موٹر بائیک رائڈ: 'مردوں کو بتانا ہے اب ہم آپ سے نہیں ڈرتے‘

مناہل تصویر کے کاپی رائٹ Minahil Baloch
Image caption ’میں عام طور پر بس سے سفر کرتی تھی۔ اگر ٹیکسی سے جاؤں تو مجھے 900 روپے دینے پڑتے ہیں، لیکن اگر موٹر سائیکل سے جاؤں تو کرایہ 300 روپے سے بھی کم بنتا ہے‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا بحران معمول کی بات ہے جس سے ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات متاثر ہوتی ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے موٹر سائیکل چلانے کی قبولیت نہ ہونے کے باعث، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے برعکس یہاں کی خواتین موٹر سائیکل نہ صرف چلاتی نہیں بلکہ آن لائن رائڈ شئیرنگ ایپس مثلاً کریم، اوبر اور بائیکیا وغیرہ کی طرف سے دی جانے والی اس سہولت سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتیں، لیکن کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جو اب اس روایت کو توڑ رہی ہیں۔

ایسی ہی ایک لڑکی مناہل ہیں۔ مناہل رائڈ شئیرنگ ایپس کی طرف سے دی جانے والی اس سہولت سے نہ صرف فائدہ اٹھاتی ہیں بلکہ انھوں نے ٹرانسپورٹ کے مسائل کا شکار دوسری لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی بائیک رائڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کی ہے۔

مناہل کراچی کی رہائشی ہیں اور مقامی یونیورسٹی سے میڈیا اینڈ فلم کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان کی یونیورسٹی ان کے گھر سے دو گھنٹے دور ہے۔

جب مناہل سے پوچھا گیا کہ انھیں ایسا کرنے کا خیال کیسے آیا تو انھوں نے بتایا: ’کراچی بہت بڑا شہر ہے اور میرا گھر مرکزی شہر سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ جب دیکھا کہ جیب میں پیسے نہیں ہیں اور جتنی کم رقم میرے پاس ہے اسی میں سارے خواب پورے کرنے ہیں تو بسوں اور ویگنوں میں دھکے کھانے کے بعد مجھے یہ ہمت کرنی ہی پڑی اور میں نے بائیک رائڈ لینے کا فیصلہ کیا۔‘

’میں عام طور پر بس سے سفر کرتی تھی۔ اگر ٹیکسی سے جاؤں تو مجھے 900 روپے دینے پڑتے ہیں، لیکن اگر موٹر سائیکل سے جاؤں تو کرایہ 300 روپے سے بھی کم بنتا ہے۔‘

پہلے دن کا تجربہ کیسا رہا؟

’پہلے دن تو مجھے بہت ڈر لگا۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ بائیک چلانے والے نے کال کر کے پوچھا کہ کیا آپ نے ہی جانا ہے؟ غلطی سے تو رائڈ بک نہیں ہو گئی؟ میں نے کہا نہیں نہیں، میں نے ہی جانا ہے اور میں نے ہی بک کی ہے۔ جب پہلا تجربہ اچھا رہا تو بس پھر میرا دل بن گیا کہ اب ایسے ہی سفر کرنا ہے۔ میرے ساتھ ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔‘

مناہل نے بتایا کہ خاتون دیکھ کر اب تک صرف ایک ہی رائڈر نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کیا ہے۔

گھر والوں کا ردِعمل

اکثر لڑکیوں کے گھر والے ایسی بات پر اعتراض کرتے اور کہتے کہ ایک اجنبی کے ساتھ بائیک رائڈ لینا مناسب نہیں، لیکن مناہل نے بتایا کہ ان کے گھر والوں نے اس معاملے میں ان کا کافی ساتھ دیا۔ ’ہم جس علاقے میں رہتے ہیں وہ تھوڑا پسماندہ ہے اس لیے ابتدا میں انھوں نے بس اتنا کہا کے خیال کیا کرو، اپنے علاقے میں موٹر بائیک پر مت سفر کرو، اگر تمھارے لیے بائیک رائڈ ایک آسانی ہے تو اپنے علاقے سے باہر بے شک لے لیا کرو۔‘

سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرنے کا کیوں سوچا؟

’جب بھی میں اپنی خواتین دوستوں سے اس بارے میں بات کرتی تھی اور انھیں کہتی تھی کہ بائیک رائڈ لیا کرو تو وہ کافی گھبراتی تھیں، تو میں نے کہا کہ چلو میں ایک ویڈیو بناؤں گی اور اسے پوسٹ کروں گی تا کہ لڑکیاں اسے دیکھیں کہ یہ محفوظ ہے اور اسے لڑکیاں بھی استعمال کر سکتی ہیں۔‘

مناہل کہتی ہیں کہ خواتین کو عوامی جگہوں پر اپنا حق جتانے کی ضرورت ہے۔ ’میرا زندگی کا ایک مقصد ہے کہ میں ہر اس جگہ پر جاؤں گی اور اپنا حق جتاؤں گی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عورتوں کے لیے نہیں یا یہ عورتوں کے لیے محفوظ نہیں کیوں کہ یہاں پر تو مرد زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر چاہے وہ کوئی ڈھابہ ہو یا ایسی پبلک رائڈ۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Minahil Baloch
Image caption ’رشتہ دار باتیں کرتے ہیں۔ گھر آکر اماں ابا سے کہتے ہیں کہ یہ کیا کر رہی ہے، پتا نہیں کیا کیا ویڈیوز ڈالتی رہتی ہے‘

سوشل میڈیا پر ملنے والا ردِعمل کہیں حوصلہ شکنی کا باعث تو نہیں بنا؟

سوشل میڈیا پر ملنے والے منفی ردِعمل پر مناہل کہتی ہیں کہ ان کی ہمت بالکل نہیں ٹوٹی اور نہ ہی وہ بائیک رائڈ کرنا چھوڑیں گی۔

’کافی خواتین ایسی ہیں جن پر میری ویڈیو کا مثبت اثر پڑا ہے اور میرے کہنے سے انھوں نے بائیک کا استعمال کرنا شروع کیا ہے یا مستقبل میں کریں گی۔ اور بھی خواتین دیکھیں گی تو وہ بھی استعمال کریں گی۔ اگر دو تین لڑکیاں بھی میرے کہنے سے بائیک رائڈ لیتی ہیں تو میرے حساب سے تو یہ بہت اچھا ہے۔‘

عام طور پر ہمارے معاشرے میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر لڑکیوں کے گھر والے سوشل میڈیا پر ان کے ویڈیوز پوسٹ کرنے یا مختلف تجربات شئیر کرنے کو پسند نہیں کرتے، مگر مناہل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بہت ’اوپن‘ ہیں اور ان کے گھر والے سب کچھ جانتے ہیں۔ ’کبھی کبھی کہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، لیکن زیادہ تر وہ مجھے سپورٹ کرتے ہیں، ان کو پتا ہے میں کچھ سوچ کر ہی یہ چیز کر رہی ہوں گی۔‘

’ہاں یہ ہے کہ رشتہ دار باتیں کرتے ہیں۔ گھر آکر اماں ابا سے کہتے ہیں کہ یہ کیا کر رہی ہے، پتا نہیں کیا کیا ویڈیوز ڈالتی رہتی ہے۔‘

’مردوں کو ہم نے یہ بتانا ہے کہ اب ہم آپ سے ڈرتے نہیں ہیں‘

اس سوال پر کیا اب پاکستانی معاشرے میں خواتین اس قابل ہو گئی ہیں کہ کھلے عام اس طرح بائیک رائڈ لے سکیں؟ مناہل کہتی ہیں ’ہم وہاں تک پہنچ جائیں گے لیکن اس تبدیلی کے لیے ہمیں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا شروع کرنا ہوں گے۔ دیکھیں مرد باتیں کرنا نہیں چھوڑیں گے، ان کو کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن مردوں کو ہم نے یہ بتانا ہے کہ اب ہم آپ سے ڈرتے نہیں ہیں۔‘

’ہم اب نہیں ڈریں گے اور عوامی جگہوں پر اپنا حق اسی طرح جتائیں گے جیسے کہ آپ جتاتے ہیں اور آپ ہمیں نہیں روک سکتے۔‘

مناہل کہتی ہیں اگر پسماندہ علاقے سے تعلق کے باوجود وہ یہ کام کر سکتی ہوں تو چھوٹے شہروں میں رہنے والی لڑکیاں بھی کر سکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہر ایک کے اپنے اپنے مسائل ہوتے ہیں ’میری فیملی سپورٹ کرتی ہے، ہر ایک کی فیملی نہیں کرتی، لیکن جس طریقے سے بھی خواتین عوامی جگہوں پر اپنا حق جتا سکیں، انھیں جتانا چاہیے۔‘

اپنے جیسی ٹرانسپورٹ کے مسائل کا شکار دوسری خواتیں کے لیے پیغام میں مناہل کہتیں ہیں ’دیکھو زندگی ایک بار ملتی ہے اگر زندگی جینی ہے تو جو دل چاہے وہ کرو اور اگر پیسے کم ہیں تو بائیک رائڈ لینی شروع کردیں اور اگر ہو سکے تو پیسے بچا کر اپنی موٹر بائیک خرید لیں جیسا کہ میرا بھی ارادہ ہے۔‘

’جب تک یہ چیز آپ کے دماغ میں ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور آپ اس کی ٹینشن لیتے ہیں تو آپ سے کچھ نہیں ہوگا۔ لوگ تو کہتے رہتے ہیں، وہ نہیں رکیں گے لیکن وہ آپ کے بل نہیں ادا کرتے، اس لیے ہمیں ان کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔‘

سوشل میڈیا پر ردِعمل

سوشل میڈیا پر اپنی بائیک رائڈ کی ویڈیو شیئر کرنے پر مناہل کو کچھ ملا جلا ردِعمل ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@BinaShah

پاکستانی مصنفہ بنیا شاہ کو تو ان کی بائیک رائڈ بہت پسند آئی اور انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا ’کریم بائیک صرف لڑکوں کے لیے نہیں۔۔۔ لڑکیاں بھی اسے استعمال کر سکتی ہیں۔ مجھے یہ بہت پسند آئی۔ ایک ہی وقت میں حدود توڑتے ہوئے پیسوں کی بچت بھی۔‘

سمرینا ہاشمی نے انھیں شاباش دیتے ہوئے کہا ’ایک پر اعتماد لڑکی دیکھ کر خوشی ہوئی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@MohsinHijazee

محسن حجازی نے بھی مناہل کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ’بھادر اور ٹرینڈ سیٹر لڑکی‘ پکارا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@leo554323

جہاں کافی خواتین اور مرد حضرات نے ان کی ہمت کی داد دی وہیں مسٹر گرے نامی ٹوئٹر صارف نے ان کی ویڈیو پر کہا ہے ’تہذیب کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@You_A_Que

ایک اورٹوئٹر صارف عثمان قریشی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ’آپ کو مزید کامیابی ملے۔ ہمارے معاشرے میں ظاہری وضع قطع کی بنیاد پہ آپ کے بارے میں منفی رائے قائم کر لی جاتی ہے۔۔۔ زندگی بہت آسان ہو جائے گی اگر ہم دوسروں کو بھی وہی مارجن دینے شروع کردیں جو ہم اپنے لیے رکھتے ہیں۔‘

اسی بارے میں