سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کو رہا کر دیا گیا

اسماعیل گلالئی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گلالئی اسماعیل کے مطابق انھیں بتایا گیا کہ انھیں وزیر اعظم عمران خان کی مداخلت پر رہا کیا جا رہا ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن ارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں گرفتار کی جانے والی سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کی رہائی کے ساتھ ہی ان کی گمشدگی کا معمہ بھی حل ہو گیا ہے۔

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق گلالئی اسماعیل کو بدھ کی شب اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں واقع ویمن تھانے سے رہائی ملی۔

گلالئی کے والد پروفیسر اسماعیل اور بہن شعلہ اسماعیل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گھر پہنچ چکی ہیں اور انھیں ان کی بہن اور والدہ تھانے سے لے کر آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ارمان لونی کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں

سماجی کارکن گلالئی اسماعیل شخصی ضمانت پر رہا

’پی ٹی ایم کی وجہ سے کئی گھروں میں خوشیاں لوٹ آئیں‘

رہائی کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلالئی اسماعیل نے کہا ’مجھے رات کے وقت ویمن تھانے کی حوالات میں رکھا گیا تھا جہاں نو بجے صبح مجھے تھانے سے ملحق کسی عمارت میں لے جایا گیا۔ تین چار گھنٹے وہاں رکھنے کے بعد مجھے آبپارہ تھانے کے سامنے تین چار گھنٹے تک بٹھایا گیا‘۔

ان کے مطابق ’جب میں نے پوچھا کہ مجھے کہاں لے جایا جا رہا ہے اور عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جا رہا ہےتو وہاں پر موجود اہلکار ایک ہی بات کہتے تھے کہ ہمیں جو حکم اوپر سے ملے گا وہ ہی کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا ’اس کے بعد مجھے رات دس بجے اڈیالہ جیل کے گیٹ پر پہنچایا گیا جہاں میں نے انھیں بتایا کہ آپ لوگ ایسے نہیں کر سکتے، مجھے وارنٹ دکھائے بغیر اس طرح جیل نہیں بھجوایا جا سکتا، اڈیالہ جیل کے گیٹ پر میں کوئی ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک رہی۔ مجھے محسوس رہا تھا کہ میرے لیے کوئی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور مجھے شک ہو چکا تھا کہ شاید میرا ان کاونٹر کر دیا جائے مگر پھر مجھے بتایا گیا کہ مجھے وزیر اعظم عمران خان کی مداخلت پر رہا کیا جا رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا ’میں اسلام آباد میں اپنے گھر پہنچ چکی ہوں۔ میری رہائی بین الاقوامی میڈیا میں خبریں آنے اور سوشل میڈیا پر احتجاج کے بعد عمل میں آئی ہے ورنہ معلوم نہیں میرے ساتھ کیا ہو جاتا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس سے قبل گلالئی اسماعیل کے وکیل رحیم وزیر نے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات سے ملاقات کے بعد بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈپٹی کمشنر نے ان کو بتایا ہے کہ گلالئی کے حوالے سے کوئی بھی پریشانی نہیں ہے، وہ اسلام آباد میں اور محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا۔

گلالئی کو پولیس نے منگل کو حراست میں لیا تھا تاہم بدھ کو ان کے اہلخانہ اور پی ٹی ایم کے ذمہ داران کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ ان کا کچھ اتا پتا نہیں، دن بھر اس سلسلے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اسلام آباد کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گلالئی اسماعیل کو اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے لیکن اڈیالہ جیل انتظامیہ نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر بتایا تھا کہ ان کے پاس گلالئی اسماعیل کو نہیں لایا گیا۔

اسلام آباد میں واقعہ تھانہ کوہسار کے محرر محمد حیات نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گلالئی اسماعیل کو قانون کے تحت گرفتاری کے بعد رات کے وقت جی سیون ویمن پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تھا جبکہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے حکم نامہ جاری ہونے کے بعد ان کو مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد جیل منتقل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ بی بی سی نے اس سے قبل جب جی سیون ویمن پولیس سٹیشن سے رابطہ کیا تھا تو ڈیوٹی پر موجود خاتون پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے تھانے میں کسی گلالئی اسماعیل نامی خاتون کو نہیں لایا گیا ہے۔

اسی بارے میں