لاڑکانہ: فائرنگ میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے تین مزدور قتل

لاش تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعے میں تین پشتون مزدوروں کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ ان تینوں کی لاشیں باجوڑ روانہ کر دی گئی ہیں۔

یہ واقعہ بدھ کی دوپہر نوڈیرو کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت وحید گل، رئیس خان اور تاج گل کے نام سے ہوئی ہے جو مدیجی سے لاڑکانہ جارہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا، مقتولین گاؤں گاؤں جاکر ڈنر سیٹ اور دیگر برتن فروخت کیا کرتے تھے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش کا کہنا ہے کہ یہ تینوں چنگچی میں آرہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ان کا پیچھا کیا اور راستے میں روک کر ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو مزدور موقعے پر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا، جسے ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔

مزید پڑھیے

لاڑکانہ میں گلوکارہ کی ہلاکت، ملزم کا جسمانی ریمانڈ

بلوچستان میں فائرنگ سے چار مزدور ہلاک

کراچی میں مجلس پر فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ واقعے کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہیں، جس میں ذاتی دشمنی، ڈکیتی کی کوشش کے علاوہ کراچی میں ایک قوم پرست کے رہنما کے قتل کے ردعمل کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے لیکن اس وقت کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

چنگچی کے ڈرائیور مختیار جونیجو نے پولیس کو بتایا کہ وہ موڑ کے قریب پہنچے تو سیاہ رنگ کی موٹر سائیکل پر دو افراد سوار تھے جس میں سے ایک کے ہاتھ میں پستول تھا جس نے مزدوروں پر فائرنگ کردی۔

مقتول وحید گل کے بیٹے خان سعید کی درخواست پر دو نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ نگران ایس ایس پی ذوالفقار مہر کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کچھ فورینزک شہادتیں بھی جمع کی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مزدوروں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی لاڑکانہ کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے کمشنر لاڑکانہ سے رابطہ کر کے ہدایت جاری کی مزدوروں کے ورثا کے ساتھ رابطہ کریں اور ان کی لاشیں ان کے آبائی گاؤں تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔

Image caption مقتولین گاؤں گاؤں جاکر ڈنر سیٹ اور دیگر برتن فروخت کیا کرتے تھے

ان کے احکامات پر حکومتِ سندھ کی ایمبولنسز میں لاشیں ان کے آبائی علاقے کی جانب روانہ کی گئی ہیں۔ یہ تینوں افراد کا تعلق باجوڑ کے دو دراز علاقے بتائی کے رہائشی تھے۔

فائرنگ میں ہلاک ہونے والے تاج گل کا بڑا بیٹا خان سعید بھی اپنے والد کے ہمراہ محنت مزدوری کرتا تھا۔ انھوں نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ ایمبولینس کے ڈرائیور نے ہمیں بتایا ہے کہ لاڑکانہ کے ہسپتال کی جانب سے فراہم کردہ ایمبولینس گیارہ بجے تک پشاور پہنچ جائے گی۔

ان کے مطابق پشاور سے آگے خود گاڑی یا ایمبولینس کا انتظام کرنے کا کہا گیا ہے۔ 'لاڑکانہ کے ہسپتال میں ہم لوگوں نے تابوت اور کفن خود خریدے جبکہ پشاور سے آگے باجوڑ میتیں لے کر جانے کے لیے گاؤں کے لوگ پشاور پہنچ رہے ہیں۔'

خان سعید کے مطابق وہ لوگ موسم اور حالات کے مطابق اپنے ٹھکانے تبدیل کرتے رہتے ہیں اور ان دونوں وہ، ان کے والد ، ہلاک ہونے والے دیگر دو لوگ اور اس کے علاقے کے مزید 40 لوگ لاڑکانہ ہی میں مقیم تھے جہاں سے وہ دیگر اضلاع اور لاڑکانہ کے دیہات میں گھوم پھر کر برتن فروخت کیا کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’فائرنگ کے واقعے سے تھوڑی دیر قبل میں اپنے والد اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ تھا۔ ہم رکشے میں بیٹھ کر جانا چاہتے تھے مگر تین لوگوں کی گنجائش تھی جس پر مجھے پیچھے چھوڑ دیا گیا کہ میں خود ہی اپنے کام پر چلا جاؤں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’ان تینوں کے جانے کے بعد میں اپنے کام پر چلا گیا اور دو، تین گھنٹے ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے باجوڑ سے فون آیا کہ میرے والد اور دیگر دو افراد کو گولیاں مار دی گئی ہیں۔‘

خان سعید کا کہنا تھا کہ ’ہم غریب قبائلی ہیں ہمارے علاقوں میں روزگار کے مواقع نہیں ہیں جس وجہ سے ہم گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جاتے ہیں، محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ہمیں کچھ پتا نہیں کہ سیاست کیا ہوتی ہے، ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے، پھر ہمیں کیوں قتل کیا جارہا ہے؟‘

ان ہلاکتوں کے بعد سماجی روابط کی ویب سائٹس پر بھی اس سلسلے میں احتجاجی ردعمل سامنے آیا اور حکومت سے ملزماں کو گرفتار کر کے کڑی سے کڑی سزا دینے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔

وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹوئٹر پر اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اس واقعے میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائیں۔

اسی بارے میں