پاکستان کڈنی سنٹر: ایک پاکستانی نژاد سعودی ڈاکٹر کا اپنے ملک میں نئی جدوجہد کا آغاز

ڈاکٹر رشید فاروقی تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan Kidney Hospital

یہ ایک عام سی بات ہے کہ اگر کوئی پاکستانی ملک سے باہر اپنی زندگی سنوار لے تو پھر اس کی وطن واپسی کا امکان تقریباً ختم ہی ہو جاتا ہے۔

اوپر سے گذشتہ کئی دہائیوں سے ملکی حالات میں مستقل زوال پذیری واپسی کے راستے کو اور دھندلا دیتی ہے۔

مگر ابھی بھی کچھ دیوانے ایسے ہیں جو اپنی کامیاب اور پرسکون زندگی کو پس پشت ڈال کر، بالوں میں سفیدی لیے اور نئے جوش کے ساتھ نہ صرف پاکستان واپس آئے بلکہ ایسی زندگی کا آغاز کیا جو جدوجہد سے بھری تھی۔

پاکستانی نژاد 79 سالہ سعودی شہری ڈاکٹر رشید فاروقی بھی انھی دیوانوں میں سے ایک ہیں۔

یہ بھی دیکھیے

'پاکستان میں ٹراما سینٹرز کی اشد ضرورت ہے'

پاکستانی خواتین ڈاکٹر پریکٹس کیوں نہیں کرتیں؟

’28 سرکاری ہسپتال، پانچ ماہر ڈاکٹر‘

29 سالہ نوجوان ڈاکٹر فاروقی نے جب مظفرآباد سے جدہ جانے کا ارادہ کیا ہو گا تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو گا کہ آدھی صدی سے زائد کا عرصہ گزر جائے گا۔

1968 میں اچھے روزگار اور مستقبل کی تلاش میں جدہ آئے۔ پہلے کچھ عرصہ ایک سرکاری ہسپتال میں نوکری کی، پھرآٹھ سال میں اپنا خود کا ایک کلینک کھول لیا جو آج تک نہ جانے کتنے لاکھوں مریضوں کا علاج کر چکا ہے۔ جدہ میں بہت نام اور عزت کمائی۔

ان کی اس انسانی خدمت سے متاثر ہوکر، حکومت سعودیہ نے انکو چند ہی برسوں میں سعودی شہریت سے نواز بھی دیا۔

اور یوں ڈاکٹر فاروقی نے جدہ کو اپنا گھر بنا لیا۔ شادی کر کے لاہور سے دلھن کو بھی جدہ ہی لے آئے۔ اسی شہر میں اپنے دونوں بچوں کی پرورش کی۔ نصف صدی کیسے گزری، پتہ ہی نہ چلا۔

دیس بدل گیا، حالات بدل گئے۔ مگر دنیا کی اس تگ ودو میں رشید فاروقی کے اندر بسا ہوا پاکستان کبھی نہ بدل سکا۔

عمر کی 75 سے زائد بہاروں کے بعد، جب لوگ عموماً آرام اور سکون کی زندگی بسر کرنا پسند کرتے ہیں، ڈاکٹر فاروق نے ایک نئی ذمہ داری اپنے کندھے پر اٹھائی، اور شاید اپنی زندگی کی سب سے کٹھن ذمہ داری بھی۔

انھوں نے کہا: 'اللہ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے بہت اچھی اور کامیاب زندگی عطا کی اور مجھے اس قابل بنایا کہ میں اپنی اولاد کی اچھی پرورش کر پایا، اپنے رشتہ داروں کے کام آ سکا، مریضوں کی خدمت کر سکا۔ مگر ان سب کے باوجود دل کو وہ سکون نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ شاید میری زمین مجھے بلا رہی تھی۔'

بالآخر پہلا قدم اٹھا لیا جس کی تشنگی ان کے دل میں کب سے تھی۔ اپنے چند قریبی احباب کے ساتھ انھوں نے پاکستان میں دو اہم پروجیکٹس کی بنیاد ڈالی۔ 'میں کیسے اس مادرِ وطن کو بھول سکتا تھا جس کی وجہ سے میں مجھے اتنی عزت ملی۔ جہاں میں نے تعلیم حاصل کی، اپنا بچپن اور جوانی گزاری، جہاں سے میرے آبا و اجداد کا تعلق ہے، لہٰذا میں نے اور میرے چند قریبی ڈاکٹر دوست حضرات نے ایک ساتھ دو اہم کام کرنے کا تہیہ کیا۔ ایک کڈنی ہسپتال بنانا اور دوسرا پہاڑی علاقوں میں موبائل ہیلتھ سروس کے ذریعے بنیادی علاج کی سہولت فراہم کرنا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan Kidney Hospital

وہ کہتے ہیں: 'پاکستانی پہاڑی علاقوں میں صحت کی سہولیات ناپید ہیں۔ ہمارے شمالی پہاڑی علاقوں میں آبادی تو بہت ہے مگر چھوٹے چھوٹے دیہات اور قصبوں میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ سڑک اور مواصلات کا نظام ابھی تک موثر نہیں۔ ان غریب لوگوں کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے لمبا اور تکلیف دہ سفر کر کے شہری آبادی تک آنا پڑتا ہے۔ اس صورت حال میں آپ خود اندازہ کر لیں ، بیمار افراد اوران کے خاندان والوں کو علاج کے لیے شہر آنے میں کتنی تکالیف سے گزرنا پڑتا ہو گا۔

'ان کے اپنے علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات نہیں ہیں۔ ہسپتال یا کلینک کو تو بھول ہی جائیں، ایک چھوٹی ڈسپنری بھی ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ ایسے کئی تکلیف دہ قصے ہم جدہ میں رہتے ہوئے پاکستانی بہن بھائیوں سے سنتے آئے۔ لہٰذا خیال آیا کہ کیوں نہ ہم لوگ خود بنیادی سہولت ایک وین یا گاڑی میں لے کر ان کے دروازے پر جائیں۔ چھوٹی موٹی بیماری کا علاج لگے ہاتھوں کریں اور اگر کوئی زیادہ بڑا اور سنگین معاملہ ہے تو مریض کو اپنے ساتھ قریبی شہر لے کر آئیں اور اپنی نگرانی میں اس کا علاج معالجہ کرائیں اور وہ بھی اپنے خرچے پر۔

'نہ صرف یہ، بلکہ وین میں موجود ہمارا طبی عملہ مقامی لوگوں کو مختلف قسم کے بیماریوں کے بارے میں آگاہی اور اس کے علاج اور بچاؤ کے بارے میں مقامی لوگوں کو معلومات دیتے ہیں۔ ان غریب لوگوں کو تو بہت ساری بیماریوں کے بارے میں معلوم بھی نہیں۔ چہ جائیکہ وہ علاج کا کیا سوچتے۔ لہٰذا بیماری کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے یہ اپنی طرف سے کوئی دوا اور پیری فقیری میں شفا ڈھونڈتے ہیں۔'

ڈاکٹر فاروقی نے بتایا: 'فی الوقت دو موبائل وین مستقل طور پہاڑی علاقوں کا دورہ کرتی ہیں، مگر صورتحال کی سنگینی دیکھ کر ہمیں فوری طور پر ان کی تعداد بڑھانی ہو گی۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ وسائل کسی طرح حاصل کر کے جتنی جلدی ہو، لوگوں کو بنیادی سہولت ان کے گھروں تک پہچائیں۔'

ڈاکٹر فاروقی کا دوسرا بڑا منصوبہ ایبٹ آباد کے قریب قائم 'پاکستان کڈنی سینٹر' ہے جو گردوں سے متعلق بیماریوں کا علاج خاص طور پرغریب لوگوں کو ڈائیلیسس مفت فراہم کرتا ہے۔

'ایبٹ آباد کے قریب ہسپتال قاہم کرنے کا مقصد شمالی علاقوں سے آئے ہوئے غریب مریضوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ مریضوں کو تکلیف میں ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ غریب آدمی کے پاس علاج کے لیے ویسے ہی پیسے نہیں۔ ڈائیلیسس ایک مہنگا علاج ہے اور اوپر سے لمبا سفر کا اپنا خرچ، اور اگر ان کا کوئی رشتہ دار ساتھ ہوا تو ایک اور خرچہ۔ لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا کہ لوگوں کو اس تکلیف سے، تھوڑا بہت آرام دیا جائے۔'

گردے کی بیماری کی وجہ سے اموات میں پاکستان دنیا بھر میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں ہر سال 20 ہزار سے زائد افراد گردے کے امراض کی وجہ سے موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔

پاکستان کڈنی سینٹر 2015 میں قائم ہوا۔ اس وقت 14 مشینیں ہر روز 35 سے 40 افراد کو ڈائیلیسس کی مفت سہولیت فراہم کر رہی ہیں۔ 'اس وقت ہم، آپریشن تھیئٹر اور دیگر سہولیات بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ مریضوں کو جتنی بھی مدد دے سکیں، ضرور دیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan Kidney Hospital

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک نہیں بلکہ دو دو خیراتی ادارے چلانا آسان تو کیا کسی معجزے سے کم نہیں۔ خاص طور پر جب سرمایہ کسی سرکاری ادارے سے نہیں، بلکہ ایک بزرگ ڈاکٹر اور ان کے دوستوں کی جمع پونجی سے کھڑا کیا گیا ہو۔

'یہ آسان جدوجہد نہیں، 55 سال بعد پاکستان واپس آ کر ملک میں فلاحی کام کرنا، مشکل کام ہے۔ خاص طور پر جب آپ زندگی کی ڈھلان پر ہوں۔ یہاں بہت کچھ بدل گیا ہے، یہاں کے حالات اب پرانے وقتوں جیسے نہیں رہے۔ مگر میں ہمت ہارنے والا نہیں۔ چاہے جو بھی ہو، میں اپنی آخری سانس تک اپنے لوگوں کی جو کچھ بھی خدمت کر سکا، کرتا رہوں گا کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اللہ مجھے ہمت دے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں