سینیئر صوبائی وزیر علیم خان کو نیب نے حراست میں لے لیا

عبدالعلیم خان
Image caption عبدالعلیم خان اس وقت پنجاب کابینہ میں سینیئر وزیر کے عہدے پر فائز ہیں

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب نے پاکستان تحریکِ انصاف اور صوبہ پنجاب کی کابینہ کے اہم وزیر عبدالعلیم خان کو حراست میں لے لیا ہے۔

عبدالعلیم خان اس وقت پنجاب کابینہ میں سینیئر وزیر کے عہدے پر فائز ہیں اور بلدیات کے محکمے کا قلمدان بھی ان کے پاس ہے تاہم بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق علیم خان نے نیب کی جانب سے گرفتاری پر اپنے صوبائی عہدوں سے استعفی دے دیا ہے۔

نیب کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق علیم خان کو آمدن سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیا پنجاب کے حقیقی وزیرِاعلیٰ عبدالعلیم خان ہیں؟

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار کون؟

’پنجاب کے وزیرِاعلیٰ سے تو وزیرِاعظم بھی ڈرتا ہے‘

علیم خان کیس کے بارے میں نیب کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر رہنما پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے بطور ممبر صوبائی اسمبلی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے اور اس کی بدولت پاکستان و بیرون ملک مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنائے ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق علیم خان نے 2005 اور 2006 میں برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی آف شور کمنیاں قائم کیں جن کے حوالے سے نیب کی تحقیقات جاری ہیں ’تاہم ملزم کی جانب سے ریکارڈ میں مبینہ ردو بدل کے پیش نظر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔‘

نیب حکام کے مطابق علیم خان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے جمعرات سات فروری کو احتساب عدالت پیش کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NAB
Image caption نیب کی جانب سے علیم خان کو حراست میں لیے جانے پر جاری کیا گیا پریس ریلیز

نیب حکام کی تفتیش میں لندن میں واقع چار فلیٹس شامل ہیں جو مبینہ طور پر علیم خان کی ملکیت ہیں۔

اس کے علاوہ مبینہ طور پر ان کی برٹش ورجن آئی لینڈ میں آف شور کمپنی ہیکسام ( Hexam) اور متحدہ عرب امارات میں ان کے زیر انتظام چلائے جانے والی آف شور کمپنی اے اینڈ اے ( A&A) بھی شامل ہے جن کے بارے میں نیب حکام تفتیش کر رہے ہیں۔

علیم خان بدھ کو آف شور کمپنی کے معاملے میں بیان دینے کے لیے لاہور میں نیب کے دفتر میں پیش ہوئے تھے۔ یہ اس سلسلے میں ان کی چوتھی پیشی تھی۔

علیم خان کے بارے میں یہ تاثر بھی ہے کہ وہ وزیرِ اعظم عمران خان کے کافی قریب ہیں اور یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ پنجاب میں حقیقی وزیرِ اعلی وہی ہیں۔

حکومتی رد عمل:

پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی نے شام میں تحریک انصاف کی سینئیر قیادت کے ساتھ اعلی سطحی میٹنگ کال کی ہے جس میں پارٹی کے سینئیر وزرا اور صوبے کے گورنر بھی شامل ہوں گے اور آگے کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ایسا کوئی کام نہیں کیا جائے گا جو قانون اور انصاف کے تقاضوں کے برخلاف ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ قیاس آرائیوں پر بات نہ کی جائے اور کسی بھی قسم کا فیصلہ آنے کے بعد باضابطہ طور پر بیان جاری کیا جائے گا۔

اسی بارے میں