سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان: سعودی عرب میں قید دو ہزار سے زائد پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان

ولی عہد تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/KSAMOFAEN

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پیر کو اپنے ملک میں قید 2107 پاکستانیوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اس بات کی تصدیق پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@fawadchaudhry

گذشتہ شب وزیر اعظم پاکستان نے سعودی ولی عہد کی توجہ سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی طرف دلوائی تھی۔ سعودی ولی عہد کی آمد پر وزیرِاعظم ہاؤس میں دیے گیے عشائیے کے دوران اپنی تقریر میں وزیرِاعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ان کی رہائی کے لیے کام کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے خدا بھی خوش ہوگا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تین ہزار پاکستانی سعودی عرب کی جیلوں میں ہیں، اگر وہ ان کے لیے کچھ کر سکیں۔

اس پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ مجھ سے جو ہو سکا میں ان لوگوں کے لیے کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔‘

وزیرِ اعظم کی تقریر کے اس حصے کا سب ہی نے خیر مقدم کیا اور سوشل میڈیا پر کافی لوگوں نے ان کی اس بات کو سراہا بھی۔

پیر کی صبح ولی عہد نے اس بارے حوالے سے حکم جاری کرتے ہوئے سعودی عرب میں قید دو ہزار سے زائد پاکستانیوں کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا، جس کے فوراً بعد پاکستان کے وزیر اطلاعات نے اس بات کی تصدیق کی۔

عمران خان کے ناقدین نے بھی اس خبر کا خیر مقدم کیا ہے۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’باقی قیدیوں کے کیسز کا بھی فوری طور پر جائزہ لیا جائے گا۔‘

وزیرِ اطلاعات کے مطابق یہ وہ قیدی ہیں جو معمولی جرائم، مثلاً ویزے کے معیاد سے زیادہ قیام وغیرہ کی وجہ سے سزا کاٹ رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے محمد عثمان نے سعودی ولی عہد کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوش آئند عمل ہے۔

’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب دو ملک آمنے سامنے بیٹھ کر مظلوم طبقے کے مسائل پر بات کرتے ہیں تو اس کا مثبت نتیجہ ہی نکلتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اب پیسے دیں تو بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے‘

سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت کیوں؟

محمد بن سلمان: وکیل سے ولی عہد تک

سعودی ولی عہد کی آمد پر چار سطحوں کا سکیورٹی پلان ترتیب

انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کی پوری حمایت کرتے ہیں، لیکن یہ ایک طویل مسئلے کے حل کی طرف ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ ’حکومتِ پاکستان کو کونسلر سروسز کو مزید بہتر کرنا چاہیے کیونکہ کئی پاکستانی چھ ماہ تک صرف عدالتی کارروائی شروع ہونے کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں۔‘

سعودی عرب میں اس وقت 26 لاکھ پاکستانی ریاض، دمام، طائف اور جدہ میں رہائش پذیر ہیں جو وہاں مختلف پیشوں میں کام کرتے ہیں۔ لیکن ان میں زیادہ تر تعداد مزدور پیشے افراد کی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@pid_gov

ولی عہد کی مصروفیات

پیر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے ایک مصروف دن ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں عمران خان کے ساتھ ناشتے کے بعد سعودی مہمان صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

سعودی ولی عہد کی آج پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی ہوگی۔

ایوان صدر میں سعودی ولی عہد کے اعزاز میں آج ظہرانہ دیا جائے گا جب کہ شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے بھی نوازا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM Office
Image caption سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے پہلے مرحلے میں 20 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں

’20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بڑی رقم ہے‘

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دو روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، جس کے دوران آٹھ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے ہیں جن میں اہم ترین بلوچستان کے صنعتی شہر گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام ہے جو کہ آٹھ ارب ڈالر کا منصوبہ ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل روشن ہے۔ پچھلے برس بھی پاکستان نے پانچ فیصد شرح کے ساتھ ترقی کی اور اس قیادت کی موجودگی میں پاکستان کا مستقبل انتہائی تابناک ہے

انھوں کہا کہ 20 ارب ڈالر کے معاہدے پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کا اعلان ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان عالمی مالیاتی ادارے سے مدد کا طلبگار بھی ہے۔

عمران خان چاہتے ہیں کہ وہ آئی ایم ایف سے معاہدے سے قبل دوست ممالک سے جتنی ممکن ہو مدد حاصل کریں تاکہ آئی ایم ایف کی شرائط کی سختی میں کمی ہو سکے۔

عمران خان اور محمد بن سلمان کی ’ون آن ون‘ ملاقات

وزیراعظم عمران خان سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ون آن ون ملاقات کی۔ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی جس میں پاک سعودی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 25 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر وہاں محنت مزدوری کے لیے جاتے ہیں اور ایک عرصے تک گھروں سے دور رہتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ مزدور قانون پسند لوگ ہیں لیکن کچھ عرصے سے انھیں مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کو اپنی سطح پر دیکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM Office

وزیر اعظم عمران خان نے کہا لاکھوں پاکستانی ہر سال فریضہ حج کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں لیکن انھیں وہاں امیگریشن کے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد سے درخواست کی کہ عمر رسیدہ حاجیوں کی امیگریشن کا بندوبست پاکستان کے کچھ شہروں میں کیا جائے جس سے ’اللہ تعالی ان سے بہت خوش ہو گا۔‘

وزیرِ اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد کے درمیان بات چیت کے دوران سعودی عرب اور پاکستان میں سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے کردار پر بھی بات کی گئی۔

یہ کونسل باہمی مفاہمت کے پراجیکٹ اور ان کے تکمیل کے مراحل اور اس میں پیش آنے والے مسائل کا جائزہ لے گی۔

بعد ازاں سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس ہوا جس کی صدارت محمد بن سلمان اور وزیراعظم عمران خان نے کی۔ اعلیٰ سطح کونسل کے قیام کی تجویز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دی تھی جس میں دونوں ممالک کے خارجہ امور، دفاع اوردفاعی پیداوارکے وزرا شامل تھے۔

وزیرِاعظم ہاؤس میں سعودی اور پاکستانی حکام نے معدنیات، سعودی سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں تکنیکی تعاون، میٹرولوجی، کھیل، پیٹروکیمیکل سیکٹراور بجلی کی پیداوار کے شعبوں میں یادداشتوں پر دستخط بھی کیے۔

سعودی ولی عہد کا پاکستان میں ’پرتپاک‘ استقبال

شہزادہ محمد بن سلمان کا طیارہ جب پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو پاکستان فضائیہ کے طیاروں نے اسے حفاظتی حصار میں لے لیا۔ پاک فضائیہ کے طیارے مہمان کے طیارے کے دائیں اور بائیں جانب فارمیشن میں پرواز کرتے ہوئے انھیں راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس پر لائے۔ وزیرِ اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی مہمان کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

عمران خان سعودی ولی عہد کو اپنی گاڑی میں پی ایم ہاؤس لے کر آئے۔ سعودی ولی عہد کو وزیرِاعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ وزیرِاعظم ہاؤس میں ان کےاعزاز میں دئیے گئے عشائیے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک تھے۔

ولی عہد کی پاکستان آمد سے تھوڑی دیر پہلے سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر راولپنڈی کے نور خان ائیر بیس پہنچے جہاں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپریل 2017 میں ولی عہد کا درجہ ملنے کے بعد محمد بن سلمان کا یہ پہلا باضابطہ غیر ملکی دورہ ہے

محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان ’اہم’ کیوں ہے؟

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد پاکستانی وزیر اعظم کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں۔ محمد بن سلمان کا پاکستان آنا ایک تاریخی دورہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اپریل 2017 میں ولی عہد کا درجہ ملنے کے بعد محمد بن سلمان کا یہ پہلا باضابطہ غیر ملکی دورہ ہے۔ پاکستان اس دو روزہ دورے سے بہت پرامید ہے۔

سعودی ولی عہد ایسے وقت پاکستان آئے ہیں جب پاکستان معاشی طور پر اپنے قریب ترین اتحادیوں کی مدد چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہت مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

جہاں عمران خان قریب ترین اتحادیوں کی معاشی مدد چاہتے ہیں وہیں محمد بن سلمان یمن میں ہونے والی جنگ اور صحافی جمال خاشقجی کی اپنے ہی سفارت خانے میں قتل کے بعد دنیا بھر میں سعودی عرب کا ایک اچھا رخ دکھانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں