ہائی کورٹ نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس طلب کر لیں، لیکن ان کی بیماری کی نوعیت کیا ہے؟

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نیب عدالت سے العزیزیہ ملز کیس میں سزا پانے والے نواز شریف گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ تاہم ان کی ’بگڑتی طبیعت‘ کی وجہ سے ان کے ذاتی معالج اور ان کا خاندان ان کی جیل سے رہائی کا خواہش مند ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اب سابق وزیرِ اعظم کی میڈیکل رپورٹس طلب کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کی ان کی درخواست پر سماعت چھ فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

ان کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ انھیں نواز شریف تک رسائی نہیں دی جا رہی اور ان کی میڈیکل رپورٹس بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب پنجاب حکومت کا اصرار ہے کہ نواز شریف کو ’تمام تر طبی سہولیات میسر ہیں اور ان کے خاندان کو مکمل رسائی بھی حاصل ہے۔‘

لیکن سوال یہ ہے کہ نواز شریف کی بیماری کی حقیقی نوعیت کیا ہے؟

مزید پڑھیے

’میڈیکل رپورٹس آجائیں تو پھر اس معاملے کو دیکھا جائے گا‘

نواز شریف کوٹ لکھپت کیوں منتقل ہوئے؟

’اے میرے دل کہیں اور چل۔۔۔‘

’مجھے واپس جیل بھجوا دیں، یہاں سکون نہیں‘

پمز میں نواز شریف کا ’صدارتی کمرہ‘

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’نواز شریف ایک ہی وقت میں کئی طبی پیچیدگیوں کا شکار ہیں اور انھیں ہسپتال میں علاج کی فوری ضرورت ہے۔‘

پہلے میڈیکل بورڈ کی رائے

نواز شریف کی جانب سے کندھے اور بازو میں تکلیف کی شکایت پر رواں ماہ علامہ اقبال میڈیکل کالج جناح ہسپتال کے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا گیا۔ بورڈ نے نواز شریف کے معائنے کے بعد جو سفارشات دیں ان میں انھیں ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

نواز شریف ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے ساتھ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ اس کے ساتھ انھیں گردے کی سٹیج تھری کی بیماری کی تشخیص بھی کی گئی ہے۔

سٹیج 3 کرانک کڈنی ڈزیز یعنی سی کے ڈی کا مطلب ہوتا ہے کہ اس مرض میں مبتلا شخص کے گردوں کو معتدل نوعیت کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گردوں کا عارضہ

گذشتہ 20 برس سے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کا کہنا تھا ’نواز شریف کو گردے کی بیماری حالیہ تشخیص ہے۔‘

سٹیج 3 سی کے ڈی میں انسان کے گردے میں نصب فلٹرز یعنی گلومیرولائے سے فی منٹ گزرنے والی خون کی مقدار میں کمی آتی ہے۔ یعنی خون صاف کرنے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔

70 سال سے کم عمر کے ایک صحت مند شخص میں یہ شرح 60 ملی لیٹر فی منٹ ہونا نارمل تصور کیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے بورڈ کی رپورٹ کے مطابق ’69 سالہ نواز شریف میں یہ شرح 50 ملی لیٹر فی منٹ پائی گئی۔‘

ڈاکٹر عدنان کے مطابق گردوں کی بیماری میں سٹیج پانچ آخری ہوتی ہے جس میں مریض کے گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اسے ڈائلیسس یعنی مصنوعی طریقے سے خون کی صفائی کے عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

’نواز شریف تیزی سے اس طرف جا رہے ہیں۔ ان کے (خون میں) یوریا اور کریٹینائن کی مقدار زیادہ ہے۔ حال ہی میں ان کے گردوں کا الٹرا ساؤنڈ ہوا تھا جس میں ان کے گردوں میں پتھریاں اور گلٹھیاں بھی پائی گئیں ہیں۔‘

’دل کے دو دورے پڑ چکے ہیں‘

ڈاکٹر عدنان کے مطابق نواز شریف کو کچھ دنوں سے انجائنا یعنی سینے میں تکلیف کی شکایت ہو رہی تھی جو ان کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کی رپورٹ میں بھی اس بات کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ نواز شریف کے دل کے ایک حصے کو صاف خون کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

’نواز شریف کے دل کی حالت تسلی بخش نہیں ہے‘

’یہ ہی ان کے انجائنا کا سبب ہو سکتا ہے جو کہ ان کو مزید ایک دل کا دورہ پڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔‘ ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل راولپنڈی کے ’اڈیالہ جیل میں قید کے دوران نواز شریف میں ایسی ہی علامات پیدا ہوئیں تھیں جس کے بعد انھیں دل کا دورہ پڑا تھا۔‘

ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو اس کے بعد اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیرِ علاج رکھا گیا تھا جہاں کے ڈاکٹروں نے اپنی ڈسچارج رپورٹ میں لکھا تھا کہ انھیں دل کا دورہ پڑا تھا۔

’اس سے قبل سنہ 2003 میں بھی نواز شریف کو دل کا دورہ پڑ چکا ہے اور وہ خطرے میں ہیں۔ ان کی بیماری کافی پیچیدہ ہے۔‘

پیچیدگی کیا ہے؟

علامہ اقبال میڈیکل کالج کے بورڈ کی سفارشات میں ایک شق بھی ہے کہ اگر کارڈیالوجی بورڈ ان کا کارونری اینجیو گرام تجویز کرتا ہے تو اس صورت میں انھیں ’کانٹراسٹ اِنڈیوسڈ نیفروپیتھی‘ یعنی گردے کے نظام کی خرابی کا ’ہلکے سے معتدل‘ نقصان کا خطرہ ہو گا۔

ان کے معالج ڈاکٹر عدنان کے مطابق نواز شریف کی کارونری اینجیو گرام ہونا ضروری ہے اور اس کے دوران ان کی بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنا ہو گا۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا دل کا بائی پاس ہو چکا ہے جس میں انھیں چار گرافٹ لگائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک گرافٹ کامیاب نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد ان کی ایک اینجیو گرافی ہوئی جس میں وہ گرافٹ نہیں دیکھا گیا۔

’اس میں خون کی فراہمی ہی نہیں تھی۔ یہ وہی جگہ ہے جو تھیلیئم سکین میں بھی نظر آئی ہے۔اس لیے انھیں کارونری اینجیوگرام کی ضرورت ہے۔ گرافٹ کو دیکھا جانا چاہیے اور یہ دیکھا جائے کہ ان کے دل کو خون کی فراہمی کو کیسے بحال کیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’نواز شریف کو ہسپتال منتقل کیا جائے‘

مہتمم سینٹرل جیل پنجاب کے خط پر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا ایک تین رکنی بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے نواز شریف کے دل کے عارضے کے حوالے سے کئی ٹیسٹ بھی کیے۔

انھوں نے تجویز کیا کہ ’نواز شریف کی بیماری کی نوعیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کی دی جانے والی ادویات کو جاری رکھا جائے اور کسی بھی قسم کے خطرے کے امکانات کو ٰموڈیفائیٰ کیا جائے۔‘

بورڈ نے یہ بھی تجویز کیا کہ تین اداروں یعنی آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک وسیع بورڈ تشکیل دیا جائے جو نواز شریف کے عارضے کی مزید ’مینیجمنٹ‘ تجویز کرے۔

محکمۂ داخلہ پنجاب کے ایک خط کے مطابق 25 جنوری کو چھ رکنی وسیع بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے جس میں ان تینوں اداروں سے دو دو ڈاکٹر شامل ہیں۔ ‘بورڈ نواز شریف کا معائنہ کرنے کے بعد محکمۂ داخلہ پنجاب کو رپورٹ جمع کروائے گا۔‘

تاہم ڈاکٹر عدنان کے مطابق اس بورڈ نے تاحال ان سے رابطہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘بہتر ہوتا کہ نواز شریف کو ہسپتال منتقل کر کے علاج شروع کر دیا جاتا۔ اس کے بعد بھی بورڈ ان کا معائنہ وغیرہ جاری رکھ سکتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نواز شریف کو فوری علاج کی ضرورت ہے جو انھیں ہسپتال کے ماحول میں مل سکتا ہے۔ ’نواز شریف کی موجودہ حالت ذہنی پریشانی اور اسٹریس کا نتیجہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

’نواز شریف کو جیل میں مکمل طبی امداد مہیا ہے‘

وزیرِ اعلٰی پنجاب کے ترجمان شہباز گِل نے گذشتہ جمعہ کو ایک ویڈیو پیغام میں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ان پیغامات کی تردید کی تھی کہ نواز شریف کے خاندان کے افراد کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

’یہ جھوٹ پر مبنی معلومات ہیں۔ وہ جب نواز شریف سے ملنا چاہیں مل سکتی ہیں۔ جمعرات کو ان کی ملاقات کا دن ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی وہ جب بھی چاہیں جیل میں ملاقات کے اوقات میں ان سے مل سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’جیل کا ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد پر نواز شریف کا معائنہ کرتا ہے۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے بورڈ کی تجاویز کے مطابق نواز شریف کو کم نمک اور کم پروٹین والی خوراک بھی دی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کی تجاویز پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے جبکہ حال ہی میں تشکیل کردہ سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل وسیع بورڈ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں