سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ: سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت کیوں؟

پاک سعودی تعلقات تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان

’پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کے انتہائی گہرے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو دہائیوں سے دونوں ممالک کے سربراہان متعدد بار دہرا چکے ہیں۔

اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان کو اندرونی معاشی یا سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہوا تو اس نے سب سے پہلے سعودی عرب سے مدد طلب کی۔

چاہے وہ جنرل ضیاالحق کے دور آمریت میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا معاملہ ہو یا نوے کی دہائی میں ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو درپیش معاشی بحران یا پھر جنرل مشرف کی ڈکٹیٹرشپ کے دور میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو سعودی عرب کی مداخلت کے بعد رہائی کا پروانہ ملنا ہو۔ سعودی عرب نے ہمیشہ سیاسی و معاشی بحران میں مبتلا پاکستان کی مدد کرنے کی کوشش کی۔

سات دہائیوں سے قائم یہ دو طرفہ تعلقات میں پاکستان کے لیے سعودی عرب کی اہمیت کی متعدد وجوہات سامنے آئیں ہیں جن میں سب سے پہلی اور اہم مذہبی طور پر سرزمین حجاز سے عقیدت و محبت اور بیت اللہ کا ہونا ہے۔ جبکہ دیگر میں پاکستان کو سستا تیل مہیا کرنا، مالی معاونت کرنا، اندرونی سیاسی بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے ساتھ متعدد معاملات پر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا ساتھ دینا۔

مگر پاکستان، جس کے پاس نہ تو تیل ہے اور نہ ہی مضبوط معیشت، ایسے میں سعودی عرب کے لیے کیوں اہم ہے؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے نکلیں تو بہت سے دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔

دفاعی اور عسکری معاونت

جب کبھی بھی سعودی عرب کو دفاعی، داخلی و خارجی سلامتی یا بین الاقوامی سیاسی میدان میں مشکل پیش آئی تو پاکستان فوراً مدد کو پہنچا ہے۔ یہ کہنا ہے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا جنھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کی چار بڑی ریاستیں پاکستان، ایران، ترکی اور سعودی عرب مذہبی، تاریخی اور تمدنی بنیادوں پر بہت قریب ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترکی، ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی خلیج نے سعودی عرب کے لیے پاکستان کی اہمیت اور بھی زیادہ کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں ایک دن کی تاخیر

سعودی ولی عہد کی آمد پر چار سطحوں کا سکیورٹی پلان ترتیب

’اب پیسے دیں تو بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے‘

’سعودی عرب نے خاشقجی قتل کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عسکری و دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ سعودی عرب پاکستان کو قابل اعتماد دوست تصور کرتا ہے

سعودی حکمرانوں کا پاکستان پر اعتماد ہے، پاکستان نے گذشتہ 60 برسوں میں متعدد بار سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کےلیے مدد فراہم کی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف سعودی عرب کی فوج کی تربیت سازی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ سعودی سلطنت کے استحکام پر بھی تعاون فراہم کیا ہے۔

سعودی عرب میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی نے اس پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ عسکری و دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ سعودی عرب پاکستان کو قابل اعتماد دوست ملک تصور کرتا ہے جو اس کو ہر مشکل کے وقت ایک بہتر مشورہ دے سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ سنہ 1983میں کیے جانے والا دفاعی معاہدہ جس پر پاکستان آج بھی قائم ہے اور جس کے نتیجے میں پاکستان نے اس وقت بہت سے فوجی دستے سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کے لیے فراہم کیے تھے اس کی اہمیت کو اجاگر کردیتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اب اس وقت وہاں پاکستانی فوجیوں کی دس ہزار سے بھی کم تعداد موجود ہے لیکن سعودی عرب کو یقین ہے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستان اس کی سالمیت کا دفاع ضرور کرے گا۔

پاکستان کی ایٹمی صلاحیت

اس ضمن میں پاکستان کا واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونا بھی اس کو سعودی عرب کے لیے اہم بناتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف پاکستان بطور ایٹمی ریاست ان کی ڈھال ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کا امریکہ سے دفاعی، معاشی اور تجارتی تعلق بہت مضبوط ہے لیکن ان کو اپنی داخلی اور خارجی سلامتی کے حوالے سے اس پر اعتبار نہیں ہے۔

سفارتی سطح پر پاکستان کی ضرورت

سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعلقات، سفارتی تعلقات سے زیادہ گہرے اور مضبوط ہونے کے باوجود سعودی عرب کو مسلم دنیا سمیت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی حمایت کی بھی ضرورت ہے جس کی مثال ہمیں صحافی خاشقجی کے قتل کے معاملےمیں ملتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے دو روزہ دورے پر آ رہے ہیں

جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا کہنا تھا کہ سفارتی سطح پر سعودی عرب کے ایران اور ترکی سے بڑھتے اختلافات بھی پاکستان کو ان کی نظر میں اہم بناتی ہے۔ لیکن سعودی عرب پر یہ حقیقت بھی آشکار ہے کہ پاکستان ان ممالک کے ساتھ اس کی وجہ سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرے گا۔

جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے اس بارے میں رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سعودی عرب کو اسلامی دنیا کے اندر سے چیلنجز کا سامنا ہے مثلاً ترکی اور قطر سے معاملات خراب ہیں، یمن سے بھی جنگ لڑ رہا ہے اور ایران پہلے ہی اس کے خلاف ہے ایسے میں اگر وہ پاکستان کو بھی نظر انداز کردے گا تو اسلامی دنیا میں سعودی عرب کے ہاتھ میں کیا رہ جائے گا۔

واشنگٹن ڈی سی میں سنٹر فار گلوبل پالیسی کے سنیر رکن اور انٹرنیشنل جیو پولیٹکس کے ماہر ڈاکٹر کامران بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا سعودی عرب کی دنیا بھر کو خام تیل کی برآمد کے باوجود وہ اب تک سیاسی اور عسکری طور پر ایک کمزور ریاست ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب گذشتہ سات آٹھ برسوں سے عالمی سطح پر مختلف شعبوں میں خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں وہ پاکستان کو اپنے لیے اہم معاون سمجھتا ہے۔

یمن جنگ اور پاکستان

سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ ان دو طرفہ تعلقات کو ایک بڑا دھچکا یمن کی جنگ کے دوران لگا جب سعودی عرب نے پاکستان سے عسکری مدد طلب کی لیکن پاکستان نے یمن میں فوج نہ بھیجنے اور اس جنگ میں فریق نہ بننے کا درست فیصلہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاک سعودی دو طرفہ تعلقات کو ایک بڑا دھچکا یمن کی جنگ کے دوران لگا

تاہم اس معاملے کو اس وقت کی حکومت سفارتی سطح پر اچھی طرح ہینڈل نہیں کر سکی۔ جس کے سبب پاک سعودی تعلقات میں کچھ سرد مہری بھی آئی۔ جس کے بعد سعودی عرب نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو دورے پر نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ ان کو سعودی عرب کا سب سے بڑا قومی ایوارڈ بھی دیا گیا جو اس وقت پاکستان سے ناراضی کا ایک اظہار بھی تھا۔

جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے سربراہ اور دفاعی تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ یمن کے معاملے پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے قائم دو طرفہ تعلقات میں اعتماد کی فضا کو ٹھیس نہیں پہنچی۔

سعودی معیشت میں پاکستان کا کردار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی ضرورت یا اہمیت کی ایک اور بڑی وجہ سعودی حکومت کا صنعتی پیداوار بڑھانے اور اس کے ذریعےمعیشت کی بہتری کا پلان ہے۔ جس کے تحت سعودی عرب اپنے مالی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے گوادر کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب مستقبل میں اپنی معیشت کا ڈھانچہ تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اپنا انحصار تیل کی آمدن پر کم کر کے معیشت کا رخ موڑنا چاہتا ہے۔ جس کے لیے اس کو مختلف منڈیوں کی تلاش ہے اور پاکستان 20 کروڑ کی آبادی کے ساتھ ایک ممکنہ بزنس مارکیٹ کے طور پر موجود ہے۔

کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار ڈاکٹر کامران بخاری نے بھی کیا کہ سعودی عرب اب تیل سے ہٹ کر دیگر ذرائع آمدن کے مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے۔ جب ایران انڈیا کے تعاون سے چاہ بہار بندرگاہ پر کام کر رہا ہے جس کا اثر خلیج فارس کی دیگر بندرگاہوں پربھی مرتب ہونے کا امکان ہے ایسے میں پاکستان کی نئی بندرگاہ گوادر میں سرمایہ کاری کرنا سعودی عرب کے اپنے مفاد میں ہے۔

57 ممالک پر مشتمل اسلامی دنیا کا مرکز سمجھے جانے والی اس ریاست میں سب سے زیادہ بیرونی افرادی قوت پاکستانیوں کی ہے اور یہ تعداد 22 لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

بدلتا افغانستان اور پاکستان کی ضرورت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان نے طالبان کے ساتھ ابتدائی مذاکرات میں سعودی عرب کو بٹھا کرعالمی تنہائی سے نکالا ہے

افغان امن عمل کے تحت امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں مستقبل میں بدلتے افغانستان پر سعودی عرب کے کردار پر بات کرتے ہوئے جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ابتدائی مذاکرات میں سعودی عرب کو بٹھا کرعالمی تنہائی سے نکالا ہے اور خطے میں اس کی حیثیت کو بحال کرنے میں مدد دی ہے۔

جبکہ عامر رانا کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغان جہاد میں سعودی عرب کا کردار ضرور رہا ہے مگر وقت کے ساتھ اس نے اس معاملے سے خود کو علیحدہ کیا تھا۔ لیکن اب ہونے والی ایک پیش رفت جس کا تعلق براہ راست مشرق وسطیٰ سے ہے، جب طالبان نے اپنا دفتر قطر میں قائم کیا جس کے بعد خطے میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے طالبان اور افغان امن عمل ان کے لیے اہم بن گیا ہے اور یہ سب پاکستان کی براہ راست مدد کے بنا ممکن نہیں ہے۔

ایران اور مذہبی مسلک پر اثر

یمن ہو یا شام، عراق ہو یا بحرین شیعہ سنی کشمکش جہاں جہاں نظر آتی ہے وہاں سعودی عرب اور ایران کے پس پردہ ملوث ہونے کے الزامات کبھی کھلے بندھوں اور کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں لگائے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کے ابتدائی 35-36 برسوں میں ایران کے ساتھ بہت قریبی تعلقات رہے ہیں

پاکستان میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے اور گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے ملک میں فرقہ واریت کے بڑھتے ہوئے مسئلہ کو دبے دبے الفاظ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان 'پراکسی وار' یا بالواسط لڑائی کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کی طرف سے فرقہ وارانہ تنظیموں کی مالی معاونت کے بارے میں عوامی حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی سفارتی مصلحتوں کے باوجود عوام کے لبوں پر بھی آ جاتی ہے۔

اس بارے میں عامر رانا کا کہنا ہے ملک میں موجود اہل تشیعہ آبادی کوئی بہت بڑی وجہ نہیں ہے لیکن ہم اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ پاکستان ایران کا نہ صرف ہمسایہ ملک ہے بلکہ پاکستان کے ابتدائی 35-36 برسوں میں ایران کے ساتھ بہت قریبی تعلقات رہے ہیں۔

جبکہ ڈاکٹر کامران بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا گریٹر مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنا اور خصوصاً پاکستان کی بڑی تعداد میں شعیہ آبادی اس کو سعودی عرب کے نقطہ نظر سے اہم بناتا ہے۔

اسی بارے میں