ایئربس کا 2021 سے A380 طیارے نہ بنانے کا اعلان

ایمرٹس A380 تصویر کے کاپی رائٹ Airbus
Image caption ایمرٹس ایئرلائن نے 123 اے تھری ایٹی طیارے آرڈر کیے، جن میں سے 14 اگلے دو برسوں میں ایمرٹس کو دیے جائیں گے۔ یہ تصویر اس موقع پر لی گئی جب ایمرٹس نے سوواں A380 وصول کیا تھا

یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئربس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2021 سے اپنے سُپر جمبو طیارے کی ڈلیوری بند کر دے گی، جس کا مطلب ہے کہ یہ طیارہ اب مزید تیار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کی مانگ ختم ہو چکی ہے۔

یہ اعلان ایمرٹس ایئرلائن اور ایئربس کی جانب سے جاری مشترکہ پریس ریلیز میں کیا گیا۔ ایئربس کے اس تاریخ ساز طیارے کو اکیلے سہارا دینے والی ایمرٹس ایئرلائن نے ہی اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکا اور گذشتہ سال آرڈر کیے گئے 39 طیاروں کی جگہ آج ایئربس سے اس کے جدید A350 اور NEO A330 لینے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

برٹش ایئرویز کا اسلام آباد کے لیے پروازیں بحال کرنے کا اعلان

یونائیٹڈ ایئر لائنز کے سربراہ نے معافی مانگ لی

مہینوں ایئرپورٹ میں رہنے والے کا سفر تمام ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ Airbus
Image caption ’ہائی فلائی‘ دنیا کی وہ واحد ایئرلائن ہے جس نے سنگاپور ایئرویز کے ایک سابق طیارے کو ویٹ لیز پر حاصل کیا اور اسے چارٹر پر چلا رہی ہے

جہاں گذشتہ دنوں ملائیشین ایئرلائن نے اس طیارے کے ساتھ اپنی خصوصی حج اور عمرہ کی سفری سہولت 'امل' کا اعلان کیا، وہیں اس طیارے کو سب سے پہلے استعمال کرنے والی سنگاپور ایئرلائن نے دس سال ایک طیارہ استعمال کرنے کے بعد ریٹائر کر دیا ہے اور بعد میں اس کے پرزے علیحدہ کر کے سکریپ کر دیا گیا۔

برٹش ایئرویز اور کئی دوسری ایئرلائنز جہاں چالیس سال پرانے 747 اب تک چلا رہی ہیں، وہیں ایک دس سال پرانے طیارے کے ساتھ ایسا سلوک ہوابازی کی تاریخ میں انوکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Airbus
Image caption ایئربس A380 کو حال ہی میں حاصل کرنے والی جاپانی فضائی کمپنی آل نیپون ایئرویز نے دو طیارے حاصل کیے ہیں

اس کی بنیادی وجہ اس طیارے کی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ کا نہ ہونا ہے۔ اگر ایمرٹس نہ ہوتی، جس کے پاس 123 ایسے طیارے ہوجائیں گے، تو شاید یہ طیارہ کبھی حقیقت ہی نہ بن سکتا۔

آخر ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے انجنیئرنگ کا شاہکار یہ عظیم الشان طیارہ اتنی جلدی اپنے انجام کو پہنچ گیا اور کیوں اسے خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

فریکوئنسی یا کپیسٹی؟

دنیا میں فضائی سفر میں آسانی کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ روزانہ کی بنیاد پر سفر کرتے ہیں۔ ماضی کی طرح اب ایسا ممکن نہیں کہ آپ مہینوں پہلے اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں۔ مسافر اب مختصر نوٹس پر سفر کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے فضائی کمپنیاں بڑے طیاروں کے ساتھ ہفتے میں چند پروازیں چلانے کے بجائے اب روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے طیاروں کے ساتھ پروازیں چلاتی ہیں ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Emirates
Image caption پاکستان میں صرف اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ وہ واحد ہوائی اڈہ ہے جس پر A380 طیارے کے لیے درکار سہولیات دستیاب ہیں

بڑے طیارے کے بڑے نخرے

اے تھری ایٹی ایک بڑا طیارہ ہے جس کے پروں کی چوڑائی اور دو منزلہ ڈیک وغیرہ اس بات کو مشکل بناتے ہیں کہ یہ ہر ایئرپورٹ پر جا سکے۔

زیادہ سے زیادہ 650 مسافروں کو لے جانے والے اس طیارے کو خالی کرنے یا اس پر مسافروں کو سوار کرنے کے لیے بڑی جگہ درکار ہوتی ہے۔ کم از کم تین ایئر برج درکار ہوتے ہیں جو دونوں منزلوں سے منسلک کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ ان طیاروں کے لیے لمبا رن وے اور پارکنگ کے لیے بھی زیادہ جگہ درکار ہوتی ہے۔

پاکستان میں صرف اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ وہ واحد ہوائی اڈہ ہے جس پر اس طیارے کے لیے درکار سہولیات موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Boeing
Image caption بوئنگ کا نیا 777X طیارہ جس کے آنے سے A380 کی مانگ میں شدید کمی واقع ہوئی

دو انجن یا چار انجن؟

اے تھری ایٹی چار انجنوں کے ساتھ اڑنے والا طیارہ ہے جس کی وجہ سے اس طیارے کے اخراجات اسی طرح کے دوسرے طیاروں کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس طیارے کی آمد کے ساتھ ہی بوئنگ کے 777 اور 787 اور ایئربس کے اے350 کی آمد نے دو انجنوں کے ساتھ ہی اتنے مسافر لے جانے کو ممکن بنایا جتنے یہ طیارہ لے جا سکتا ہے۔ رہی سہی کسر 777X نے پوری کر دی ہے جو بہتر اور جدید سہولیات کے ساتھ اگلے چند برسوں میں پرواز کرے گا۔

اسی بارے میں