جعلی اکاونٹس کا معاملہ اہم ہے، نظرانداز نہیں کر سکتے: سپریم کورٹ

پاکستانی کرنسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر سندھ پولیس کے سربراہ کو بھی طلب کیا گیا ہے اور یہ سماعت کراچی میں ہو گی

سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ممالک بھیجنے سے متعلق سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور اومنی گروپ کے سربراہ کی طرف سے دائر کی گئیں نظرثانی کی اپیلیں مسترد کردی ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اتنے اہم معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بلاوجہ نظرثانی کی اپیلں دائر کرنے پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کو نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کس کس کو منتقل ہوئے؟

جعلی اکاؤنٹس: پیسہ جو آپ کے اکاؤنٹ میں ہے مگر آپ کا نہیں

’منی لانڈرنگ‘:زرداری ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاونٹس سے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ممالک سمگل کرنے کے مقدمے سے متعلق نظرثانی کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اتنی بڑی رقم بیرون ممالک منتقل ہونے پر آصف علی زرداری کی بجائے تو قلفی اور فالودہ بیچنے والے ان افراد کو عدالت میں آنا چاہیے جن کے اکاونٹس استعمال ہوئے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر بیرون ممالک بھیجی گئی رقم سابق صدر آصف علی زرداری یا ان کی بہن کی نہیں ہے تو اُنھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تاہم عدالت اس معاملے کی تحققیات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو یہ حکم نہیں دے سکتی کہ وہ مزکورہ افراد کے خلاف کارروائی نہ کریں۔

جعلی بینک اکاونٹس سے متعلق سپریم کورٹ کے 7جنوری کے فیصلے میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے اور قومی احتساب بیورو کو ذمہ داروں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں جے آئی ٹی کو ہر دو ہفتوں کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کروانے اور دو ماہ میں رپورٹ مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آْئی کے افسر کو بھی شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔

آصف علی زرداری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے نظرثانی کی اپیل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں آئی ایس آئی کے افسر کو شامل کرکے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ صرف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ملزمان میں شامل ہیں۔

سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے حکام کرر ہے تھے اور یہ معاملہ دو سال سے چل رہا ہے اور ایسے مرحلے پر جب ایف آئی اے کے حکام ایک عبوری چالان بینک کورٹ میں جمع کروا چکے ہیں تو اس وقت سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ایسا کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی جو کہ قانون سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کے حکام نے عدالت میں درخواست دی تھی کہ ان کے پاس وائٹ کالر کرائم کاسراغ لگانے کے اہلیت نہیں ہے جس پر سابق صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ دیگر تحققیاتی ادارے اس ضمن میں ایف آئی اے کے ساتھ تعاون کرنے کے پابند ہیں تو پھر ایک اور تفتیشی ٹیم بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان اکاؤنٹ کو جعلی کے بجائے مشکوک اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ حقیقی شناختی کارڈ پر کھولا گیا ہوتا ہے تاہم اس میں موجود رقم اس نام کے شخص کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی اور نہ اس کی ملکیت ہوتی ہے۔

سردار لطیف کھوسہ نے سوال اٹھایا اگر ایف آئی اے اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کسی مقدمے کی تفتیش کرسکے تو ایسے ادارے کو پھر بند کردینا چاہیے۔

بینچ کے سربراہ نے سابق صدر کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل190 کے تحت سپریم کورٹ کسی بھی ادارے کو تحقیقات کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ابھی تو ان کے موکل اس مقدمے میں ملزم بھی نامزد نہیں ہوئے تو پھر اُنھیں اتنی پرشانی کیوں ہے۔

سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا زبانی حکم دیا تھا لیکن جب تحریری فیصلہ آیا تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا جس پر جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا جو شواہد عدالت میں پیش کیے گئے تھے ان کو سامنے رکھتے ہوئے ہی تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔

آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں تمام مقدمات اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ یہ تمام واقعات کراچی میں ہوئے ہیں اور تمام گواہان کا تعلق بھی کراچی سے ہے جس پر بینچ نے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے اور وہ کہیں پر بھی اس کی تحقیقات کروا سکتا ہے۔

فریال تالپور کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایسا اقدام صوبائی خود مختاری میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے اور اگرعدالت کا یہ موقف درست تسلیم کرلیا جائے تو ملک کے دیگر علاقوں میں احتساب عدالتوں کو ختم کرکے اسلام آباد میں ہی منتقل کردیا جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب ایکٹ میں یہ قانون موجود ہے کہ جس کے خلاف مقدمہ چل رہا ہو تو وہ اس مقدمے کی سماعت کہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست دائر کرسکتا ہے۔

اسی بارے میں