وزیرستان کی عورتیں:’طالبان سے بھی ڈر لگتا تھا اور فوج سے بھی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
وزیرستان کی خواتین ایک لمبا عرصہ کیمپوں میں گزار کر اب گھروں کو واپس آئی ہیں

بی بی سی کی ٹیم نے حال ہی میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا۔ وزیرستان سے تعلق رکھنے والی اور وہاں کئی برسوں سے روزگار کے لیے رہائش پذیر کچھ خواتین نے ہماری ساتھی حمیرا کنول کو وہاں کے حالات اور مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔ یہ تحریر انھیں خواتین کی کہانیوں پر مبنی ہے۔

’ہمیں تو طالبان سے بھی ڈر لگتا تھا اور فوج سے بھی‘

میرا نام راحیلہ ہے۔ قطب خیل کے ایک گاؤں سے علاج کے لیے آئی ہوں۔

ہمیں تو طالبان سے بھی ڈر لگتا تھا اور فوج سے بھی۔ فوج سے اس لیے کہ پہلے جب بھی ہم پتہ کرتے تھے کہ سکول کھلا ہے، باہر نکلنے کے لیے تو کہا جاتا تھا نہیں، کرفیو ہے۔ مگر اب تو سب ٹھیک ہے، آزادی ہے۔

جب آپریشن ہوا تھا تو ہم بنوں چلے گئے تھے۔ آئی ڈی پیز بن کر وہاں رہے۔ مشکل حالات تھے۔لیکن جب ہم واپس گھر لوٹے تو ہمارا گھر ٹوٹ چکا تھا۔

مزید پڑھیے

طالبان، فوج، ’نو گو ایریا‘: جنوبی و شمالی وزیرستان کا سفر

’ہم نے انھیں مستقبل دینا ہے چاہے وہ کسی کے بھی بچے ہوں‘

’فیلڈ میں کارروائی کر کے دل کو اطمینان ہوتا ہے‘

’خواتین کے پولنگ سٹیشن اپنے علاقے میں قائم کیے جائیں‘

ہمیں سروے کے بعد معاوضہ تو ملا ہے لیکن اتنے پیسوں سے گھر نہیں بن سکتا۔ بہت مشکل ہے رہنے میں۔ میرا شوہر ڈرائیور ہے، ہمارا گزارہ نہیں ہو پاتا۔

اب میں قطب خیل میں ایک سکول کے ساتھ موجود کمرے میں رہتی ہوں کیونکہ جو چار لاکھ معاوضہ ملا ہے اس سے پورا گھر نہیں بن سکا۔

میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ میں تو نہیں پڑھ سکی، دل کرتا ہے وہ اچھا پڑھ سکے لیکن ہمارے حالات اچھے نہیں ہیں۔

ہاں ہم گھروں سے باہر اکیلے نہیں نکلتے۔ ہاں بازار بھی نہیں جاتے۔

کچھ عرصے سے مجھے گردے کی تکلیف ہو رہی ہے۔ یہاں میران شاہ میں ہسپتال تو ٹھیک ہے پہلے چھوٹا تھا اب انھوں نے اسے بڑا کر دیا۔ لیکن ہماری تکلیف ہمارے خراب معاشی حالات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption جب آپریشن کے بعد گھر لوٹے تو وہ ٹوٹ چکا تھا

’کبھی ایک پہاڑ پر رہتے تھے، کبھی دوسرے پر‘

میرا نام عالیہ ہے۔ میرے تین بچے ہیں اور ایک بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔

ایک سال پہلے ہی ہم نے پہاڑی علاقے کو چھوڑ کر یہاں سراروغہ میں سڑک کے قریب گھر بنایا ہے۔

یہاں ہم خوش ہیں، پانی بھی قریب ہے۔ وہاں تو اتنے دور سے پانی لانا پڑتا تھا۔ کتنی دیر تک تو ہماری سانس ہی بحال نہیں ہوتی تھی۔

لیکن میری نظر میں یہاں ہمیں سب سے بڑا مسئلہ کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر کا نہ ہونا ہے۔ یہاں پر سرکاری ڈاکٹر نہیں ہے جو زچہ بچہ کے لیے ہو۔

میرے دو بچے تو نارمل پیدا ہوئے، ایک آپریشن سے ہوا اور مجھے ٹانک جانا پڑا۔

آپریشن کے دوران اور طالبان دور میں ہمارے خاندان کا تو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن سنہ 2009 میں ہمیں میر علی اور خیسور میں جا کر رہنا پڑا تھا۔

میرے بچے اور ہم کبھی ایک پہاڑ پر رہتے تھے کبھی دوسرے پر۔ بہت مشکل وقت کاٹا ہم نے، بہت مشکل تھی۔

بہت برا حال تھا جب ہم یہاں سے نکلے تھے، خالی ہاتھ نکلے تھے اور جب ہم واپس اپنے علاقے میں آئے تو گھر گرے ہوئے تھے۔

اب آنے جانے کی دشواری نہیں۔ ہم ٹانک اور بنوں جاتے ہیں، رشتے داروں کے گھر بھی جاتے ہیں۔

میری خواہش ہے کہ بچے دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم حاصل کریں۔ میں خود تو قرآن بھی نہ پڑھ سکی اور سکول بھی نہیں جا سکی۔ اب ہمارے بچے سکول جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption یاسمین کہتی ہیں اب میں پندرہ دن بعد بنوں جا کر گھر والوں سے مل سکتی ہوں

’یہ لوگ بدل رہے ہیں اور تعلیم بھی عام ہو گئی ہے‘

میرا نام یاسمین ہے۔ میں پچھلے 14 برس سے یہاں میر علی میں نوکری کر رہی ہوں۔

میری تو سمجھیں ساری زندگی ہی ادھر گزر گئی ہے۔

ہم تو ہمیشہ سے اپنی ڈیوٹی اچھی طرح کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

یہ ہوسٹل تو ابھی بنا ہے پہلے ہم سب ٹیچرز یہاں علاقے کے ملک کے گھر میں رہتی تھیں۔

ایک ہی کمرے میں چار چار لوگوں کو رہنا پڑتا تھا۔ ملک ہی ہمارے کھانے پینے کا انتظام کرتے تھے۔

یہاں کے لوگ بہت پردہ کرتے ہیں تو ہم میں اور ان میں بہت فرق تھا۔ وہ ہمیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے کہ ہم یہاں کیوں آ گئی ہیں اپنے گھروں کو چھوڑ کر۔ یہ سب مشکل کام تھا ہمارے لیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/ DC OFFICE
Image caption شمالی وزیرستان میں لڑکیوں کے ایک سکول کا منظر۔ ابھی تعلیمی سہولتوں کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے

یہاں پہلے تعلیم کو پسند نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب یہ لوگ بدل رہے ہیں اور تعلیم بھی عام ہو گئی ہے۔ میں خود ان لوگوں کے گھر گھر میں گئی اور بچیوں کے والدین کو تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔

میں نے انھیں بتایا کہ تعلیم سے ذہن خراب نہیں ہوتے یہ اچھی چیز ہے۔ ہم نے بھی پڑھا ہے اور کام کر رہے ہیں۔ اب ان کے ذہن میں ہماری بات بیٹھ گئی ہے۔

اب میری کلاس میں بچیاں آتی ہیں۔ بڑی بچیاں ہیں تقریباً 15، 16 سال ان کی عمر ہے اور وہ چوتھی، پانچویں اور چھٹی کلاس میں پڑھتی ہیں۔ اب تو اللہ کا شکر ہے کہ وزیرستان کے حالات بہت اچھے ہو گئے ہیں۔

ایسا نہیں تھا کہ طالبان کے دور میں ہمیں ان کی جانب سے کبھی کچھ کہا گیا ہو۔ لیکن ان کی کارروائیوں کی وجہ سے ہم گھر نہیں جا سکتے تھے۔ فون بھی زیادہ کام نہیں کرتا تھا۔ مہینے مہینے گھر والوں سے بات نہیں ہوتی تھی۔ والدین کیسے ہیں خاندان والے کیسے ہیں کچھ خبر نہیں ہو پاتی تھی۔

پہلے تو یہاں کی عورتیں تک ہم سے گھلتی ملتی نہیں تھیں۔ ہم سے بات تک نہیں کرتی تھیں لیکن وقت بدلنے کے ساتھ یہاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب ہمیں یہاں وکیشنل سینٹر میں ہوسٹل کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

یہاں کی عورتوں سے اب میری دوستی ہو گئی ہے۔ یہ بہت محبت کرنے والی عورتیں ہیں۔ اب یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ اچھی بات ہے کہ ہمارے بچے پڑھیں بھی اور کچھ سیکھ بھی لیں۔

’اگر کوئی آنا چاہتا ہے تو بہت اچھی جگہ ہے وانا‘

میرا نام لائبہ ہے۔ یہیں وانا چھاؤنی میں 16 برس پہلے پیدا ہوئی۔ ابو ایف سی میں ہیں، اب تو بس دو سال بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔

ہمارا تعلق بنوں سے ہے۔ شاید ابو کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ہم یہیں رہیں کیونکہ اب حالات اچھے ہیں اور ہمارا دل بھی ادھر لگ گیا ہے۔

میں نے یہیں موجود کالج سے ایف اے کیا ہے۔ ابھی سوچ رہی ہوں کہ بی اے پرائیویٹ کر لوں۔

یہاں وکیشنل میں ایک سال کا کورس کر رہی ہوں۔ کپڑے سینا اور کروشیا وغیرہ بنانا سکھایا جا رہا ہے۔ باجیاں اچھی ہیں یہاں ہمارا خیال کرتی ہیں۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں آگے وکیشنل میں ہی نوکری کر لوں۔

یہاں لوگوں نے بہت ہی مشکل وقت کاٹا ہے۔ میرے اپنے والد کو طالبان نے اغوا کر لیا تھا۔ وہ ٹائم بہت مشکل تھا۔ دس دن تک ہمیں نہیں پتہ تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ بعد میں ابو نے بتایا کہ انھیں بہت اذیت میں رکھا گیا۔ بھوکا پیاسا کنوئیں میں بھی ڈالا گیا۔

لیکن مشکل وقت کٹ گیا ہے۔ اب تو سب بہت اچھا ہے، بہتر ہے۔ ہم باہر بھی جا سکتے ہیں۔ اب گیٹ پر اجازت کی ضرورت نہیں، نہ ہی سکیورٹی کی۔ کبھی کبھی اڈے میں شاپنگ کرنے کے لیے جاتے ہیں۔

میرے خیال سے ابھی کوئی مسئلہ نہیں ہے یہاں پر، اگر کوئی آنا چاہتا ہے تو بہت اچھی جگہ ہے وانا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption یہاں آپ کو خواتین بہت کم دکھائی دیتی ہیں زیادہ تر سفر یا پھر ہسپتال کے لیے گھر سے نکلتی ہیں

’پہلے زندگی بہت مشکل تھی‘

میرا نام نازنین ہے۔ تعلیم میٹرک ہے۔ اب تو میں ایک بیٹے کی ماں ہوں۔

ہم گھروں سے باہر اکیلے نہیں نکلتے۔ میں زرولی کوٹ میں اپنی ٹیچر سے ملنے آئی ہوں تو بھی ابو باہر چھوڑ کر گئے ہیں۔

اب تو ہم آتے جاتے ہیں۔ پہلے زندگی بہت مشکل تھی۔ طالبان کے ڈر سے گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔

جب ہم آئی ڈی پیز بن کر یہاں سے نکلے۔ نہ گھر کا انتظام تھا نہ کچھ۔ شدید گرمیوں میں بہت تکلیفیں اٹھائیں ہم نے۔

’اب پیدل سکول آ جاتی ہوں پہلے ایسا نہیں ہو سکتا تھا‘

میرا نام شکیلہ ہے۔ میں تعلق تو بنوں سے رکھتی ہوں لیکن میرا سروس کا سارا ٹائم ادھر ہی گزرا۔ یہاں میران شاہ بازار میں میرا گھر ہے۔

میرا سکول بھی دہشت گردی اور آپریشن کے دوران تباہ ہوا اس کی جگہ تو ووکیشنل سینٹر بن گیا ہے۔

یہ ایک این جی او نے بنا کر دیا ہے سکول لیکن یہاں کی چار دیواری ٹھیک نہیں ہے۔ ابھی اور بچے آ رہے ہیں پڑھنے کے لیے۔ مجھے بچوں کے لیے بڑا سکول چاہیے۔

اب تو میں پیدل سکول آجاتی ہوں پہلے ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔

یا تو طالبان گروپوں میں باہر کھڑے ہوتے تھے یا فوج ہوتی تھی سڑکوں پر ایسے میں ہمیں گاڑی میں آنا پڑتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Ahmed
Image caption میران شاہ میں خواتین اور بچوں کے لیے فوج نے پہلے سے موجود سرکاری ہسپتال کے ساتھ ہی ایک الگ یونٹ بنایا ہے

’ہمارے نقصان کا ازالہ کسی نے نہیں کیا‘

میرا نام رحیم بی بی ہے۔ میں یہاں میران شاہ ہسپتال میں نوکری کرتی ہوں۔ 21 برس بیت گئے ادھر ہمیں۔

ہم نے طالبان کے دور اور پھر آپریشن کے دوران بھی ہسپتال میں کام کیا۔ ہفتے میں ایک، ایک نرس کی ڈیوٹی ہوتی تھی۔

مجھے یاد ہے طالبان بھی یہاں ہسپتال میں ادھر ادھر پھرتے تھے۔ یہیں لوگوں کے اندر سے بھی تو لوگ تھے ناں۔

ہاں یہ ہے کہ ہمیں عورتوں کو کبھی کسی نے کچھ نہیں کہا تھا۔

اب ہمیں ڈر تو نہیں لگتا بالکل بھی سب کچھ ٹھیک ہے لیکن ہمارے گھر بھی تباہ ہوئے، سامان تباہ ہوا، کوئی کچھ اٹھا کر بھی لے گیا لیکن ہمیں کوئی معاوضہ نہیں ملا کیونکہ ہم یہاں کے مکین نہیں۔

ہمارے نقصان کا ازالہ کسی نے نہیں کیا۔

اسی بارے میں