وزیرستان کا سویٹ ہوم: ’ہم نے انھیں ایک مستقبل دینا ہے چاہے وہ کسی کے بھی بچے ہوں‘

سویٹ ہوم
Image caption گولڈن ایرو پاکستان سویٹ ہوم کی کہانی ملک کے دیگر 36 سویٹ ہومز سے کچھ مختلف ہے

وزیرستان میں طالبان کی کارروائیاں ہوں یا فوج کا آپریشن اس میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد تھے یا پھر عام شہری دونوں صورتوں میں پیچھے رہ جانے والے خاندانوں میں جن کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں وہ معصوم بچے ہیں جو یتیم ہوئے یا پھر یتیمی کی حالت میں ہی انھوں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔

میر علی کا گولڈن ایرو پاکستان سویٹ ہوم ایسے ہی کچھ بچوں کا گھر ہے۔ گذشتہ پانچ ماہ سے یہاں موجود 150 بچے والد کے سائے سے تو محروم ہیں ہی لیکن کچھ تو ایسے ہیں جن کی والدہ بھی حیات نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان، فوج، ’نو گو ایریا‘: جنوبی و شمالی وزیرستان کا سفر

چارسال بعد شمالی وزیرستان جانے کی اجازت

'میں نے وزیرستان میں کیا دیکھا'

تاہم گولڈن ایرو پاکستان سویٹ ہوم کی کہانی ملک کے دیگر 36 سویٹ ہومز سے کچھ مختلف ہے۔

گذشتہ برس پاکستانی فوج نے ایک سروے بھی کیا کہ معلوم ہو کہ اس علاقے میں کتنے یتیم بچے ہیں۔ اعداوشمار کے مطابق صرف میر علی میں یتیم بچوں کی تعداد 129 ہے۔ جبکہ یہاں کی کل آبادی ایک لاکھ بچاسی ہزار 525 ہے۔

پھر میر علی اور شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں کے یتیم بچوں کی کفالت کے لیے پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمرد خان سے رابطہ کیا گیا اور انھیں میر علی میں بھی سویٹ ہوم کھولنے کی پیشکش کی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان سویٹ ہوم: وزیرستان کے یتیموں کا اپنا گھر

زمرد خان کہتے ہیں کہ ’اس علاقے میں جانا کسی چیلینج سے کم نہیں تھا۔ میں پاکستانی فوج کے ہمراہ دوردراز سرحدی علاقوں میں بھی گیا۔ فوج نے پھر ہمیں وہاں سویٹ ہوم کے لیے عمارت دی، سکیورٹی دی اور میڈیکل کی سہولت بھی دی گئی ہے۔‘

سویٹ ہوم کی منتظم فرزانہ ریاض کا کہنا ہے کہ اس یتیم خانے میں داخلے کے وقت بچے کے خاندان اور اس کے ماضی کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔

ان کے مطابق ’ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بچے کے والد کی موت کی وجہ کیا بنی اور وہ کیا کرتے تھے۔ یہ معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ ہم لوگ جو بچے لیتے ہیں اس کا صرف ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ یہ صرف یتیم بچے ہیں۔‘

فرزانہ ریاض کا کہنا تھا کہ ’انھیں ہم نے ایک مستقبل دینا ہے وہ جس کسی کے بھی بچے ہوں۔‘

Image caption بچے اختتامِ ہفتہ پر یا پھر سالانہ چھٹیوں میں اپنے گھر جاتے ہیں اور ان کے خاندان والوں کو بھی ان سے ملنے کی اجازت ہے

تاہم بچوں کو اس یتیم خانے میں داخلے کے لیے یہاں کے دستور کے مطابق علاقے کے ملک سے اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔

فرزانہ نے بتایا کہ 'ان کا اپنا لیٹر ہوتا ہے۔ ملک کی طرف سے جب ہمیں اجازت ملتی ہے کہ یہ یتیم بچے ہیں ان کا کوئی نہیں ہے باپ فوت ہو جائے تب ہم ان کو لیتے ہیں۔'

ان کے مطابق سویٹ ہوم میں قیام پذیر بچے اب اس جگہ سے مانوس ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ’صرف ایک بچہ ایسا ہے جسے ابتدا میں یہاں رہنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ وہ خوف کا شکار اور کم گو لگتا تھا لیکن اب وہ بھی ٹھیک ہے‘۔

اس یتیم خانے میں چار سے آٹھ برس کے درمیانی عمر کے بچوں کو رکھا گیا ہے جن کے لیے ادارے میں نصابی، ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

Image caption منتظمین کے مطابق سویٹ ہوم میں قیام پذیر بچے اب اس جگہ سے مانوس ہو گئے ہیں

ان بچوں کے لیے اساتذہ اور چھوٹے بچوں کے لیے کیئر ٹیکر بھی موجود ہیں۔ کمپیوٹر پر پینٹگ میں مصروف جماعت چہارم کے ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں بہت خوش ہیں۔ پڑھتے بھی ہیں اور کھیلتے بھی ہیں۔

فرزانہ کے مطابق یہ بچے اختتامِ ہفتہ پر یا پھر سالانہ چھٹیوں میں اپنے گھر جاتے ہیں اور ان کے خاندان والوں کو بھی ان سے ملنے کی اجازت ہے۔

میر علی سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور بچے کا کہنا تھا کہ ’میں امی سے ملنے گھر بھی جاتا ہوں اور یہاں پڑھنے میں مزہ آتا ہے، اچھا لگتا ہے‘۔

سویٹ ہوم کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں غربت کی وجہ سے والد کی غیرموجودگی میں اکیلی ماں کے لیے بچوں کو پالنا آسان نہیں اور 'جو مدد یہاں ان کو مل رہی ہے اس کی وجہ سے ان کی مائیں بہت زیادہ خوش ہیں‘۔

Image caption یتیم خانے میں چار سے آٹھ برس کے درمیانی عمر کے بچوں کو رکھا گیا ہے

فرزانہ کا کہنا تھا کہ ’یہاں ہمارے تین بچے ایسے ہیں جن کی ماں پہاڑ پر ایک خیمے میں رہتی ہے۔ یہ علاقہ خدی کہلاتا ہے۔ تو آپ خود سوچیں کہ اس خیمے میں کتنی سردی ہو گی، کتنی گرمی ہوگی۔ وہ تو کہتی ہے کہ یہ تو اس دنیا میں جنت ہے ہمارے لیے‘۔

سویٹ ہوم کی انتظامیہ کے مطابق اب علاقے میں یتیم بچیوں کے لیے بھی ایسا منصوبہ شروع کرنے پر مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ انھیں بھی تعلیم کی سہولت اور تحفظ مل سکے جبکہ اسی قسم کے سویٹ ہومز شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں اور جنوبی وزیرستان میں بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں