لورالائی ایک ماہ میں چار حملوں کا نشانہ کیوں بنا؟

لورا لائی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لورا لائی میں شدت پسندوں کے ساتھ تصادم کے بعد سکیورٹی میں اضافہ دیکھا گیا ہے

بلوچستان کے پشتون آبادی والے شہر لورالائی میں منگل کے روز ہونے والے حملے میں نو پولیس اہلکار ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے۔ یہ اسی ماہ جنوری میں ہونے والا چوتھا حملہ ہے، جس میں دو خودکش حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات شامل ہیں۔

حکومتی موقف کے مطابق لورالائی کے یہ واقعات پاکستان کی ترقی کے خلاف سازش ہیں، جبکہ بعض حلقے اسے بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ’طالبانائزیشن‘ پھیلنے یا پھیلانے کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لورالائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر حملہ، نو ہلاک

لورالائی میں چھاؤنی پر حملہ، حملہ آوروں سمیت آٹھ ہلاک

یکم جنوری کو لورالائی کینٹ پر چار خودکش حملہ آوروں کے حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ گیارہ جنوری کو کوئٹہ روڈ پر بلوچستان ریزیڈنشل کالج کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ہونے حملے میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔

اگلے ہی دن 12 جنوری کو شہر کے سماجی کارکن اور ایدھی کے مقامی انچارج بازمحمد عادل کو اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جب وہ شہر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے خلاف ریلی نکالنے کا اعلان کررہے تھے۔

لورالائی کوئٹہ سے لگ بھگ 200 کلومیٹر پر واقع پشتونوں کا شہر ہے جہاں مختلف قبائل آباد ہیں۔ سنہ 2012 اور 2013 میں جب بلوچستان کے پشتون علاقوں میں اغوا اور دہشت گردی کے بعض واقعات رونما ہوئے تو یہ اطلاعات تھیں کہ لورالائی کے جنوب مشرق میں ضلع ژوب کے تحصیل مرغہ کبزئی اور شمال مغرب میں ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی کے بعض علاقوں میں مسلح طالبان سرگرم ہیں۔

بعد میں سکیورٹی فورسز نے انہی اور آس پاس کے علاقوں میں متعدد اپریشنز کیے، جن میں دہشت گردوں کو مارنے کا دعوی بھی کیا گیا۔

اُس وقت بھی یہ اطلاعات تھیں کہ فاٹا اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کی وجہ سے دہشت گرد بلوچستان کے پشتون علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

لورالائی میں بعض حکومتی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے ’سلیپر سیلز‘ عرصہ دراز سے موجود تھے لیکن سرگرم نہیں تھے تاہم اب اُن کے اچانک متحرک ہونے کے سوال کا جواب کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلوچستان میں ایک عرصے سے شورش جاری ہے

بی بی سی نے لورالائی کے آس پاس دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سلیپر سیلز کے حوالے سے صوبے کے وزیرداخلہ ضیاءاللہ لانگو سے بات کی اور پوچھا کہ اگر واقعی کیمپس ہیں، تو حکومت اتنے عرصے سے خاموش کیوں تھی؟

وزیر داخلہ نے ان رپورٹس کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کوئی بنانا سٹیٹ نہیں، جہاں حکومت اور ریاستی اداروں کی موجودگی میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپس موجود ہوں‘۔

لورالائی سے رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر محمد خان تور اُتمانخیل اپنے حلقے میں ان واقعات کا الزام انڈیا، اسرائیل اور افغانستان پر ڈالتے ہیں۔ صوبائی وزیر اس کا واحد حل افغانستان کے ساتھ بارڈر کو سِیل کرنا قرار دے رہے ہیں اور اُن کے مطابق افغانستان کے ساتھ آنا جانا ویزے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ خود صوبائی حکومت ان واقعات کی روک تھام کے لیے کیا کررہی ہے؟ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت نے سکیورٹی کی ساری ذمہ داری ایف سی کو دی ہے اور حکومت باقاعدہ ایف سی کی فنڈنگ کرتی ہے۔

لورالائی سے قومی اسمبلی کے سابق رکن اور جمعیت علما اسلام کے رہنما مولوی امیرزمان نے حالیہ واقعات پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صرف اتنا جواب دیا کہ وہ سچ نہیں بول سکتے۔ 'میرے خیال میں اگر پاکستان میں حکمران، سیاستدان اور عوام سچ کہیں، تو پورے پاکستان میں امن آسکتا ہے۔'

اسی شہر سے صوبائی اسمبلی کے سابق رکن اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما بابت لالا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بعض قوتیں سوات اور وزیرستان کے بعد بلوچستان کے پشتون بیلٹ کو بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں، لیکن یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے۔

اسی بارے میں