پاکستان: طالبان،امریکہ مذاکرات،عمران خان سے ملاقات طے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیر اعظم عمران خان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد مانگی تھی

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی مذاکراتی ٹیم کے ممبران امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے 18 فروری کو پاکستان جائیں گے۔

میڈیا کو طالبان کے ترجمان کی جانب سے ارسال کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دورے کے دوران طالبان کے نمائندے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملیں گے اور پاکستان اور افغانستان کے مسائل پر بات کریں گے۔ اس میں طالبان مہاجرین اور پاکستان میں موجود افغان تاجروں کے بارے میں بھی بات کی جائے گی۔

مزید پڑھیے

امریکہ کو پاکستان کی افغانستان میں دوبارہ ضرورت کیوں؟

افغان طالبان سے مذاکرات اور امید کی فضا

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’اسلامی امارات اور امریکہ کے درمیان پہلے بھی قطر اور عرب امارات میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں، بات چیت کا اگلا دور 25 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہوگا جیسا کہ گذشتہ ملاقات میں طے ہوا تھا۔‘

طالبان ترجمان کے مطابق پاکستانی حکومت کی جانب سے ایک دعوت پر ایک اور ملاقات اسلامی امارات اور امریکہ کے درمیان 18 فروری کو اسلام آباد میں ہو گی۔

اس دورے کے بعد طالبان کی امریکی حکام کے ساتھ 25 فروری کو قطر میں مشترکہ ملاقات بھی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 25 فروری کو طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں مذاکرات ہوں گے

اسی دوران طالبان کے کچھ نمائندوں کی ماسکو میں افغان سیاستدانوں اور سماجی کارکنان سے دو روزہ بات چیت ہو گی۔

زلمے خلیل زادہ جو کہ امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات کی نمائندگی کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ امن اور مفاہمت کے لیے طالبان اور افغان حکومت کی بات ہونی ضروری ہے۔

افغان حکومت طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی مخالف نہیں اور چاہتی ہے کہ اسے تمام مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔

اسی بارے میں