جبری گمشدگیاں: مجوزہ قانون سازی مثبت قدم تاہم خدشات موجود ہیں

جبری گمشدگیاں تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مجوزہ بل کو صحیح سمت میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم خدشات ابھی بھی موجود ہیں

تعزیراتِ پاکستان میں ترمیم کر کے جبری گمشدگی کو جرم قرار دیئے جانے کے حوالے سے مجوزہ مسودہ قانون بدھ کے روز وفاقی کابینہ کی قانون سازی سے متعلق امورکی ذیلی کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔

وزارتِ انسانیِ حقوق کے ایک اعلٰی عہدیدار کے مطابق وزارتِ قانون پہلے ہی اس مسودے کی ضروری جانچ پڑتال کر چکی ہے اور اگلے مرحلے میں وفاقی کابینہ سے توثیق کے بعد یہ مجوزہ بل پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔

گذشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت ہونے والی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں تعزیراتِ پاکستان میں ترامیم کر کے جبری گمشدگی کو جرم قرار دیئے جانے پر اتفاق کیا گیا تھا اور اس حوالے سے جاری مجوزہ قانون سازی کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

مجوزہ بل کو صحیح سمت میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم خدشات ابھی بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کمسن لڑکی جس کے آنسوؤں سے بھائی کی بازیابی ممکن ہوئی

کوئٹہ میں خواتین اور دودھ پیتے بچوں کا دھرنا

پاکستان میں دس ماہ میں 899 افراد لاپتہ: رپورٹ

جبری گمشدگیاں: ’700 کیس زیر التوا، مزید سینکڑوں کی اطلاع‘

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق منگل کے روز ہونے والی میٹنگ کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کا تحفظ اور ان کو یقینی بنانا ہمارے مذہب اور آئین کی بنیادی اقدار کا حصہ ہے اور یہ کہ موجودہ حکومت انسانی حقوق اور اقلیتوں اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کے حقوق کا ہر حال میں تحفظ کرے گی۔

حکومتی حلقے اس بات کا برملا اظہار کر رہے ہیں کہ نہ صرف دیگر وزارتیں بلکہ وزارتِ دفاع جس کے ماتحت وہ اینٹیلیجنس ادارے بھی کام کرتے ہیں جن کو اکثر اس حوالے سے موردہِ الزام ٹھرایا جاتا ہے مجوزہ بل کی تیاری میں شامل رہے۔

ایک وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ 'مجوِزہ بل تمام متعلقہ اداروں بشمول دفاع، خارجہ اور داخلہ امور، قانون اور انسانی حقوق کی وزارتیں شامل ہیں کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے تاکہ اس حوالے سے مکمل اتفاقِ رائے قائم کیا جا سکے۔آئی بی بھی مشاورتی عمل میں شامل رہی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’یہ ایک مثبت قدم ہے۔ سب کچھ راتوں رات ٹھیک نہیں ہو سکتا تاہم مجوزہ قانون کے پاس ہونے کے بعد کم از کم ہم یہ تو کہہ سکیں گے کے ملک میں اس حوالے سے کوئی قانون موجود ہے‘

بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثنا اللہ بلوچ کہتے ہیں کہ پاکستان کا سیکیورٹی اور سیاسی سیاق و سباق تبدیل ہو رہا ہے آج لوگوں کے پاس سماجی رابطوں کے ذرائع موجود ہیں اور وہ آگاہ اور باشعور ہیں جو پہلے ان مسائل پر نہیں بولتے تھے وہ اب بات کرنے لگے ہیں۔

'وہ تمام سٹیک ہولڈرز جو کسی بھی وجہ سے اس کام (جبری گمشدگیوں) میں ملوث رہے ہیں یا ہیں ان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اکیسویں صدی میں اور سوشل میڈیا کی موجودگی میں ہم وہ کام نہیں کر سکتے جو دنیا میں نا قابلِ قبول ہیں اور جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔'

ان کا کہنا تھا یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اور اس کا کریڈٹ بلوچستان نیشنل پارٹی کو بھی جاتا ہے جس نے حکومت سازی کے عمل کے دوران ہی ایسے مطالبات رکھے جن کا تعلق انسانی حقوق سے تھا اور ان کا اثر بلوچستان کے علاوہ پورے پاکستان میں دیکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تمام سیاسی جماعتیں جبری گمشدگیوں کے مسلئے پر متفق ہیں اور اس کا حل چاہتی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’تمام سیاسی جماعتیں جبری گمشدگیوں کے مسلئے پر متفق ہیں اور اس کا حل چاہتی ہیں‘

سماجی کارکن جبران ناصر کا کہنا تھا کہ سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں عدالتِ عظمی نے جبری گمشدگی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمان اپنا کام کر دے گی اصل مسلئہ قانون کی عملداری کا ہو گا۔

'مجوزہ قانون میں اس بات کی وضاحت کی جائے اور سزا متعین کی جائے کہ اٹھانے والا چاہے قومی مفاد میں کسی کو اٹھائے اسکی بھی جواب دہی ہو۔ مگر ہماری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ صرف قانون پاس کرنے سے اس حد تک تو ہوتا ہے کہ بیرونی دنیا کو آپ جواب دے سکیں مگر جب عملدرآمد کی بات آتی ہے تو تمام معاملات دم توڑ جاتے ہیں۔

انھوں نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ اس مجوزہ قانون سازی سے 'اٹھانے اور غائب کرنے کا سلسلہ کم نہیں ہو گا مگر شائد وہ چاہتے ہیں کہ حراست سے متعلق قوانین آسان کر دیئے جائیں اور لمبی تحویل دے دی جائے تاکہ اٹھا کر جو مقصد پورا کرنا ہوتا ہے وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پورا ہو جائے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'کون سے تھانے کا ایس ایچ او اس بات کی ہمت کرے گا کہ اگر اس کو بتایا جائے کہ فلاں گاڑی میں لوگ آئے تھے اور میرے باپ، بھائی یا بیٹے کو اٹھا کر لے گئے ہیں اور مجھے فلاں ایجنسی کے لوگوں پر شک ہے؟ جب تک ان کو نامزد نہیں کیا جائے گا اور ایف آئی آر میں نام نہیں آئے گا تب تک اس قانون کا حقیقی معنوں میں فائدہ نہیں ہو گا۔'

دوسری طرف ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ جو اس مجوزہ بل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں وہ درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے ذریعے حکومت موجودہ قوانین میں ترمیم کر کے جبری گمشدگیوں کو ایک جرم قرار دینے جا رہی ہے اور وہ ادارے جو اس مجوزہ قانون کے اطلاق کے ذمہ دار ہوں گے انھیں اپنا کام کرنا ہو گا۔

'اگر کسی بھی وجہ سے ایک قاتل جرم کرنے کے بعد بھی بچ نکلے تو کیا ہم قتل کو جرائم کی فہرست سے نکال دیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جبری گمشدگی کو ایک جرم قرار دینا درست سمت میں پہلا قدم ہو گا`

وکیل انعام الرحیم جو عدالتوں میں جبری طور پر گمشدہ افراد کی نمائندگی کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ بہت عرصے سے مطالبہ تھا کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے، جبری طور پر گمشدہ افراد کو برآمد کیا جائے اور جو ادارے اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

انھوں نے کہا 'یہ ایک مثبت قدم ہے۔ سب کچھ راتوں رات ٹھیک نہیں ہو سکتا تاہم مجوزہ قانون کے پاس ہونے کے بعد کم از کم ہم تو کہہ سکیں گے کے ملک میں اس حوالے سے کوئی قانون موجود ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ ادارے جو اس کام میں ملوث ہیں وہ آخری وقت تک اس قانون کی مخالفت کریں گے تاہم اب بہتری کا امکان ہے۔

ماہرِ قانون ریما عمر کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگی اور ایسا کرنے والوں کی مکمل معافی کے عمل کی روک تھام کے لیے قانون اور پالیسی میں جامع اصلاحات کی ضرورت ہے اور جبری گمشدگی کو ایک جرم قرار دینا اس سمت میں پہلا قدم ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مجوزہ بل میں اس حوالے سے موجود انٹرنیشنل کنوینشن کی روشنی میں گمشدگی کی واضع تعریف بیان کی جائے ،ذمہ داران کا تعین اور اس جرم کو ناقابلِ معافی بنایا جائے اور ملزمان کو سول کورٹ میں پیش ہونے کا پابند بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کیا ترامیم پیش کرتی ہے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے تاہم ایک مکمل قانون جس میں تفشیش اور مقدمہ چلانے کے علیحدہ سے ضوابط ہوں اس مسلئے کا بہترین قانونی حل ہیں بجائے تعزیراتِ پاکستان میں اس حوالے سے ایک ترمیم کے۔

اسی بارے میں