سندھ: کپاس کی سفیدی پر مرچوں کی سرخی حاوی آنے لگی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کپاس کی برآمدات میں کمی: آخر سندھ کے کاشتکار مرچیں کیوں اُگا رہے ہیں؟

سردی کی سنہری دھوپ میں چمکتی سرخ مرچوں کی فصل کے قریب کاشت کار علی حسن بھٹی زمین کو ہموار کرنے کے لیے ٹریکٹر چلا رہے ہیں، وہ مرچوں کی اگلی فصل کی تیاری میں مصروف ہیں۔ چند سال پہلے تک اس زمین پر کپاس اگائی جاتی تھی لیکن اب انھوں نے طرز کاشت تبدیل کرلیا ہے۔

علی حسن بھٹی کا تعلق عمرکوٹ سے ہے وہ چھوٹے کاشت کار ہیں، کپاس کی جگہ مرچ کی فصل لگانے کی ایک بڑی وجہ وہ کپاس پر زیادہ لاگت اور منافع میں کمی کو بھی قرار دیتے ہیں۔

’کاٹن میں بہت بیماریاں آئیں اس لیے پیدوار کم ہوتی گئی۔ کاٹن زیادہ سے زیادہ 30 من پیدوار دیتی تھی اور اس کا ریٹ بھی زیادہ سے زیادہ چار ہزار روپے من ہوتا ہے جبکہ ہائبرڈ مرچ تقریبا ستر سے سو من خشک پیدوار دیتی ہے اور اس کا ریٹ بھی سات سے نو ہزار روپے من تک جاتا ہے، کاٹن کی تین یا زیادہ سے زیادہ چار چنائی ہوتی ہیں جبکہ مرچ کی سات سے آٹھ چنائی ہوتی ہیں اس لیے یہ کاشت کار کے لیے منافع بخش ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’کپاس کے علاقے میں شوگر ملز پاکستان سے زیادتی ہے‘

سندھ میں جدید کاشت کاری، کم خرچ زیادہ منافع

پاکستان میں عمومی طور پر اور سندھ میں خاص طور پر کپاس کی کاشت میں مسلسل کمی آرہی ہے، کاٹن کمشنر کے اعداد و شمار کے مطابق چھ سال پہلے کے مقابلے میں گذشتہ سال پندرہ لاکھ گانٹھیں کم پیدا ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ وہ غیرتصدیق شدہ بیج کے استعمال اور منافع میں کمی کو قرار دیتے ہیں۔

Image caption کپاس کی فصل ہزاروں کسانوں کی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے

سندھ، پنجاب کے بعد کپاس کی پیدوار میں دوسرے نمبر پر ہے، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں کاٹن کی کاشت کا تخمینہ ایک لاکھ 53 ہزار ایکڑ لگایا گیا تھا لیکن 35 فیصد ٹارگٹ حاصل نہیں ہوسکا ہے۔

کپاس کی فصل ہزاروں کسانوں کی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے، اس کی پیداور میں کمی کی وجہ سے کسانوں کی آمدن بھی کم ہو گئی ہے۔ نتیجے میں وہ مزید مقروض ہوگئے ہیں ان میں شریمتی منگو بھی شامل ہیں۔

منگو صبح آٹھ بجے آتی ہیں اور شام پانچ بجے گھر جاتی ہیں،بقول ان کے زیادہ کپاس ہو تو دو من تک چن لیتے ہیں لیکن اب تو صرف پانچ سے دس کلو چنتے ہیں، بس سو یا ڈیڑہ سو روپے ملتے ہیں۔ ’گذر کیسے ہوگا؟ بچے زیادہ ہیں۔ زمیندار سے قرضہ لے کر گذارا کر رہے ہیں۔‘

سندھ کا ضلع سانگھڑ کاٹن بیلٹ تصور کیا جاتا ہے جہاں سب سے زیادہ کپاس کی صفائی کے کارخانے موجود ہیں لیکن یہاں گذشتہ چار سالوں سے پانی کی مسلسل قلت بھی کپاس کی راہ میں رکاوٹ ہے، نتیجتاً لوگوں نے متبادل فصلیں اگانی شروع کر دیں۔ مگر یہ فیصلہ بھی سود مند ثابت نہیں ہوا۔

Image caption علی حسن بھٹی کا تعلق عمرکوٹ سے ہے وہ چھوٹے کاشت کار ہیں

کاشت کار رضا محمد خاصخیلی نے خشک زمین دکھائی جہاں کہیں کہیں چھوٹے سائز کے ٹماٹر لگے ہوئے تھے، انھوں نے بتایا کہ یہاں ان کی 371 ایکڑ زمین ہے جہاں وہ کاٹن کاشت کیا کرتے تھے۔

’پانی کی عدم دستیابی پر ہم نے یہاں ٹماٹر، سبزیاں اور گھاس اگائی لیکن انہیں بھی پانی نہیں مل سکا ہے جس سے ہمیں بہت نقصان ہوا ہے۔‘

پاکستان کی زیادہ تر ایکسپورٹس ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور ہوزری پر مبنی ہیں جو کپاس سے وابستہ ہیں، ٹیکسٹائل زرد مبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے اس کے علاوہ لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی۔

پاکستان کبھی یورپ اور دیگر ممالک کو کاٹن ایکسپورٹ کیا کرتا تھا، اس وقت امریکہ سے کاٹن امپورٹ کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس کی کاشت میں کمی کے پہلے سے بحران کا شکار معشیت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ٹیکسٹائل ڈویزن نے جدید بیج متعارف کرانے، کپاس کا معیار بہتر بنانے، جننگ کارخانوں کو اپ گریڈ کرنے سمیت مختلف اقدامات تجویز کیے ہیں جن کی منظوری اور عملدرآمد ہونا ابھی باقی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں