بچہ پوش: ’بچیوں کو بچانے کے لیے ان کی مائیں ان کو لڑکوں جیسا لباس پہناتی تھیں‘

نمائش

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ’بچہ پوش‘ یعنی لڑکی کا بھیس بدل کر اسے لڑکے کا روپ دیے جانے کے حوالے سے بنائے گئے فن پاروں کی نمائش ہوئی۔

دس روزہ نمائش میں نوجوان مصوروں کی پینٹنگز کو رکھا گیا۔

اس پینٹنگز کا موضوع ’بچہ پوش‘ تھا جس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے نمائش کی ایک منتظمہ نصرت بتول کا کہنا تھا کہ بچہ پوش کا مطلب ’بچے کے لباس جیسا‘ ہے۔

نمائش

ان کا کہنا تھا ’یہ ایک تصور جس کا آغاز قبائلی علاقوں سے ہوا وہ یہ تھا کہ جس گھر میں لڑکے نہیں ہوتے تو کسی لڑکی کو لڑکے جیسا لباس پہنایا جاتا تھا۔‘

نمائش

ایک اور منتظمہ نایاب بتول نے بچہ پوش کی روایت کے بارے میں بتایا کہ ماضی میں جب بچیاں پیدا ہوتی تھیں تو ان کو مار دیا جاتا تھا۔

نمائش

ان کے بقول ’ایسا افغانستان کے بعض حصوں میں ہوتا تھا۔ بچیوں کو بچانے کے لیے ان کی مائیں ان کو بچوں جیسا لباس پہناتی تھیں۔‘

نایاب بتول کا کہنا تھا کہ اسی طرح جس گھر میں لڑکے نہیں ہوتے تھے تو اس گھر کی لڑکیوں میں سے ایک کو لڑکے جیسا لباس پہنا کر باہر کام وغیرہ کے لیے بھیجا جاتا تھا۔

نمائش

انھوں نے بتایا کہ ہم نے نمائش کے ذریعے قبائلی علاقوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جن میں کم عمری کی شادیاں، تعلیم اور خواتین کی شناخت کے مسائل شامل ہیں۔

نمائش کی منتظمہ کا مزید کہنا تھا ’ہم نے اس نمائش کے ذریعے ایک پیغام دینے کی کوشش کی کہ آپ جو پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہیں معاشرے کی نکتہ چینی کی پرواہ کیے بغیر اس کی جانب بڑھیں۔‘

نایاب بتول نے بتایا کہ اس نمائش کامقصد ایک مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے۔

نمائش

ان کا کہنا تھا کہ اس نمائش کا بنیادی مقصد خواتین کو اختیار دینا نہیں بلکہ ان کی بقا ہمارا مسئلہ ہے۔ جب خواتین زندہ رہیں گی تو وہ با اختیار ہو سکیں گی اور ان کی شناخت بن سکے گی ۔

نمائش

نایاب نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد خواتین کے خلاف غلط تصورات کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ انھیں اپنی شناخت بنانے کا موقع مل سکے۔

نمائش

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان لڑکوں کا بھی مسئلہ اٹھایا ہے جو اگر شوبز یا فیشن ڈیزائننگ کی طرف جاتے ہیں تو ان کو بھی غلط القابات سے نوازا جاتا ہے۔

نایاب بتول نے بتایا کہ اس نمائش کا مقصد غلط روایتی سوچ اور تصورات کے خلاف لوگوں کو حوصلہ دلانا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں