آمنہ مفتی کا کالم: ’اعلانیہ گرفتاریاں ہوں، چپکے سے غائب نہ کیا جائے‘

میکسم گورکی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میکسم گورکی کا ناول ‘مدر’ 1906 میں چھپا تھا

جب میکسم گورکی کا ناول ‘مدر’ پڑھا تو وہ زمانہ بڑا پرسکون تھا۔ جنرل ضیاء کا مارشل لأ تھا۔ ابا تہجد کے وقت اٹھ کے تلاوت کرتے، فجر کے بعد بھٹو صاحب اور اندرا گاندھی کو برا بھلا کہا جاتا، جنرل ضیا کی برکات پہ تفصیلی روشنی ڈالی جاتی اور گفتگو کا انجام ’پاک فوج کو سلام‘ وغیرہ پہ ہوتا۔

’مدر‘ مجھے سخت برا لگ رہا تھا، مگر امی کے حکم کے تحت پڑھنا پڑ رہا تھا۔ بھلا کہاں وہ شورش زدہ روس کی کہانی اور کہاں میری پر سکون ارضِ پاک؟ اس میں جو گرفتاریاں، نعرے اور فضول کی باتیں تھیں، میرا ان سے دور دور کا ناطہ نہیں تھا۔

مر مر کے ایک ایک باب ختم کیا، جس روز میں اپنے تئیں اس ناول سے عمر بھر کے لیے جان چھڑا چکی تھی امی نے ایک دبی دبی خوشی سے مجھے بتایا کہ میں نے 1965 کے انتخابات میں فاطمہ جناح کو ووٹ ڈالا تھا، ایوب خان کو نہیں ۔

ساتھ ہی تاکید بھی کی کہ اپنے ابو کو کبھی نہ بتانا، خفا ہوں گے۔ تب مجھے لمحہ بھر کے لیے اپنی ماں کے چہرے میں ولاسوف کی ماں کا چہرہ نظر آیا۔ مگر فقط لمحہ بھر کو۔

یہ بھی پڑھیے:

’طیبہ بچ گئی، عظمیٰ نہیں بچ پائی‘

مجاہدین، طالبان، دہشت گرد، حکمران!

ہمارے بچے کب تک غیر محفوظ؟

تب میں جان نہیں پائی تھی کہ مجھے یہ حد درجہ بور ناول کیوں پڑھوایا اور اپنی بغاوت کی یہ داستان میرے کان میں کیوں ڈالی؟

زمانہ 30 سال آگے کھسک آیا ،فروری کا مہینہ چڑھا تو جانے کہاں سے گورکی کا وہی ناول نکل آیا۔ پڑھنا شروع کیا تو عجیب طلسمی سا اثر ہوا۔ موسم جو کئی سال سے اتنا سرد نہ ہوتا تھا، جیسے ناول سے نکلے سائیبریا کے کسی جھونکے سے ٹھٹھر کے رہ گیا۔ ناول کے کردار نکل نکل کے سچ مچ سامنے دوڑنے لگے۔

پروفیسر ارمان لونی ایک مظاہرے کے بعد حراست میں لیے جانے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے مبینہ طور پہ تشدد سے ہلاک ہو گئے۔

ان کے حق میں جلوس نکالنے پہ دیگر کئی لوگوں کے ساتھ گلالئی اسماعیل کو بھی گرفتار کیا گیا اور یوں لگا کہ انھیں لاپتہ کر دیا جائے گا، مگر ایسا نہ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Courtesy Tabitha Spence
Image caption عمرانیات کے پروفیسر عمار جان کو ’حساس اداروں‘ کے خلاف نعرہ بازی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا

عمرانیات کے پروفیسر عمار جان کو ’حساس اداروں‘ اور اہم افراد کے خلاف نعرہ بازی کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور اسی روز رضوان رضی کو بھی ’حساس اداروں‘ کے خلاف ٹویٹس کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

احتجاج جاری ہیں۔ گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔ ’مدر‘ کے صفحے کے صفحے ذرا بھی تغیرو تبدل کے بغیر اسی طرح دہرائے جا رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ کردار تک ذرا بھی نہیں بدلے گئے۔ وہی غریب، مسکین، غیر اہم لوگ۔ کالجوں، سکولوں کے لونڈے، پروفیسر، کسانوں، کان کنوں اور درزیوں کے نمائندے۔

کمزور، عام شکل وصورت کے، عام باتیں کرنے والے لوگ۔ جن کے پاس سوائے الفاظ کے کوئی طاقت نہیں۔ کرفیو، پابندیاں، فیکٹریوں میں بند مزدور اور ان مزدوروں تک پمفلٹ پہنچانے کا ناقابلِ معافی جرم اور یہ جرم کرنے والی ماں۔ دور دور کے شہروں، دیہاتوں تک پمفلٹ پہنچاتی، جیل جانے والے بیٹے کی قید سے طاقت پاتی ایک کمزور ماں۔

میں نے ارمان لونی کی ماں کو روتے سنا۔ اس کی باتیں سنیں۔ مجھے حیرت ہوئی، پسماندہ بلوچستان کے پسماندہ تر علاقے کی رہنے والی اس ماں نے گورکی کی ماں سا کردار کیوں اپنا لیا؟ اُسی کے طرز کلام میں اُسی کے الفاظ کیوں بولنے شروع کر دیے؟

شاید ساری مائیں اپنے بچوں کو ایک ہی سبق دیتی ہیں۔ ڈری سہمی مائیں، سچ بولنے کا سبق دیتی ہیں ڈٹ جانے کی ہمت دیتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption ارمان لونی بلوچستان میں پی ٹی ایم کے بانی اراکین میں سے ایک تھے

مزید گرفتاریاں بھی ہوں گی کیونکہ یہ ہوتی رہتی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اعلانیہ گرفتاریاں ہوں۔ چپکے سے غائب نہ کیا جائے۔ ویسے تاریخ یہ کہتی ہے کہ اداروں کے زیادہ ’حساس‘ ہو جانے سے نقصان اداروں کا ہی ہوتا ہے۔ بولنے والوں کا یہ ہے کہ بولتے رہتے ہیں۔ ان کو شوق ہوتا ہے سر کٹانے کا۔

ادارے اگر ادارے ہی رہیں اور ’حساس‘ نہ ہوں تو وہ آسانی سے اپنا نام لکھ اور پکار بھی سکتے ہیں اور بے وجہ راہ چلتے انھیں چھیڑتے بھی نہیں۔ عزت اور وقار کا تقاضا یہ ہی ہوتا ہے کہ پریشر ککر سے بھاپ نکلتے رہنے دیں۔

یہ پھک پھک بھی بند کر دیں گے تو طبع نازک کو چند لمحوں کے لیے کامل سکوت تو میسر آ جائے گا لیکن آخر کار ایک زور کا دھماکہ ہو گا اور ساری سبزیاں، کالی دال، سفید آلو اور ٹماٹر وغیرہ ایسے پھیلیں گے کہ صاف کرتے کرتے سال لگ جائیں گے اور داغ پھر بھی نہیں جائیں گے۔

کپڑے صاف اچھے لگتے ہیں اور وردیاں تو شفاف ہی پھبتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں