سات ہفتے مغوی رہنے والے کوئٹہ کے ڈاکٹر کی گھر واپسی

پاکستان

گذشتہ سال اغوا کیے جانے والے کوئٹہ کے ڈاکٹر ابراہیم خلیل کو تقریباً 50 دن قید میں رکھنے کے بعد ان کے اغواکاروں نے ان سے کہا کہ منہ دیوار کی طرف پھیر کر، بغیر ادھر اُدھر دیکھے سو تک گنو اور گنتی مکمل ہونے کے بعد آنے والی گاڑی میں بیٹھ کر چلے جاؤ۔

لیکن ڈاکٹر ابراہیم خلیل تھکاوٹ اور ذہنی کرب و تکلیف کی وجہ سے اپنی رہائی کے لمحات کے بارے میں خود کچھ بتانے سے قاصر تھے اور ان کی مدد کرتے ہوئے یہ قصہ ان کے ساتھی ڈاکٹر ظاہر خان مندو خیل نے سنایا۔

ڈاکٹر ابراہیم خلیل شیخ کو 13 دسمبر2018 کو کوئٹہ شہر میں سیکورٹی کے حوالے سے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔

ایک روز قبل جب ڈاکٹر ابراہیم خلیل شیخ کی گھر پہنچے تو ان کے اہلخانہ، قریبی رشتہ داروں اور دوست احباب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

سخت تھکن کے شکار ڈاکٹر ابراہیم خلیل شیخ کے چہرے سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کتنی تکلیف میں ہیں اور میڈیا سے بات کرنے سے قاصر ہیں۔

البتہ انھوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہیں لیکن دو راتوں سے نہ سونے کی وجہ سے اور اغوا کاروں کی جانب سے نشہ آور ادویات دینے کی وجہ سے وہ زیادہ بول نہیں سکتے۔

تقریباً سات ہفتے قبل ان کے اغوا کے بعد کوئٹہ میں ڈاکٹروں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے بائیکاٹ کی وجہ سے پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی سکت نہ رکھنے والے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔

چند روز قبل ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو بتایا گیا تھا کہ انھیں سرحد پار منتقل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ظاہر خان مندوخیل نے بتایا کہ یہ خبر جھوٹی تھی اور ان کے مطابق ڈاکٹر ابراہیم خلیل نے ان کو بتایا کہ انھیں کراچی میں چھوڑ دیا گیا۔

ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ظاہر خان مندوخیل کے مطابق رہائی سے قبل اغوا کار انھیں کراچی لائے اور ایک مقام پر ان کو گاڑی سے اتارنے کے بعد انھیں وہاں منہ دیوار کی جانب کرنے کو کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اغوا کاروں نے ان کو پانچ ہزار روپے تھما کر کہا کہ سو تک گنتی گننے تک کسی کی جانب نہیں دیکھنا۔ اس کے بعد گاڑی آئے گی اس میں بیٹھ کر چلے جانا۔'

انھوں نے بتایا کہ گاڑی میں بیٹھ کر ڈاکٹر ابراہیم خلیل وہاں سے نکلے اور پوری رات سفر کرنے کے بعد صبح کوئٹہ پہنچے۔

ڈاکٹر ابراہیم خلیل کے مطابق ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے دوران ہمیشہ نشہ آور دوائی دی جاتی تھی اور اسی طرح رہائی کے وقت بھی ان کو ایسی دوائی دی گئی تھی جس کے باعث وہ دوران سفر سوتے رہے اور اگلی صبح جب سریاب روڈ پر ان کو جگایا گیا تو وہ ہیلپر ہسپتال کے سامنے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہاں انہوں نے گاڑی والے کو اپنے گھر کا پتہ بتادیا جس نے انہیں گھر پہنچا دیا ۔

انہوں نے کہا کہ اغوا کاروں نے انھیں سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کو وزنی زنجیروں سے باندھ کر رکھا۔

ڈاکٹر ظاہر خان مندوخیل نے بتایا کہ ان کے ساتھی ڈاکٹر کی بازیابی کے لیے حکومتی سطح پر کوئی کردار ادا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'ڈاکٹر خلیل نے ہمیں بتایا کہ پانچ کروڑ روپے کے بھاری تاوان ادا کرنے کے بعد ان کی رہائی ممکن ہوئی۔'

تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ ان کے نزدیک تاوان دینے کی بات صحیح نہیں ہوسکتی اور اس میں حقیقت نہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اغوا کار گروہوں کے خلاف کاروائیوں کاسلسلہ جاری ہے اور پہلے بھی ان کاروائیوں کے نتیجے میں متعدد اغوا کار گروہ ختم کیئے گئے ۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے ایک سینئر ڈاکٹر کی بازیابی کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے ایک مقام سے عمل میں آئی تھی ۔ ان کی بازیابی کے حوالے سے بھی ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وہ پانچ کروڑ روپے دیکر رہا ہوئے تھے۔

حکومت کی جانب سے متعدد بار تحفظ کی یقین دہانی کے باوجود بلوچستان کے ڈاکٹر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی کے مطابق ان کے عدم تحفظ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ دس سال کے دوران 18 ڈاکٹروں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 30 سے زائد کو اغوا کیا گیا جن کی بازیابی تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی عمل میں آئی ۔

ایکشن کمیٹی کے مطابق عدم تحفظ کے باعث 90 ڈاکٹرز بلوچستان چھوڑ کر چلے گئے جبکہ دو ڈاکٹر گزشتہ کئی سال سے لاپتہ بھی ہیں۔

متعلقہ عنوانات