اس پر گندم کاشت کی جاتی ہے۔

کاشت کار خلیل احمد کا کہنا ہے کہ ’دسویں مہینے کے آخر میں شوگر ملیں چل جائیں تو جو چھوٹا کاشت کار ہے جس کا گنا کمزور ہے یا تھوڑا ہے وہ تو نکل جائے کہ چلو گنے کی فصل اچھی نہیں گئی تو آگے گندم کی فصل اچھی ہو جائے گی لیکن شوگر ملیں تاخیر سے چلنے سے گنے کی فصل کھڑی رہتی ہے اور ہم بھی گندم بو نہیں سکتے ہیں۔‘

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ رواں سال گنے کی پیداوار میں کمی کا امکان ہے جس سے چینی کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔

تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 14 جبکہ سندھ میں 19 فیصد کمی کا امکان ہے۔ سال 2017 اور 2018 میں گنے کی پیداوار 83 ملین ٹن ہوئی تھی جبکہ 2018 سے 2019 کے سیزن میں 75 ملین ٹن گنا دستیاب ہو گا۔

سندھ میں گذشتہ تین سالوں کے دوران فی من گنے کے سرکاری نرخ 182 روپے مقرر کیے جاتے ہیں۔ شوگر ملوں نے پہلے یہ نرخ دینے انکار کیا بعد میں سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے سٹے آرڈر کا مطالبہ کیا لیکن عدالت نے مقررہ نرخ ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔

شوگر مل مالکان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پہلے سے چینی وافر مقدار میں موجود ہے جسے برآمد کیا جائے اور گنے کے نرخ کے ساتھ چینی کا نرخ بھی مقرر کیا جائے کیونکہ چینی کا وہی نرخ برقرار رہتا ہے۔

کاشت کار عمر بگھیو کا کہنا ہے کہ شوگر ملیں تاخیر سے چلنے اور مناسب نرخ نہ ملنے پر کاشت کاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی جس کی وجہ سے اس سال سندھ میں گنے کی 15 سے 20 فیصد کاشت کم ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کے شگر ملیں ابھی سے ہی سودب بازی کی صورت حال پر آ گئی ہیں۔ اب شوگر مل مالکان کو چینی کے نرخ بڑھانے کا موقعہ مل جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں