سہیل وڑائچ کا کالم: پاکستانی سیاست اور شاہی دورہ

عمران خان، محمد بن سلمان تصویر کے کاپی رائٹ PM Office

یہ بات تو طے ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورۂ پاکستان قطعاً غیر سیاسی تھا مگر اس کے سیاسی اثرات بہرحال مرتب ہوئے ہیں۔

چاہے وقتی طور پر ہی سہی عمران خان کو ذاتی طور پر اور تحریک انصاف کی حکومت کو سیاسی سہارا ملا ہے۔ معاشی گرداب اور بری طرز حکمرانی کی شکار حکومت کو سات ماہ بعد پہلی بار سر اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ سیاسی مخالف، سعودی ولی عہد کے احترام، شان و شوکت اور چکا چوند سے خاموش ہو گئے ہیں۔ اربوں ڈالر کے منصوبوں کے اعلانات سے امیدوں کے چراغ روشن ہو گئے ہیں اور مخالفوں کے الزامات پر اوس پڑ گئی ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے اگرچہ براہ راست کوئی سیاسی بیان نہیں دیا مگر وزیر اعظم عمران خان سے ان کی قربت ، مسکراہٹوں کے تبادلے اور گفتگو میں خاص التفات ظاہر ہو رہا تھا۔ ان کے ایک فقرے ’ہم سرمایہ کاری کے لیے قابل اعتماد پارٹنر کی تلاش میں تھے جو موجودہ حکومت کی صورت میں میسر آ گیا ہے‘، پر حاشیہ آرائی کی جا رہی ہے کہ اس کا مطلب عمران خان کی شفاف حکومت کی تعریف اور ماضی کی کرپٹ حکومتوں پر تنقید ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اب سعودی عرب ہمارے لیے سمٹ رہا ہے‘

سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان

سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت کیوں؟

ہو سکتا ہے کہ ولی عہد کا مطلب یہی ہو یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھوں نے اسے عمومی طور پر استعمال کیا ہو لیکن اس جملے اور دوسری علامتوں سے اشارہ ملتا ہے کہ کم از کم چار دہائیوں کی سعودی مہربانیوں کے بعد ن لیگ اب ان کے دست شفقت سے محروم ہو چکی ہے اور اب عمران خان شریف خاندان کی جگہ لے چکے ہیں۔

کوئی ایسی خبر بھی سامنے نہیں آئی کہ سعودی شاہی وفد نے ابتلا میں مبتلا شریف خاندان کا حال چال پوچھا ہو یا ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہو۔ اس بار تو سعودی وفد نے اپنے ہم مسلک علما سے بھی ملاقات نہیں کی حالانکہ اس سے پہلے سعودی عرب سے آنے والے ہر عالم یا وزیر کبیر، ان کے لیے ضرور وقت نکالتے تھے۔

کسی زمانے میں جماعتِ اسلامی پر سعودی نوازشات برستی تھیں۔ مولانا مودودی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں شاہ فیصل ایوارڈ دیا گیا تھا مگر اس بار جماعت اسلامی کے کسی رہنما کو بھی شرف بازیابی نہ ملا۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کئی دہائیوں سے سعودی عرب کی گڈ بکس میں آنے کی کوشش میں ہے لیکن سارے دورے میں ان کی جماعت کے کسی نمائندے کی جھلک تک نظر نہیں آئی۔

آصف زرداری اور پیپلز پارٹی تو خیر عرصۂ دراز سے سعودی عرب کی ترجیحات میں کہیں بھی موجود نہیں ہیں اس لیے پیپلزپارٹی کو لفٹ نہ کرانا تو سمجھ میں آتا ہے مگر ماضی کے اتحادیوں اور دوستوں کو یکسر نظر انداز کرنا سعودی انداز فکر میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

دوسری طرف عمران حکومت نے بھی اس دورے پر اپنی اجارہ داری قائم رکھی۔ سیاسی مخالفین کو ملاقات کا موقع دینا تو کجا انہوں نے چودھری شجاعت حسین جیسے بھلے مانس اتحادی کو بھی ڈھنگ سے دعوت نہیں دی۔ دانستہ یا نا دانستہ عمران خان اس دورے کا سارا کریڈٹ خود لینا چاہتے تھے اور وہ اپنی اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption عمران خان سعودی ولی عہد کو اپنی گاڑی میں پی ایم ہاؤس لے کر آئے

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو دنیا کے صرف دو ممالک ایسے ہیں جو کبھی بالواسطہ اور کبھی بلا واسطہ پاکستانی سیاست کے اہم ترین کردار رہے ہیں۔ 70 سالہ تاریخ میں ہر سیاسی تبدیلی سے پہلے امریکہ کو آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔ کبھی کبھی آنے والی تبدیلی کی اجازت بھی لی جاتی رہی ہے۔ جتنے بھی مارشل لا لگے ان کے نفاذ سے پہلے یا فوراً بعد امریکہ کو ان ناگزیر حلات کے بارے میں ضرور بریف کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ تبدیلی لانی پڑی۔

دوسری طرف سعودی عرب کو برادر اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے جو خاص مقام حاصل ہے اس کی واضح جھلک اندرونی سیاست میں بھی نظر آتی ہے کم از کم نصف صدی سے مشاہدہ یہی ہے کہ ہر نئی حکومت کا سربراہ پہلا دورہ ہمیشہ سعودی عرب کا ہی کرتا ہے۔ 1977 میں جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان شدید تناؤ تھا تو مذاکرات کی راہ ہموار کرنے والوں میں سعودی سفیر ریاض الخطیب بھی شامل تھے۔

میاں نواز شریف کی جلاوطنی کی ڈیل کروانے اور پھر انھیں واپس بھجوانے میں سعودی عرب ہی کا کردار تھا۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے بھی ایسی ہی افواہیں گرم ہوئیں کہ سعودی عرب سے آنے والے خصوصی طیارے میں شہباز شریف سعودی عرب گئے اور وہاں ولی عہد سے ملاقات کی۔ میاں نواز شریف بھی ملاقات سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے وہ بھی شریک گفتگو ہوئے۔ اس ملاقات کے حوالے سے افواہیں بہت پھیلیں۔ یہ بھی کہا گیاکہ چونکہ عمران خان کا جھکاؤ ایران کی طرف ہے اس لیے شہباز شریف کو وزارت عظمٰی کا گرین سگنل مل گیا ہے مگر یہ سب افواہیں ہی ثابت ہوئیں، زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM Office
Image caption اندازہ یہی ہے کہ پاکستانی فوج نے بالعموم اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم عمران خان کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہو گا

یہ بھی پڑھیے

’پاک-سعودی تعلقات کی گہرائی بڑھتی رہی‘

’اب پیسے دیں تو بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے‘

سعودی ولی عہد کے دورۂ پاکستان پر پاکستان تحریک انصاف کا حالیہ جوش اور امڈتی خوشی اس کی ماضی کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ تحریک انصاف نے سعودی عرب اور یمن کی لڑائی میں پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھیجنے کی شدید مخالفت کی تھی شاید اس وقت نواز شریف اور پاک فوج بھی یہی چاہتے تھے مگر اس قومی فیصلے کے برے اثرات صرف اور صرف شریف خاندان پر پڑے اور سعودی مہربانوں سے دور ہو گئے۔

باقی فریقوں نے اپنی اپنی وضاحتیں دے کر سعودی حکمرانوں کو راضی کر لیا۔ دوسری طرف تحریک انصاف جو فوج بھیجنے کی سب سے زیادہ مخالف تھی حکومت مین آنے کے بعد سعودی عرب سے معاشی امداد مانگنے پر مجبور ہو گئی۔ اندرونی کہانی کا تو علم نہیں لیکن بظاہر اندازہ یہی ہے کہ پاک فوج نے بالعموم اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے با لخصوص ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم عمران خان کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہو گا۔

سعودی ولی عہد کے دورۂ پاکستان کے بہت سے مثبت معاشی اور سیاسی اثرات پڑیں گے مگر ساتھ ہی پاکستان کے لیے اندرونی اور بیرونی چیلنچز میں اضافہ بھی ہو گا۔ سعودی عرب سے قربت کی وجہ پاکستان کے متنوع شیعہ، سنی اور اہل حدیث مکاتب فکر میں دوبارہ سے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ ایران کے بعض حامی گروہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی باتیں پوسٹ کیں جس پر ریاست پاکستان کو متحرک ہونا پڑا۔ ایک دو جگہ پر احتجاجی مظاہروں کی بھی کوشش کی گئی لیکن وقت سے پہلے پتہ چلنے پر سکیورٹی اداروں نے ان کو کنٹرول کر لیا۔

ولی عہد کے دورے کی چکا چوند ختم ہونے کے بعد حکومت پاکستان کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہییں جس سے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رہے اور ہم جوش میں کہیں کسی ایران مخالف عالمی منصوبے کا حصہ بن جائیں۔

بالکل اسی طرح ہم چین کی طرف سے سی پیک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پربہت زیادہ خوش ہوکر مغربی دنیا اور بالخصوص امریکہ کو نظر انداز نہ کر دیں۔ بہترین پالیسی یہی ہو گی کہ کسی نئے جنگی اتحاد میں شرکت کی بجائے صرف اور صرف معاشی پارٹنر شپ پر توجہ دی جائے۔

اسی بارے میں