بلوچستان کے علاقے پنجگور میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، چار اہلکار ہلاک

بلوچستان تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے پنجگور میں سیکورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے کم از کم چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ضلع انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ ضلع کے علاقے گوران میں کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق اس علاقے میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار معمول کے گشت پر تھے۔

انھوں نے بتایا جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار گوران کے علاقے میں پہنچے تو نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اس واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

لورالائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر حملہ، نو ہلاک

لورالائی: ایک ماہ میں چار حملے کیوں؟

لورالائی میں چھاؤنی پر حملہ، حملہ آوروں سمیت آٹھ ہلاک

بلوچستان: عسکریت پسند تنظیموں کی ’مشترکہ کارروائی‘

گلگت اور بلوچستان میں حملے، تین افراد ہلاک، پانچ زخمی

پنجگور بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے جس کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں اس واقعے کو بلوچستان اور اس کی ترقی کے خلاف سازش قرار دیا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران سیکورٹی فورسز پر یہ دوسرا حملہ تھا۔

گذشتہ روز لورالائی شہر میں مسلح افراد کے حملے میں سیکورٹی فورسز کے دو اہلکار مارے گئے تھے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد سلمان وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر اتوار کی شب دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے۔

سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ’پہلے مرحلے‘ میں 20 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

اسی بارے میں