سعودی ولی عہد کی آمد پر چار سطحوں کا سکیورٹی پلان ترتیب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق سعودی ولی عہد کے وفد کے ارکان کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔

حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔

سعودی ولی عہد وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر سنیچر کے روز اسلام آباد کے نور خان ایئربیس پر اتریں گے جہاں سے اُنھیں وزیر اعظم ہاؤس لے جایا جائے گا۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے وفد میں شامل افراد کی سیکیورٹی کے لیے چار سطح پر مشتمل سیکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق پہلا حصار اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کا ہوگا جبکہ دوسرا حصار رینجرز اور تیسرا حصار فوج کے جوانوں اور چوتھا حصار ولی عہد محمد بن سلطان کی شاہی سیکیورٹی گارڈز کا ہوگا۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق سعودی ولی عہد کی سیکیورٹی کے لیے تین ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب پہلا ایٹمی تحقیقی ری ایکٹر بنائے گا

محمد بن سلمان سے کون ملا اور کون کترایا؟

جزیرہ نما عرب کی سرزمین پر کسی بھی پوپ کا پہلا دورہ

اہلکار کے مطابق محمد بن سلمان وزیر اعظم ہاؤس میں قیام کریں گے جبکہ ان کے وفد میں شامل اہم شخصیات کو پنجاب ہاؤس میں ٹھہرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ وفد میں شامل دیگر افراد کو اسلام آباد میں واقع دونوں فائیو سٹار ہوٹلز میں ٹھہرایا جائے گا اور اس ضمن میں ان ہوٹلوں میں زیادہ تر کمرے بک کرلیے گئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق سعودی ولی عہد کے وفد کے ارکان کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔

پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے پہلے ان کے زیر استعمال دس سے زائد بلٹ پروف گاڑیاں بھی اسلام آباد میں پہنچا دی گئی ہیں جبکہ ان کی سیکیورٹی پر تعینات ایک سو سے زائد گارڈز بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد پر ممکنہ طور پر وزیر اعظم کی طرف سے ان کی گاڑی خود چلانے کے بارے میں وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا وزیر اعظم پر ہی منحصر ہوگا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد جب پاکستان آئے تھے تو عمران خان ان کی گاڑی کو خود چلا کر وزیر اعظم ہاوس لےکر آئے تھے جس پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید کی گئی تھی۔

اہلکار کے مطابق اس کے علاوہ شہزادہ محمد بن سلمان کی ورزش کا سامان بھی پاکستان میں پہنچا دیا گیا ہے جسے اہلکار کے بقول وزیر اعظم ہاوس پہنچا دیا گیا ہے۔

وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے ایک اہلکار کے مطابق وزیر اعظم ہاوس میں تزین آرائش کا کام مکمل کرلیا گیا ہے جہاں پر محمد بن سلمان قیام کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کے بنی گالہ میں رہنے کی وجہ سے وزیر اعظم ہاوس میں تزین آرائش کا کام نہیں کیا گیا تھا کیونکہ عمران خان نے وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر رکھا تھا۔

دوسری طرف وزارت خارجہ نے شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کا شیڈول جاری کردیا ہے جس کے مطابق سعودی ولی عہد 16 فروری کو پاکستان پہنچیں گے اور 17 فروری کو اپنا دورہ مکمل کرنے کے بعد ملائشیا روانہ ہو جائیں گے۔

اپنے دورے کے دوران سعودی ولی عہد صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری سے متعلق مختلف معاہدوں کی یاداشتوں پر دستخط ہوں گے۔

اسلامی ملکوں کی فوج کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سعودی ولی عہد کے دورے سے قبل پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران اُنھوں نے صدر اور چیئرمین سینٹ کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی۔

واضح رہے کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو جب اسلامی ملکوں کی فوج کا سربراہ بنایا گیا تھا تو اس وقت حزب اختلاف میں موجود پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلے پر کافی تنقید کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں