’خواتین کی ہراسگی سے متعلق قانون کو مضبوط کریں‘: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عدالت کا کہنا تھا کہ سرگوشیاں سنتے ہیں کہ اس قانون کو کمزور کیا جائے گا جس پر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت پنجاب اس قانون کو کمزور نہیں کرے گی۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے حکومت کو دفاتر میں خواتین کو ہراساں نہ کرنے کے قانون کو مضبوط بنانے کی ہدایات کی ہے۔

عدالت نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس قانون کو مزید موثر بنانے کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں عدالت کو قانونی معاونت فراہم کریں تاکہ عدالت کوئی مناسب حکم جاری کرے۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے خواتین کو جنسی طور ہر ہراساں کرنے سے متعلق سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے جج کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کے معاملے پر سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

دفتروں میں جنسی ہراس کیا ہے؟

کیا پاکستان میں MeToo# مہم خطرے کا شکار ہے؟

لوگ صحافیوں کو بااثر سمجھتے ہیں ’لیکن ہم تو بے یار و مدد گار ہیں‘

واضح رہے کہ سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی کی طرف سے چند سال قبل ایک خاتون کو ہراساں کرنے کے بارے میں ایک فیصلہ جاری کیا تھا۔ اس کے بعد اُنھوں نے وفاقی محتسب کے دائرہ سماعت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے جج منصور علی شاہ نے اس بارے میں حکم امتناعی جاری کردیا تھا جس پر یاسمین عباسی نے لاہور ہائی کورٹ کے جج منصور علی شاہ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے۔

اس کے جواب میں جسٹس منصور علی شاہ نے یاسمین عباسی کے وارنٹ جاری کرکے اُنھیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یاسمین عباسی کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کی عدالت میں پیش کردیا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ اس وقت سپریم کورٹ کے جج ہیں اور یاسمین عباسی یہ معاملہ سپریم کورٹ لیکر گئی ہیں۔

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے مطابق سپریم کورٹ نے اس واقعے پر یاسمین عباسی کو نوٹس جاری کیا تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے کیونکہ اس کے صدباب کے لیے ملک میں رائج قانون کی تشریح کے حوالے سے صوبوں کا موقف جاننا بھی بہت ضروری ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قوانین ایسے بنائیں جائیں کہ خواتین ہراسگی کے معاملے پر خود شکایات کا اندراج کراوسکیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر ہم خواتین کو ہراساں ہونے سے نہیں بچا سکتے تو پھر ہمیں شرم آنی چاہیے۔

خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق معاملات کو دیکنھے والی وفاق محتسب کشمالہ طارق نے عدالت کو بتایا کہ صوبہ سندھ میں اس حوالے سے شکایات صفر ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اس معاملے میں بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر شکایت نہیں آتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ موجود ہی نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے پر خواتین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس قانون کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع اقدامات کیے جاسکیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سرگوشیاں سنتے ہیں کہ اس قانون کو کمزور کیا جائے گا جس پر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت پنجاب اس قانون کو کمزور نہیں کرے گی۔

وفاقی محتسب نے عدالت کو بتایا کہ خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق اب تک جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان کی تفصیلات چاروں صوبوں سے طلب کرلی گئی ہیں۔ تاہم اُنھوں نے عدالت کو ایسے واقعات کی تعداد نہیں بتائی۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔

اسی بارے میں