شہباز شریف کی ضمانت منظور، فوری رہائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کی دو ریفرنس میں ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اُنھیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ملزم کے وکیل کو دس، دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ میاں شہباز شریف کو نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں گذشتہ برس اکتوبر میں گرفتار کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کا شہباز کو بچانے کا اعلان

’نیب اور حکومت کا ناپاک اتحاد ہے‘

آشیانہ کیس: شہباز شریف جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اس وقت منسٹر انکلیو میں رہ رہے ہیں اور ان کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ذرائع کے مطابق اس عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے سے متعلق جلد فیصلہ کیا جائے گا اور اس ضمن میں جلد اجلاس طلب کیا جائے گا۔

قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کیے گئے جن دو ریفرنس میں قائد حزب اختلاف کی ضمانت منظور کی گئی ہے اس میں آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور رمضان شوگر ملز شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی بھی ضمانت منظور کرلی ہے جبکہ آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ملزمان کی طرف سے دائر کی جانے والی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی۔

میاں شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے حکام ان کے موکل کے خلاف ایک بھی ایسا کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کرسکے جن کو دیکھ کر عدالت اس نتیجے میں پہنچے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب ان دونوں ریفرنس میں مجرم تصور کیے جائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے نقشے میں تبدیلی مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

نیب کے وکیل نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے لیے جس کمپنی کو پہلے ٹھیکہ دیا گیا تھا اس کو منسوخ کر کے پیراگان سٹی کی ایک سب کمپنی کو دے کر رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کو مالی فائدہ دینے کی کوشش کی گئی۔

رمضان شوگر ملز کے مقدمے میں بھی نیب کی وکیل نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس شوگر ملز کے قریب واقع نالے کی تعمیر اس مل کے مالکان کے ذمہ تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اقتدار میں آکر نالہ تعمیر کروایا جس سے سرکاری خزانے کو 213 ملین روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کا یہ موقف تسلیم کر لیا تو کوئی بھی منتخب عوامی نمائندہ ترقیاتی کام نہیں کرواسکے گا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد میاں شہباز شریف کی دونوں ریفرنس میں ضمانت منظور کر لی۔

قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے خلاف نیب ریفرنس درج ہونے پر حکومت ان پر دباو ڈالتی رہی کہ وہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہو جائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں