ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی جج سُمن بودانی غربا کو انصاف دلوانے کے لیے پرعزم

سُمن بودانی اپنے والد کے ہمراہ تصویر کے کاپی رائٹ Suman Bodani
Image caption شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والی سُمن بودانی کو اس تصویر میں اپنے والد کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے

سندھ کے ضلع شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والی سُمن بودانی نے سول جج بننے کے بعد عوام کو انصاف دلانے کے اپنے پرانے خواب کی تعبیر حاصل کرنے کی جانب ایک قدم اور اٹھا لیا ہے۔

سمن سندھ میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی دوسری خاتون ہیں جو سول جج کے عہدے پر تعینات ہوئی ہیں۔ ان سے قبل عمرکوٹ کی کنول راٹھی 2015 سے سول جج کے منصب پر فائز ہیں۔

سُمن بودانی کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق دیہی علاقے سے ہے، جہاں انھوں نے کافی لوگوں کو مسائل کا شکار دیکھا جو عدالتی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے!

ہندو بچے اسلامیات پڑھنے پر مجبور کیوں؟

پاکستان میں ہندو خواتین سکھ بننے پر مجبور

اقلیتی آئی ڈی پیز، پاکستان کے گمنام مہاجرین

’حکومت بھنگ کے کاروبار کی اجازت دے‘

’میں نے سوچا تھا کہ میں وکالت میں جاؤں گی اور انھیں انصاف دلاؤں گی۔‘

سمن کا آبائی ضلع شہداد کوٹ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ایک پسماندہ شہر ہے، سنہ 2010 کے سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے اضلاع میں شہداد کوٹ بھی شامل تھا۔

سُمن بودانی نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم آبائی شہر سے ہی حاصل کی، حیدرآباد سے ایل ایل بی کے بعد انھوں نے زیبسٹ یونیورسٹی کراچی سے ایل ایل ایم کیا۔ وہ کراچی میں نامور وکیل جسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی کی لا فرم کے ساتھ منسلک رہیں اور ان کے ساتھ دو سال پریکٹس کی۔

سُمن بودانی کا قانون کے شعبے میں آنا والد کا فیصلہ اور خواہش بھی تھی۔

ان کے والد ڈاکٹر پون بودانی نے بی بی سی کو بتایا کہ حیدرآباد میں سندھ یونیورسٹی سے منسلک کالج میں پانچ سالہ قانون کی ڈگری کے پروگرام کا آغاز ہو رہا تھا، یہ اس کا پہلا بیچ تھا۔

انھیں شوق ہوا کہ یہ فیلڈ بہت اچھی ہے اور دل کی خواہش تھی کہ بچے غریبوں کو انصاف دلانے میں مددگار ثابت ہو سکیں اس لیے سُمن بودانی کو اس شعبے میں بھیج دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سندھ میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں زیادہ تر ڈاکٹر بننے یا تعلیم کے شعبے سے منسلک ہونے کو ترجیح دیتی ہیں

سندھ میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں زیادہ تر ڈاکٹر بننے یا تعلیم کے شعبے سے منسلک ہونے کو ترجیح دیتی ہیں اور عام عوامی رابطے والے شعبوں سے دور رہتی ہیں۔

سُمن بودانی کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کی ’برادری اس فیصلے کی حمایت نہیں کرے گی کیونکہ وہ اس شعبے میں لڑکیوں کے کام کرنے کو پسند نہیں کرتے، تاہم والد اور بہن بھائیوں کی مکمل مدد اور حمایت حاصل رہی حالانکہ اس بارے میں خاندان کو کئی باتیں بھی سننی پڑیں لیکن میرے خاندان نے ان باتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مجھے اس مقام پر پہنچا دیا‘۔

سوشل میڈیا پر سُمن بودانی کے پروفائل کے مطابق وہ لتا منگیشکر اور عاطف اسلم کی مداح ہیں جبکہ ان کی پسندیدہ فلموں میں سرفہرست ’ویوواہ‘ اور ’دے ڈیولز ایڈووکیٹ‘ ہیں، اس کے علاوہ وہ شاعری پڑھنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سندھ کے متعدد اضلاع میں ہندو برادری کی لڑکیوں کو مبینہ طور پر جبری تبدیلی مذہب کا سامنا ہے

سُمن بودانی کے والد ڈاکٹر پون بودانی شہداد کوٹ میں آنکھوں کے امراض کا کلینک چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 1991 میں انھوں نے کمیشن پاس کیا لیکن سرکاری ملازمت میں کم تنخواہ کے باعث پرائیوٹ پریکٹس کو ترجیح دی اور وہ سنہ1992 سے شہداد کوٹ میں ہی پریکٹس کر رہے ہیں۔

سُمن بودانی، ڈاکٹر پون کی اکلوتی اولاد نہیں جس نے والدین اور برادری کا نام روشن کیا، ڈاکٹر پون کے مطابق ان کی بڑی بیٹی سافٹ ویئر انجنیئر ہیں، دوسری بیٹی جج بنی ہیں، تیسری عمان میں چارٹرڈ اکاؤٹنٹ ہیں جبکہ ایک بیٹا نجی یونیورسٹی میں آڈیٹر اور دو چھوٹے بیٹے کالج میں زیر تعلیم ہیں جو ڈاکٹر بننے کے خواہشمند ہیں۔

بالائی سندھ کے اضلاع بشمول شہداد کوٹ، جیکب آباد، کشمور اور شکارپور میں ہندو برادری کی لڑکیوں کی مبینہ طور پر جبری تبدیلی مذہب اور کاروباری حضرات کے اغوا کی شکایت آتی رہیں ہیں، ڈاکٹر پون کمار کا کہنا ہے کہ اب حالات میں کافی بہتری آئی ہے تاہم اب بھی کچھ شکایات کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر پون کمار سمجھتے ہیں کہ ان کے دیگر بچوں کی نسبت ثمن کی ملازمت مشکل ہے، ان کی اپنے بچوں کو تو یہ ہی تلقین ہے کہ ’ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کریں، اس کام میں بظاہر مشکلات ضرور آئیں گی کیونکہ یہ منصب ہی ایسا ہے لیکن ان مشکلات کا سامنا تو کرنا ہے۔‘

٭ اس مضمون میں ابتدائی طور پر سمن بودانی کو صوبہ سندھ کی پہلی ہندو جج قرار دیا گیا تھا جس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔ ادارہ اس غلطی پر معذرت خواہ ہے۔

اسی بارے میں