پاکستان کے لیے کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کا مطلب کیا ہے؟

ڈالر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملکوں کی معیشت کی عالمی سطح پر درجہ بندی کرنے والے بین الاقوامی ادارے سٹینڈرڈ اینڈ پورز ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی طویل المدتی معاشی درجہ بندی کم کرتے ہوئے اسے ’بی‘ سے ’منفی بی‘ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی مارکیٹ سے پاکستان کو مہنگے قرض سے ملیں گے۔

پاکستان اپنے مالیاتی اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اس وقت آئی ایم ایف اور بعض ملکوں کے ساتھ قرضوں کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی درجے میں کمی کے ان مذاکرات پر منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔

معاشی درجہ بندی یا کریڈٹ ریٹنگ کا مقصد کیا ہے؟

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی درجہ بندی کا مقصد کسی معیشت کو لاحق خطرات کا جائزہ اور اس کی بنیاد پر اس کی ریٹنگ متعین کرنا ہوتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور انٹرنیشنل کیپیٹل مارکیٹ اس ریٹنگ کو سامنے رکھتے ہوئے کسی ملک کو قرضہ جاری کرنے کے لیے مارکس کا تعین کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دوست ملک اور آئی ایم ایف سے قرض لینے میں کیا فرق ہے؟

آئی ایم ایف کے پاس جانے کے تین فائدے اور تین نقصان

مالیاتی بحران: حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ

’پاکستان کے لیے آئی ایم ایف بیل آؤٹ کا جواز نہیں‘

کریڈٹ ریٹنگ ایک ملک کی معیشت اور اس کی حالت کے بارے میں ایک معیار ہے جو پرکھتا ہے کہ اس ملک کی قرض لینے کی کیا قابلیت ہے۔ کم کریڈٹ ریٹنگ کا مطلب ہے کہ قرض حاصل کرنے والے ملک کو سخت شرائط پر قرض ملے گا جبکہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ کا مطلب ہے کہ شرائط نسبتاً نرم ہوں گی۔

اس ریٹنگ کے تعین میں قرض کی واپسی سے جڑے خدشات کو بھی مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی درجے میں کمی کے آئی ایم ایف سے مذاکرات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

کریڈٹ ریٹنگ کیسے کی جاتی ہے؟

بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں کسی ملک کی درجہ بندی کا تعین اس کی حیثیت کو لاحق خطرات کی بنیاد پر کرتی ہیں۔

دنیا میں تین بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ہیں۔ مودیز، فچ اور سٹینڈرڈ اینڈ پوور جو دنیا کے تمام ممالک کی کریڈٹ ریٹنگ کے بارے میں جائزے جاری کرتی ہیں۔

یہ مختلف ممالک کی جانب سے جاری کردہ بانڈز اور دوسرے معاشی اور اقتصادی اشاریوں کے بارے میں بھی جائزے اور رپورٹس جاری کرتی ہیں۔

پاکستان کی درجہ بندی میں تنزلی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

ایس اینڈ جی کی جانب سے تنزلی کے فیصلہ کے بعد پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں بشمول آئی ایم ایف، عالمی بینک، اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت انٹرنیشنل مارکیٹ میں آئندہ بھی جاری کیے جانے والے مجوزہ بانڈز پر زیادہ سود ادا کرنا پڑے گا کیونکہ اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور موجودہ حکومت اصلاحی اقدامات کرنے سے گریزاں ہے۔

اس کے علاوہ بی منفی ہونے کے نتیجے میں ملک کو مہنگے دام پر قرض ملے گا اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ فنڈ کی انتظامیہ اور بورڈ کے اراکین اس منفی گریڈنگ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے سامنے مزید سخت شرائط پیش کریں گے۔

پاکستان کو مزید ایک ارب ڈالر سعودی عرب سے موصول

سعودیہ پاکستان کو تین ارب ڈالر،تیل دینے پر رضامند

پاکستان کی درجہ بندی میں کمی کی وجہ کیا ہے؟

سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تنزلی کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت کی ترقی میں کمی اور ساتھ ساتھ بیرونی اور بجٹ کا خسارہ بڑھنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا ہے کہ یہ تنزلی معاشی عدم استحکام کی نشانی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سٹینڈرڈ اینڈ پوورز نے آخری مرتبہ 2015 اور 2016 میں پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی تھی لیکن اب یہ منفی کردی گئی ہے۔

ڈاکٹر وقار کے مطابق جب تک حکومت معیشت کے حوالے سے اصلاحی اقدامات نہیں کرے گی اس وقت تک معیشت کی بہتری کے اشاریے حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کو مہنگے قرضے حاصل کرنے پڑیں گے یا صرف دوست ممالک پر ہی انحصار کرنا پڑے گا لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں اور ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے رابطے میں ہے

درجہ بندی کتنی قسم کی ہوتی ہے؟

اے اے اے: یہ سب سے مضبوط ریٹنگ ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک اپنے مالیاتی وعدے پورا کرنے کی سب سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ یہ سب سے بہتر ریٹنگ ہے جو کوئی ملک حاصل کر سکتا ہے۔

اے اے: اس ریٹنگ کا ملک اپنے مالیاتی وعدے پورا کرنے کی بہت بہتر پوزیشن میں ہے۔

اے: اس ریٹنگ کا حامل ملک اپنے مالیاتی وعدے پورے کرنے کی بہتر قابلیت رکھتا ہے مگر کسی طرح منفی معاشی حالات کے سلسلے میں حساس ہے۔

بی بی بی: اس ریٹنگ کے حامل ملک میں اپنے مالیاتی وعدوں کو پورا کرنے کی کافی صلاحیت ہے مگر یہ سب منفی معاشی حالات کے ساتھ ہے۔

بی مائنس: یہ غیرسرمایہ گریڈ سے اوپر کی سب سے کم تر ریٹنگ ہے۔

بی بی: مستقبل قریب میں خطرات کم ہیں مگر اسے ایک مسلسل غیر یقینی کاروباری، مالیاتی اور معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔

بی: کاروباری اور معاشی وعدوں کو پورا کرنے کے معاملے میں کافی خطرات کا سامنا ہے۔

سی سی سی: موجود وقت میں یہ ملک خطرات کا شکار ہے اور اپنے مالیاتی وعدے پورے کرنے کے لیے محتاج ہے۔

سی سی: موجودہ حالات بہت ہی خطرناک ہیں

سی: دیوالیہ پن کے قریب یا دیوالیہ قرار دیے جانے تک

ڈی: مالیاتی وعدے پورے کرنے میں ناکام یا قسط ادا کرنے میں ناکام

اے اے اے، اے اے، اے اور بی بی بی کی درجہ بندیاں مارکیٹ میں سرمایہ کاری گریڈ سمجھی جاتی ہیں۔ ریٹنگ اے اے سے سی سی سی تک منفی یا مثبت کے اضافے کے ساتھ خصوصی حالات کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہیں

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں