نیب نے آغا سراج درانی کو آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں گرفتار کر لیا

آغا سراج درانی تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے بارے میں نیب تحقیقات کر رہا تھا جبکہ اس ضمن میں ریفرنس ابھی تک کراچی کی احتساب عدالت میں دائر نہیں کیا گیا

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ اسمبلی کے سپیکر اور پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کو آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

سندھ اسمبلی کے سپیکر کو بدھ کو اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل سے گرفتار کیا گیا اور انھیں احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کا تین دن کا راہداری ریمانڈ لے لیا گیا ہے جس کے بعد اب انھیں کراچی منتقل کیا جائے گا۔

نیب کی جانب سے اس سلسلے میں جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ملزم پر آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جعلی اکاونٹس کیس: زرداری کی درخواستیں مسترد

پنجاب کے سینیئر وزیر علیم خان نیب کی حراست میں

’جعلی اکاؤنٹس سے 54 ارب روپے بیرون ملک منتقل ہوئے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ آغا سراج درانی کی گرفتاری کا معاملہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اٹھائے گی اور اس معاملے میں حزب مخالف کی دیگر جماعتوں سے مشاورت بھی کی جائے گا۔

جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’ہم بےنامی وزیراعظم کو بےوردی آمریت قائم نہیں کرنے دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سپیکر پر یہ ’حملہ‘ ناقابلِ قبول ہے اور ’سندھ حکومت کو گرانے کی غیرجمہوری کوشش پہلے بھی ناکام ہوئی اور اب بھی ہو گی۔‘ بلاول کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیرجانبدار اداروں کو سیاسی انجینئرنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نیب حکام کے مطابق ملزم سراج درانی کی گرفتاری نیب کراچی کی ٹیم نے راولپنڈی اور اسلام آباد کی ٹیم کی معاونت سے کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ NAB

ادھر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ملزم آغا سراج درانی کا تین روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اُنھیں نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔ نیب کے حکام نے ملزم کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا اور ان سے سات دن کے راہداری ریمانڈ کی درخواست کی۔

اس پر عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو کراچی منتقل کیا جانا ہے اس لیے اتنے دن کا راہداری ریمانڈ دینے کی ضرورت نہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر نیب چاہے تو ملزم کو آج ہی کراچی منتقل کرسکتی ہے۔

نیب حکام کے مطابق ملزم کو اثاثہ جات ریفرنس میں نیب کراچی کی ٹیم نے متعدد بار طلب کیا تھا لیکن نہ وہ خود پیش ہو رہے تھے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی وضاحتی بیان دے رہے تھے۔

نیب حکام کے مطابق فی الوقت ملزم کی گرفتاری آمدن سے زیادہ اثاثوں کے ریفرنس میں ہوئی ہے جبکہ غیر قانونی بھرتیوں اور قومی خزانے میں مبینہ طور پر گھپلوں سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے بارے میں نیب تحقیقات کر رہا تھا جبکہ اس ضمن میں ریفرنس ابھی تک کراچی کی احتساب عدالت میں دائر نہیں کیا گیا۔

نیب حکام نے اس پیش رفت کے بارے میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو آگاہ کیا اور ان سے ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی جو منظور کر لی گئی۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپیکر ایک آئینی عہدہ ہے اور آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد اگرچہ ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی سپیکر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے تاہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب انھیں اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے بلایا جائے گا تو کیا وہ سپیکر کی حثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے یا نہیں؟

قانونی ماہرین کے مطابق سپیکر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کرسکتا ہے۔

سراج درانی پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت میں پہلے مرکزی رہنما ہیں جنھیں آمدن سے زیادہ اثاثوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس سے اربوں روپے مبینہ طور پر بیرون ملک بھجوانے کے معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو تفتیش مکمل کرنے اور نیب کو شواہد ملنے پر ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی حکم دے رکھا ہے۔

ان ملزمان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور قابل ذکر ہیں۔ ان ملزمان کی جانب سے اس مقدمے کی کارروائی اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ پہلے کی نظرثانی کی اپیلیں مسترد کرچکی ہے۔

اسی بارے میں