طالبان، فوج اور ’نو گو ایریا‘: بی بی سی کی ٹیم کا جنوبی وزیرستان سے شمالی وزیرستان تک کا سفر

waziristan تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed

بی بی سی کی ٹیم نے حال ہی میں وزیرستان کا دورہ کیا ہے۔ اس حوالے سے مختلف رپورٹس آپ آنے والے دنوں میں ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا صفحات پر دیکھ اور پڑھ سکیں گے۔

’وزیرستان کیوں جا رہی ہو، وہاں کچھ بھی نہیں ہے دیکھنے کو۔ اچھا جانا ضروری ہے تو احتیاط سے رہنا، زیادہ دور تک مت جانا، وہاں بارودی سرنگیں ہیں، اب بھی بم پھٹتے ہیں۔ فوج کے ساتھ جا رہی ہو تو بہتر ہے نہ ہی جاؤ بہت سختی ہوتی ہے۔۔۔‘

مجھے ایسے بہت سے جملے جنوبی اور شمالی وزیرستان کے سفر پر جانے سے پہلے سننے کو ملے۔

جنوبی وزیرستان کے چھ لاکھ چوہتر ہزار چونسٹھ افراد اور آٹھ تحصیلوں پر مشتمل وسیع اور خوبصورت علاقے کی 99 فیصد آبادی واپس لوٹ چکی ہے۔ یہ کل ملا کر 71412 گھرانے بتائے جاتے ہیں۔

پتھریلے پہاڑوں کے درمیان پختہ اور ہموار سڑک کے آس پاس کہیں کہیں آبادیاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں گھر قدرے بڑے ہوتے ہیں اور پکے بھی ہوں تب بھی ان کے باہر لیپ مٹی سے ہی کی جاتی ہے اور وہ جیسے انھیں پہاڑوں کے درمیان کیموفلاج کر دیتی ہیں۔

وہاں آپ کو اکثر گھروں کی بیرونی دیواروں پر اور سڑک کے کنارے پاکستانی پرچم پینٹ کیا ہوا ضرور دکھائی دے گا۔

’کبھی ایک پہاڑ پر رہے کبھی دوسرے پر‘

waziristan تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption جنوب سے شمال جاتے ہوئے موجود ایک آبادی کا منظر

وانا پہنچنے سے پہلے ہمارا سراروغہ میں مختصر قیام ہوا۔

وہی سراروغہ جہاں فوج اور طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے درمیان 2005 میں معاہدہ طے پایا تھا۔ لیکن بعد میں فوج نے آپریشن کیے۔ کئی برس یہاں کے باسیوں نے آئی ڈی پیز کی صورت میں ڈی آئی خان، ٹانک اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں گزارے۔

مرکزی سڑک کے راستے میں مجھے گھروں کے علاوہ سکولز، کیڈٹ کالج اور سولر پینلز نمایاں طور پر دیکھنے کو ملے۔

سردیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے بچے تعلیمی اداروں میں تو نہیں البتہ کہیں کہیں اپنے گھروں کے باہر کھیلتے ملے۔

سراروغہ میں سکارف میں لپٹی چھوٹی چھوٹی بچیوں کو دیکھ کر میں گاڑی سے اتری۔ ان کی عمریں چار سے سات سال کے درمیان تھیں۔ میں نے پوچھا کہاں جا رہی ہو؟ سکول پڑھتی ہو؟ تو جواب ملا نہیں۔ سکول تو نہیں پڑھتے ابھی مدرسے جا رہے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
وزیرستان کی خواتین ایک لمبا عرصہ کیمپوں میں گزار کر اب گھروں کو واپس آئی ہیں

اجازت ملنے پر ایک گھر میں بھی جانے کا موقع ملا۔ تین بچوں کی ماں عالیہ اور ان کی دو رشتے دار خواتین سے ملاقات ہوئی۔ عالیہ کے شوہر دبئی میں کام کرتے ہیں۔

عالیہ فوج کی جانب سے پانی کی فراہمی میں مدد پر انتہائی خوش تھیں کہ اب سڑک بھی پختہ ہے اور انھیں دور سے پانی لانے کی تکلیف نہیں لیکن طبی سہولت کے لیے ماہر لیڈی ڈاکٹر کا نہ ہونا ان کی نظر میں یہاں کی خواتین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

اس مختصر ملاقات میں عالیہ نے آپریشن کے دوران میر علی اور خیسور میں گزرے برسوں کے بارے میں بھی بتایا کہ زندگی کس قدر مشکل تھی 'ہم نے اور ہمارے بچوں نے پہاڑوں میں جا کر بھی وقت گزرا کبھی ایک جانب اور کبھی دوسری۔'

وہ کہنے لگیں 'میں نے تو نہ قرآن پڑھا نہ سکول دیکھا، ہاں اب ہمارے بچے سکول جاتے ہیں۔'

شام کا اندھیرا پھیلنے سے پہلے وانا پہنچنے کے لیے ہمارے پاس وقت کم تھا۔ اگرچہ اب راستے میں ہمیں پرائیوٹ گاڑیاں بھی چلتی دکھائی دیں اور بتایا گیا کہ اب یہاں رات کو سفر کرنے میں کوئی ممانعت یا خطرہ نہیں لیکن احتیاط اب بھی کی جاتی ہے۔

اگرچہ وانا تک کے راستے میں ایک دو بازار نظر آئے۔ کسی بھی دوسرے علاقے کی طرح یہاں سڑک کے کنارے دکانیں اور خریدو فروخت سمیت نوجوانوں اور بزرگ افراد کو بیٹھے دیکھا۔ لیکن وانا کا بازار واحد بازار تھا جسے دیکھا تو رات کو لیکن پہلی جگہ تھی جہاں کچھ گہما گہمی کا احساس ہوا۔

جنوبی وزیرستان میں 35 فیصد وزیر، 56 فیصد محسود جبکہ تین فیصد دوتانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے آباد ہیں۔

چھاؤنی کا علاقہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہو محفوظ اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے قدرے بہتر ہوتا اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا۔

’ ہم یہاں بہت محفوظ ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
وزیرستان کے مسیحی خاندانوں کو کوئی ڈر نہیں ہے

صبح سویرے چھاؤنی کی صفائی میں مگن مسیحی برادری کے کچھ افراد سے ملاقات ہوئی۔

میرے ذہن میں یہ تجسس تھا کہ سخت قبائلی قوانین اور طالبان کے دور کو دیکھنے کے باوجود یہ لوگ کئی نسلوں سے یہاں خود کو کیسے محفوظ تصور کرتے ہیں؟

بہت سی خواتین بیاہ کر پنجاب کے علاقوں سے آکر بسی ہیں اور ویسے ہی پردہ کرتی ہیں جیسے قبائلی خواتین کی روایت ہے۔ ہاں طالبان کی کارروائیوں اور پھر آپریشن کے دوران انھیں باہر جانے سے گریز کرنے کو کہا گیا تھا مگر اب وہ چرچ میں لاؤڈ سپیکر کا آزادانہ استعمال کر سکتے ہیں اور باہر موجود مسیحی آبادی سے مل بھی سکتے ہیں۔

اس برادری کے لوگوں نے بتایا کہ ’گزرے برسوں میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کرسمس نہ منائی جا سکی ہو یا کسی کو مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہو۔ نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ طالبان نے ہمیں کچھ کہا ہو۔‘

وہ کہتے ہیں ہم خود کو یہاں محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

وزیرستان
Image caption شمالی اور جنوبی وزیرستان میں خواتین کے لیے وکیشنل سینٹرز بھی بنائے گئے ہیں

وہیں وانا میں میری ملاقات وکیشنل سینٹر میں کچھ نوجوان لڑکیوں سے بھی ہوئی جنھوں نے بتایا کہ اب حالات بہتر ہیں ’اب ہم شاپنگ کرنے کے لیے وانا بازار تک جا سکتے ہیں اور اب ہمیں فوج کی سکیورٹی کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔‘

کروشیہ سیکھنے میں مگن سولہ سالہ لائبہ کی پیدائش یہیں وانا میں ہوئی تھی۔ ان کے والد ایف سی میں نوکری کی وجہ سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔ لیکن لائبہ کا خیال ہے کہ ’ہم بنوں واپس جائیں یا یہیں رہ لیں حالات دونوں جانب بہتر ہیں۔‘

لائبہ جنھوں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی ہے اور آگے بھی پڑھنا چاہتی ہیں کہتی ہیں کہ 'ہم نے اور وزیرستان کے لوگوں نے بہت مشکل وقت کاٹا ہے۔ ایک بار طالبان نے میرے والد کو اغوا کر کے انھیں دس دن تک اندھے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ وہ دس دن ہم نے بہت مشکل سے کاٹے تھے۔‘

ایگری پارک ایک سہولت

wana تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed

وانا میں 350 ایکڑ رقبے پر بننے والے ایگری پارک میں تاجر برادی سے ملنے کا موقع ملا۔

اپنے مخصوص تُربن پہنے مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے درجنوں مرد حضرات ایگری پارک میں موجود تھے۔

فوج کی جانب سے یہ پارک بنانے کے بعد انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہاں 168 دکانیں اور 75 گوداموں کے علاوہ کولڈ سٹوریج اور یہاں پیدا ہونے والے چلغوزے کی صفائی کے لیے ایک بڑا پلانٹ لگایا گیا ہے۔

تاجر اس سے تو بہت خوش ہیں لیکن ان کے خیال میں ابھی پارک میں کچھ مزید سہولیات کی ضرورت ہے جو بیوپاری کو چاہیے ہوتی ہیں جیسا کہ قیام کی جگہ اور دیگر سہولتیں اور اس کے لیے حکام سے بات ہو رہی ہے۔

فروٹ کا کاروبار کرنے والوں نے بتایا کہ اب انھیں لاہور اور دیگر شہروں کے کولڈ سٹوریج میں فروٹ پہنچانے کے لیے ہزاروں روپے کرایہ نہیں لگانا پڑے گا تاہم تاجر چاہتے ہیں کہ فروٹ کو بیرون ملک برآمد کرنے کا انتظام بھی کیا جائے۔

یہاں چلغوزہ کی سالانہ پیداوار 4460 ٹن ہے۔ اگرچہ اس کے درختوں کی کٹائی پر دو سال سے پابندی عائد ہے لیکن تاجر کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اب بھی درختوں کی کٹائی کرتے ہیں۔ رواں برس اس کی پیداوار میں کمی نے قیمت کو یہاں کی مقامی مارکیٹ میں بھی چار ہزار روپے تک پہنچا دیا جو کہ ملک بھر میں چھ سے آٹھ ہزار روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

WAZIRISTAN تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption طور خان کہتے ہیں کہ ابھی ایگری فارم میں کچھ مزید سہولیات کی ضرورت ہے جس کے لیے حکام سے بات ہو رہی ہے

جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی کام

جنوبی وزیرستان میں آئی جی ایف سی سے مختصر ملاقات کے علاوہ علاقے میں فوج کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی امور کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔

حکام کے مطابق سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے اور جبکہ 109 کلومیٹر کے علاقے میں 22 قلعے بنائے گئے ہیں وہاں جدید مانیٹرنگ سسٹم لگایا جا رہا ہے۔

80 تعلیمی ادارے بنائے گئے ہیں اور ہیلتھ کے لیے 59 یونٹس اور 300 سے زیادہ سولر پلانٹس لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لیے 41 سپورٹس گراؤنڈز بھی بنائے گئے ہیں۔

اگلی منزل مکین

طے شدہ پلان کے مطابق ہماری اگلی منزل مکین تھی جو یہاں سے تقریباً 80 کلومیٹر دوری پر ہے۔

اس سفر میں کانی گرم کی خوبصورت وادی وہ واحد مقام ہے جہاں آج آپ کو قدرے زیادہ گھر دیکھنے کو ملیں گے۔ یہاں سے سرسبز وادیاں شروع ہو جاتی ہیں۔

میرے ساتھ موجود ٹیم ممبر بلال نے کیمرہ سنبھالا اور ویڈیو بنائی۔

waziristan تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption مکین اور میران شاہ میں وسیع مارکیٹس بنائی گئی ہیں

مکین مارکیٹ پہنچے تو شام کے چار ساڑھے چار بج رہے تھے۔ بہت سی دکانوں کے شٹر گر چکے تھے۔

728 دکانوں پر مشتمل اس وسیع مارکیٹ کو جو پہلے رہائشی علاقہ تھا سات سال کی لیز پر دکانداروں کو دیا گیا ہے جس کا انتظام فوج کے پاس نہیں بلکہ اسے ایک مقامی کمیٹی چلاتی ہے اور سہولیات کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہے۔

بارودی سرنگیں

یہاں میری ملاقات جرگے کے ایک بزرگ اجمل شاہ جہاں سے ہوئی۔

اجمل پنجاب میں لاہور اور گجرات اور کے پی میں ڈی آئی خان میں پراپرٹی کا کاروبار کرتے ہیں۔ اب چھ سال بعد اپنے علاقے میں لوٹے ہیں اور مستقبل کے لیے پرامید ہیں۔ لیکن ان کی بیٹی اور بھابھی کی ٹانگ کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں نقصان پہنچا اور اسے آپریشن کر کے کٹوانا پڑا۔

waziristan تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption شمالی وزیرستان میں علاقے کو کلئیر کرنے کا کام جاری ہے

بارودی سرنگیں اب بھی وزیرستان کے دونوں حصوں کا ایک اہم مسئلہ ہیں اور فوج کی جانب سے علاقے میں آگاہی مہم ٹیمز کو بھجوا کر، مختلف جگہ پر پوسٹر لگا کر اور رابطہ نمبر دے کر لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں سکولز میں بھی ٹیمز جاتی ہیں۔

یہ خطرات اپنی جگہ موجود ہیں لیکن جنوبی وزیرستان میں سڑک کے کنارے ہر علاقے میں آپ کو نیٹ، فٹ بال اور چھوٹی بڑی ہر عمر کے بچے اور نوجوان ضرور دکھائی دیں گے۔ انھیں آبادی سے چاہے کتنا ہی دور جانا پڑے پہاڑوں کے ساتھ میسر زمین کے چھوٹے سے ٹکرے کو اپنا فٹ بال گراؤنڈ بنا لیتے ہیں۔

اب ہمیں شمالی وزیرستان میں داخل ہو کر رزمک میں رات گزارنی تھی جو مکین سے تقریباً 30 منٹ کی دوری پر ہے۔

اگلی صبح مجھے دوبارہ مکین مارکیٹ جانے کی اجازت ملی تاکہ میں وہاں کے کاروباری حضرات سے مل سکوں۔ ہمارے گائیڈ کے بقول یہ مشکل مرحلہ تھا۔

وہاں ہماری ملاقات سمیع اللہ سے ہوئی جو گذشتہ تین ماہ سے پی سی او چلا رہے ہیں۔ آپریشن کے بعد واپسی کی اجازت ملنے پر وہ اپنے علاقے میں لوٹنے پر مطمئن تو ہیں اور پرامید بھی کہ کاروبار آہستہ آہستہ چلے گا لیکن ان کی دو مشکلات اب بھی حل نہیں ہو سکیں۔

waziristan تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption بچوں کو بارودی سرنگوں کے خطرے سے بچنے کی تربیت دی جا رہی ہے

ایک تو مارکیٹ میں بجلی اور پانی کی دستیابی اور دوسرے اب تک گھر کا سروے ہونے کے باوجود معاوضہ نہ ملنے پر ان کے خاندان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

سمیع سے بات کے بعد وہاں موجود بہت سے نوجوانوں نے بھی بلند آواز میں اسی شکایت کو دہرایا۔

حکام کا کہنا ہے کہ 70 فیصد سروے مکمل ہو چکا ہے اور 25 ہزار گھرانوں کو رقم کی فراہمی ہو چکی ہے جبکہ اندازہ ہے کہ 15 سے 20 ہزار گھر ابھی رہتے ہیں۔

لیکن مکینوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ معاوضہ اگر چار لاکھ روپے مل بھی جائے گا تو چار لاکھ میں کیا گھر بن سکتا ہے؟

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 'اس میں نہ پیسے کی کمی ہے نہ سستی ہے اس میں لوگوں نے نیب میں درخواستیں دے دی تھیں نیب کی انکوائری کی وجہ سے سال سے زیادہ کی دیر لگی۔'

حکام کہتے ہیں کہ ابھی فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام پر عملدرآمد ہو رہا ہے ابھی نہ پولیس ہے نہ ہی عدالت مشکلات ہیں جن سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لِٹل لندن

waziristan تصویر کے کاپی رائٹ Bilal ahmed
Image caption رزمک کی مارکیٹ جہاں اب نہ بال کٹوانے پر کوئی خوفزدہ ہوتا ہے اور نہ اونچی آواز میں میوزک پر کوئی ڈرتا

شمالی وزیرستان جس کی آبادی پانچ لاکھ 43 ہزار 254 افراد پر مشتمل ہے ان میں 45 فیصد کی عمر 20 سال تک ہے۔ یہاں 59 فیصد وزیر آباد ہیں تین فیصد محسود جبکہ باقی ماندہ آبادی داوڑ قوم کی ہے۔

حال ہی میں فوج نے اب ملک بھر کے عوام کے لیے اس علاقے کو کھول دیا ہے۔

رزمک جسے لٹل لندن بھی کہا جاتا ہے ایک بہت ہی خوبصورت علاقہ ہے۔ لیکن اس کا نام آتے ہی سنہ 2009 کا وہ واقعہ ضرور یاد آتا ہے جب طالبان نے کیڈٹ کالج رزمک کے 150 کیڈٹس اور عملے کو اغوا کیا تھا۔

ایک طویل عرصے تک یہاں کے سکیورٹی اہلکاروں کو زیر زمین بنکر میں اپنے خاندانوں کے ہمراہ بھی وقت گزارنا پڑا تھا۔ اور وہ وقت بھی تھا جب گفٹ پیک کی صورت میں ان علاقوں میں بارودی مواد گھروں میں بھجوایا جاتا تھا۔

خراب حالات کی وجہ سے بعد میں کیڈٹ کالج کو متعدد بار خیبرپختونخوا منتقل کرنا پڑا تھا تاہم اب یہاں ایسا کچھ نہیں۔ سرد موسم کی وجہ سے چھٹیاں تھیں تاہم ہمیں کالج کو دیکھنے کا موقع ضرور ملا جہاں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے مخصوص کوٹہ سسٹم ہے تاکہ انھیں آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع مل سکیں۔

’بارڈر کو محدود نہ کریں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
وزیرستان کے دکاندار اپنے کاروبار بحال کرنے کے لیے کوشاں

رزمک سے آگے ہمیں میران شاہ پہنچنا تھا جو وہاں سے 70 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔

جنوب کی نسبت شمال زیادہ آباد اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے بہتر دکھائی دیتا ہے۔

ایف سی حکام نے میران شاہ میں بریفنگ میں بتایا کہ شمالی وزیرستان میں بھی جنوب کی مانند اب کوئی علاقہ ’نو گو ایریا‘ نہیں ہے۔

پاک افغان سرحد پر دواتوئی میں 480 مربع کلومیٹر کے علاقے میں ابھی کلئیرنس کی جارہی ہے۔

حکام کے مطابق افغان بارڈر سکیورٹی کے ساتھ مسلسل رابطہ رہتا ہے اور تعلقات معمول پر ہیں۔ تاہم یہاں پاکستان کی 1016 سرحدی چوکیوں کے مقابلے میں افغانستان کی 197 چوکیاں ہیں۔

جنوب کی مانند شمال میں بھی چیک پوسٹوں کی تعداد 29 فیصد کم کر دی گئی ہے۔

غلام خان ٹر مینل پر ہماری ملاقات افغانستان سے آنے اور جانے والے ڈرائیور حضرات سے ہوئی جن کا کہنا تھا کہ اب حالات بہتر ہیں اور بس وہ چاہتے ہیں کسٹم کے پیسے کچھ کم ہونے چاہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہاں سے روزانہ 150 گاڑیاں آتی جاتی ہیں۔

waziristan تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed

دکاندار چیک پوسٹوں کی کمی پر تو خوش ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ غلام خان بارڈر پر نہ تو تجارت کو محدود کیا جائے اور نہ ہی لوگوں کی آمدورفت کو کیونکہ افغانستان کی نسبت پاکستان کے دیگر علاقوں سے مال لانے پر تاجروں کو زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

پی ٹی ایم اور سرخ ٹوپی

یہاں کہیں کہیں پتھروں پر پی ٹی ایم لکھا ہوا ملتا ہے یا کہیں پی ٹی آئی کا جھنڈا دکھائی دیتا ہے۔ ہاں بہت سے گھروں اور قبروں پر آپ کو سفید اور سیاہ دھاری دار جھنڈا بھی ملے گا۔

ہاں کسی سے پوچھیں کہ سرخ ٹوپی (پی ٹی ایم کی مخصوص ٹوپی) کیوں پہنی ہے تو مسکرا کر یہ جواب دیا جاتا ہے ’ایسے ہی۔‘

’طالبان سے بھی ڈر اور فوج سے بھی‘

پورے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں میران شاہ ہسپتال کے باہر موجود سڑک وہ واحد جگہ تھی جہاں میں نے خواتین کو دیکھا۔

روایتی برقعے اوڑھے یہ خواتین صبح نو بجے کے قریب علاج کے لیے وہاں جا رہی تھیں۔

راحیلہ بیگم بھی ان میں شامل تھیں جن سے جب میں نے یہ سوال کیا کہ اب حالات کیسے ہیں تو جواب ملا کہ طالبان سے بھی ڈر لگتا ہے اور فوج سے بھی۔ پہلے صبح صبح پتہ کرتے تھے سکول کھلا ہے تو کہتے تھے بند ہے، اب تو کرفیو نہیں ہے، آنے جانے کی آزادی ہے۔‘

حکام کے مطابق یہاں صحت کے 291 مراکز بنائے گئے ہیں جبکہ تعمیر کیے گئے تعلیمی اداروں کی تعداد 780 ہے۔

میران شاہ میں ہی کچھ بچوں سے سکول اور کھیل کے میدان میں ملاقات ہوئی۔

waziristan تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption فوج کی جانب سے یہاں متعدد سکولز بنائے گئے ہیں۔ میران شاہ کا ایک ایسا ہی سکول

بارہ سے پندرہ برس کے ان بچوں کے حافظے میں اب بھی طالبان کے دور، آپریشن اور آئی ڈی پیز بن کر اپنے گھر چھوڑنے کی یادیں محفوظ ہیں کہ کیسے سکول کے باہر گیٹ پر طالبان پھرتے تھے۔ کرفیو میں کھیل کے میدان اور سکول جانا بند تھا اور گھروں کے اوپر ڈرون اڑتے پھرتے تھے۔

یہاں میری ملاقات دتہ خیل کے عبدالسلام سے بھی ہوئی جو ہاسٹل میں رہتے ہیں اور روہت خان سے بھی ہوئی جنھوں نے پشاور چھوڑ کر کیڈٹ کالج میں پڑھنے کے لیے یہاں ایک برس پہلے داخلہ لیا ہے۔

دہشت گردی کے نتیجے میں بہت س بچے یتیم بھی ہوئے۔ میر علی کے سویٹ ہوم میں 150 یتیم بچوں کو پانچ ماہ قبل داخل کیا گیا۔ یہ سویٹ ہوم پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان کی ٹیم پاکستانی فوج کے فراہم کردہ رہائش گاہ میں چلا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی درخواستوں کے پیش نظر اسے مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

’پہلے ہمیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے‘

شمال اور جنوب میں مردوں میں تعلیم کا تناسب 30 فیصد سے کم اور عورتوں میں پانچ فیصد بھی نہیں۔

میران شاہ میں دو کمروں پر مشتمل زرولی کوٹ سکول کی پرنسپل نے مجھے بتایا کہ اب بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور انھیں بڑے سکول کی ضرورت ہے۔

باہر برآمدے میں اپنی کتابیں کھولے بچیوں نے میرا مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا اور جب میں نے پوچھا سب کیسا ہے، خوش ہو؟ تو جواب ملا ’سب ٹھیک ہے لیکن ہمیں یہ سکول نہیں چاہیے ہمیں سفید رنگ والا سکول چاہیے‘۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
یہ والا سکول گندا ہے

ایک ننھی بچی نے دیواروں کی جانب اشارہ کر کے کہا ’یہ دیواریں دیکھیں ہمیں یہ سکول نہیں چاہیے۔۔۔ یہاں بو آتی ہے۔‘

پرنسپل شکیلہ نے بتایا کہ یہ سکول دہشت گردی میں تباہ ہوا تھا لیکن اب اس کی جگہ ووکیشنل سینٹر کی عمارت ہے۔

وزیرستان میں ملنے والی خواتین اور بچوں کا پراعتماد انداز دیکھ کر میں سوچ رہی تھی کہ ایسا آپ کو شاید ملک کے بڑے شہروں میں بھی دکھائی نہ دے یا شاید وقت نے انھیں عمر سے پہلے ہی اتنا سمجھدار کر دیا ہے کہ وہ بالغ نظر ہو چکے ہیں۔

میر علی میں گذشتہ 14 برس سے تدریس کے شعبے سے منسلک یاسمین کی نظر میں اب یہاں کے لوگوں کا مزاج بدل رہا ہے اور وہ بیٹیوں کی تعلیم پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پہل پہل یہاں کے لوگ ہمیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔‘

لیکن اب وہ گھر گھر جا کر بچیوں کے والدین کو انھیں سکول اور وکیشنل سینٹر بھجوانے کو کہتی ہیں۔

مالا مال پہاڑ

یہاں بجلی دن بھر میں پانچ گھنٹے بھی دستیاب نہیں۔ کم ہی جگہیں تھیں جہاں میں گئی اور لائٹ موجود تھی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وزیرستان کے 70 فیصد عوام کے پاس بجلی کی سہولت ہے لیکن اس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ عوام کی جانب سے بل نہ دیا جانا ہے۔

وزیرستان تصویر کے کاپی رائٹ DC OFFICE SOUTH WAZIRISTAN
Image caption ابھی 30 فیصد علاقے کا سروے پاقی ہے اور بہت سے خاندان معاوضے کے منتظر ہیں

اس وقت حکام کو 107 ملین روپوں کی ضرورت ہے تاہم عوام کی جانب سے فقط 40000 روپے بلوں کی مد میں ملتے ہیں جبکہ 22 ملین حکومت ادا کرتی ہے۔

یہ علاقے معدنیات اور تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان عبدالناصر خان نے بتایا کہ یہاں سیاحت کے بہت سے مواقع موجود ہیں ’یہاں غلام خان میں ایک ریسٹ ہاؤس پر کام شروع ہو گیا ہے، دوسرا ہم نے رزمک اور تیسرا شوال میں بنانے کی تجویز دی تھی جن کی منظوری ملنے کی اسی برس امید ہے۔‘

انتظامیہ کے مطابق دتہ خیل، سپن وام اور شواہ میں تانبے، کرومائٹ اور تیل و گیس کے ذخائر ہیں۔

کم،لیٹس ٹاک (آئیے، بات کیجیے)

یہاں ملنے والے بچوں اور بڑوں سبھی نے یہ پیغام دیا کہ وزیرستان میں آئیے اب یہاں پہلے جیسا خطرہ اور خوف نہیں۔ یہی پیغام فوجی افسران اور اہلکاروں کا بھی تھا۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جو برس ہا برس سے یہاں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں جنھوں نے آپریشن سے پہلے اور طالبان کا دور بھی دیکھا۔

وہ وقت بھی جب وہ قریبی مارکیٹ میں سودا لینے نہیں جا سکتے تھے اور وہ بھی جب انھیں کئی ماہ بعد اگر گھر جانے کا موقع ملتا بھی تھا تو چند گھنٹوں کا کئی دنوں میں طے ہوتا تھا۔

واپسی کے سفر میں بکا خیل کیمپ سے گزرتے ہوئے مجھے ڈی سی عبدالناصر خان اور جی او سی، شمالی وزیرستان میجر جنرل ممتاز حسین کے ساتھ ہونے والی مختصر گفتگو یاد آرہی تھی۔

ڈی سی صاحب کے مطابق یہاں احتجاج تاجروں کا ہو یا کسی بھی اور کا بہت پرامن اور روایتی رقص کے ساتھ ہوتا ہے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

جب جی او سی صاحب سے جب یہ پوچھا کہ ناراض بچوں کو منایا کیوں نہیں جاتا جبکہ وہ یہاں کے منتخب نمائندے بھی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیراعظم کو بھی کہا ہے اور آپ اسے ہمارے حوالے سے بھی لکھ سکتے ہیں کہ ’آئیے، بات کیجیے‘ (Come, let's talk)۔

۔

اسی بارے میں