ساہیوال ہلاکتیں: لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تحقیقات کا حکم، ایک ماہ میں رپورٹ طلب

ساہیوال ہلاکتیں تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption فورینزک لیبارٹری کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ساکن گاڑی پر گولیاں چلائیں

لاہور میں عدالتِ عالیہ نے پاکستان کے شہر ساہیوال میں پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کے اہلکاروں کے ہاتھوں چار افراد کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد شمیم اور جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ حکم جمعرات کو اس واقعے پر عدالتی کمیشن کی تشکیل کے سلسلے میں دائر کردہ درخواستوں کی سماعت کے بعد دیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سیشن جج ساہیوال اس معاملے کی تحقیقات کریں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ایک ماہ میں تحقیقات سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔

سماعت کے دوران اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اعجاز شاہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر احتشام نے عدالت سے استدعا کی اس معاملے پر شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بننا چاہیے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ بینچ بھی تو جے آئی ٹی کی نگرانی ہی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلہ: پانچ بڑے سوالات

’میں دہشت گرد کی ماں نہیں ہوں‘

’بار بار مت پوچھیں کہ بیٹا بتاؤ کیا ہوا تھا!‘

عدالت کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیے جانے کے بعد مقتول خلیل کے بھائی مہر جلیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں عدالتی تحقیقات کی پیشکش پہلے بھی کی گئی تھی تاہم ان کا مطالبہ اب بھی عدالتی کمیشن کا ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے منتظر ہیں جو انھیں بتایا گیا ہے کہ پیر کو متوقع ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے حوالے سے 'زیادہ پُرامید نہیں۔ ہم دیکھیں ان کی رپورٹ کیا کہتی ہے اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دیکھیں گے۔'

’زیادہ تر شواہد میں ردوبدل کیا گیا‘

اس سے قبل اس واقعے کی شواہد کا فورینزک تجزیہ کرنے والی ایجنسی نے اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی جس کے مطابق 'سی ٹی ڈی پنجاب کی جانب سے تجزیے کے لیے جمع کروائے جانے والے زیادہ تر شواہد میں ردوبدل کیا گیا۔'

پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی لاہور کی سائنسی تـجزیے کی رپورٹ سی ٹی ڈی پنجاب کے اس مؤقف کی بھی تردید کرتی ہے کہ 'پہلے گولی گاڑی میں سے چلائی گئی اور یہ کہ گاڑی میں سوار افراد نامعلوم موٹر سائیکل سوار کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔'

یاد رہے کہ رپورٹس کے مطابق معاملے کی تحقیقات کرنے والی پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے زیرِ حراست سی ٹی ڈی اہلکاروں نے اپنے بیانات میں یہی ابتدائی مؤقف دہرایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'بندوقوں کی نالیاں، فائر پنیں بدلی گئیں'

پی ایف ایس اے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایجنسی کو بھجوائے گئے سی ٹی ڈی اہلکاروں کے اسلحے کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس میں ردوبدل کیا گیا تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کی بندوقوں کی نالیاں تبدیل کی گئیں تھیں۔ کچھ کی فائر پِنز بدل دی گئی تھیں۔'

کسی بندوق کی فائر پِن کے تجزیے سے یہ پتہ چلانے میں مدد ملتی ہے کہ جو خول جائے وقوع سے ملے، وہ گولیاں کس بندوق سے چلائی گئیں۔

اسی طرح ہر بندوق کی نالی اپنی نوعیت کی ہوتی ہے۔ گولی گزرنے سے اس کے اندر بننے والی جھریوں سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ کیا اس مخصوص بندوق سے ایک سے زیادہ گولیاں چلائیں گئیں۔

'سی ڈی آر میں ٹیمپرنگ کی گئی'

پی ایف ایس اے کے اہلکار کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب کی جانب سے جو سی ڈی آر بھجوایا گیا اس میں بھی ردوبدل کیا گیا تھا۔ 'تقریباً تمام ہی شواہد میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔'

سی ڈی آر یعنی کال ڈیٹا ریکارڈ پولیس کی وائرلیس یا دیگر ذرائع مواصلات کا مکمل ریکارڈ رکھتا ہے۔ اس سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کس وقت پر پولیس اہلکاروں کو کس قسم کی کارروائی کے لیے کیا احکامات جاری کیے گئے۔

پی ایف ایس اے کے اہلکار کے مطابق 'سی ڈی آر کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی یعنی اس میں سے پیغامات کو ضائع کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'پولیس کی کھڑی گاڑی پر گولیاں چلائی گئیں'

سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وقوعہ کے وقت سفید سوزوکی آلٹو گاڑی میں سوار افراد کی طرف سے ان پر فائرنگ کی گئی تھی اور گولیوں کے نشانات پولیس کی گاڑی پر موجود تھے۔

پولیس کی اس گاڑی کو بھی پی ایف ایس اے تجزیے کے لیے بھجوایا گیا تھا۔ پی ایف ایس اے کی رپورٹ کی مطابق 'پولیس کی اس گاڑی پر گولیاں اس وقت چلائی گئیں جب وہ کھڑی تھی اور حرکت میں نہیں تھی۔'

پی ایف ایس اے کے مطابق 'تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کی گاڑی پر گولیاں وقوعہ کے بعد چلائی گئیں۔' تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ گولیاں خود سی ٹی ڈی اہلکاروں نے اپنے مؤقف کو تقویت دینے کے لیے وقوعہ کے کچھ دیر بعد یا بعدا میں چلائیں؟

'ہلاک ہونے والوں کو چند گولیاں محض ڈیڑھ فٹ سے لگیں'

دوسری جانب پی ایف ایس اے کی رپورٹ کے مطابق سفید سوزوکی آلٹو گاڑی میں سوار ہلاک ہونے والے چار افراد کو متعدد گولیاں لگیں۔ 'یہ گولیاں مختلف سمت سے اور مختلف فاصلوں سے گاڑی پر چلائی گئیں۔'

پی ایف ایس اے کے اہلکار کے مطابق 'سب سے قریب سے چلائی جانے والی گولی ڈیڑھ فٹ کے فاصلے سے چلائی گئی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PUNJAB POLICE

شواہد میں رد و بدل کرنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

پی ایف ایس اے کی جانب سے شواہد میں ردوبدل کی تصدیق سامنے آنے کے بعد بظاہر سی ٹی ڈی کے گرفتار اہلکاروں کے اپنے ابتدائی مؤقف پر ڈٹے رہنے کی منطق واضح ہوتی ہے یعنی مرنے والے سی ٹی ڈی پنجاب کے اہلکاروں کی گولی سے نہیں مرے اور اس دلیل کو ثابت کرنے کے لیے موقع کے شواہد میں تبدیلی کر دی جائے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا سی ٹی ڈی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ رد و بدل کرنے کی یہ کوشش سائنسی تجزیے میں پکڑی جا سکتی ہے؟

ماہرِ قانون اور فوجداری وکیل اعظم نذیر تارڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'شواہد میں تبدیلی کرنا دانستاً سچ کو چھپانے یا مسخ کرنے کے زمرے میں آتا ہے جس کے تحت ذمہ داران پولیس افسروں کے خلاف کئی دفعات کے تحت سخت ترین کارروائی ہو سکتی ہے۔"

اس کارروائی کا آغاز تحقیقات کرنے والے متعلقہ پولیس افسر بھی کر سکتے ہیں اور مدعی مقدمہ بھی عدالت کو اس کی درخواست دے سکتا ہے۔ تو ایسا کیوں کیا گیا ہو گا؟

اس کی ایک وجہ یہ نظر آتی ہے کہ سی ٹی ڈی کے ملزمان اہلکاروں کے خلاف کونکلوسِو ایویڈینس یا قطعی شہادت نہ آنے دی جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے حالیہ قوانین کے مطابق فورینزک ثبوتوں کو شہادت کے طور پر قبول کرنا یا نہ کرنا عدالتوں کی صوابدید پر ہے۔ چند مقدمات میں فورینزک شہادت کی بنیاد پر عدالتوں نے ملزمان کو سزائیں بھی سنائی ہیں۔

Image caption ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین پچھلے دنوں پارلیمان میں ایک کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوئے

مقتولین کا خاندان متحرک

مقامی ذرائع ابلاغ پر بدھ کے روز پی ایف ایس اے کی رپورٹ کے حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد ساہیوال واقعہ میں ہلاک ہونے والے مہر خلیل کے لواحقین نے از خود مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے رابطہ کیا اور انھیں مزید ویڈیو اور تصاویری شہادتیں فراہم کی ہیں۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے مقتول کے بھائی مہر جلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ "ان میں کچھ پرانی اور کچھ نئی ویڈیوز ہیں جن میں سی ٹی ڈی اہلکار فائرنگ کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔"

اس سے قبل ساہیوال واقعہ میں زندہ بچ جانے والے تین بچوں میں مقتول مہر خلیل کے بیٹے نے عینی شاہد کے طور پر اپنے بیان میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو بتایا تھا کہ 'سی ٹی ڈی پنجاب کے اہلکاروں نے پہلے گاڑی میں موجود ذیشان کو ہلاک کیا تھا۔'

'اس کے بعد ان میں سے ایک نے کسی سے فون پر بات کی اور اس کے بعد باقی اہلکاروں نے بھی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ان کے والد مہر خلیل، والدہ اور 13 سالہ بہن ہلاک ہو گئیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں