فواد چوہدری اور نعیم الحق کے درمیان ٹویٹس کا تبادلہ، اختلاف رائے کا اظہار سب کے سامنے کیوں؟

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption نعیم الحق نے ایک اور ٹویٹ کی کہ 'پی ٹی آئی میں تمام نئے آنے والوں کو عمران خان کے فلسفے کی پیروی کرنی چاہیے اور اسے سمجھنا چاہیے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما نعیم الحق نے گذشتہ روز پی ٹی وی کے بارے میں چند ٹویٹس کیں جس پر وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے غالب کا شعر لکھ کر تبصرہ کیا۔

ایسا کیا ہے کہ حکومت کے دو مرکزی اراکین پبلک میں ایک معاملے پر ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

فواد چوہدری پر پریس کلبوں کے دروازے بند

سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی

نعیم الحق کا تھپڑ،’پی ٹی آئی کے سو روزہ منصوبے کا آغاز‘

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی نعیم الحق نے پی ٹی وی کے بارے میں ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے لکھا 'وزیر اعظم کو پی ٹی وی کے بورڈ پر اور اس کی انتظامیہ پر مکمل اعتماد ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی وی کو ایک آزاد ادارے کے طور پر چلایا جانا چاہیے اور حکومت اس کام کو کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@naeemul_haque

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹ کی کہ 'ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@fawadchaudhry

بات یہیں نہیں رُکی اور نعیم الحق نے ایک اور ٹویٹ کی کہ 'پی ٹی آئی میں تمام نئے آنے والوں کو عمران خان کے فلسفے کی پیروی کرنی چاہیے اور اسے سمجھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی ایک مضبوط نظریاتی جماعت ہے اور اس کی کامیابی اس کے رہنما کی انصاف اور شفافیت کی جستجو میں ثابت قدمی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اس سے مختلف سوچ والوں کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@naeemul_haque

فواد چوہدری نے اس ٹویٹ کا تو جواب نہیں دیا مگر انھوں نے ایک ری ٹویٹ کی جس میں راحیل نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ 'پرانے لوگوں کو بھی اپنی اوقات میں رہنا چاہیے۔ نعیم الحق اگر آپ ایک سیاستدان بننا چاہتے ہیں تو انتخابات میں حصہ لیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ دوستی پر انحصار کرنے سے آپ کو سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں مل جاتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@realkingrah

فواد چوہدری نے ایک اور ٹویٹ ری ٹویٹ کی جو زبیر علی خان نے لکھی تھی جس میں انھوں نے لکھا کہ 'فواد چوہدری اور پیرا شوٹرز کی جنگ عروج پر۔ ذاتی تعلقات کی بناء پر عہدے حاصل کرنے والے یہ نہیں جانتے کہ سیاست میں کتابی باتیں اور دوستیاں نہیں عملی کام دیکھے جاتے ہیں۔'

اس جھگڑے پر مختلف تبصرے سامنے آئے جن میں دونوں رہنماؤں کو یہ معاملات ٹوئٹر پر لانے کی بجائے خود حل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل ارشد داد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'میں تو واضح ہوں اور پارٹی پوزیشن بھی واضح ہے۔ بہتر ہوتا ہے کہ یہ دونوں اپنے اختلافات مل بیٹھ کر حل کرتے۔‘

پی ٹی آئی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری عمر سرفراز چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم ایک جمہوری جماعت ہیں۔ ذاتی اختلافات ہوتے ہیں، ان کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے۔ دونوں سینیئر حکومتی رہنما ہیں، کابینہ کا حصہ ہیں تو ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری سمجھیں اور مل کر ان کا حل نکالیں۔'

ماروی سرمد نے نعیم الحق کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ 'میں سمجھتی ہوں کہ یہ معاملہ فواد چوہدری کی وزارت سے متعلقہ ہے۔ انھیں اپنی طریقے سے اسے ہینڈل کرنے دیں۔ ایک سے زیادہ باورچی اگر شوربے کو خراب کرنے پر تُلے ہوں گے تو ایسے کام نہیں چل سکتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@marvisirmed

ٹوئٹر کے صارف وحید اختر نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہماری حکومت کو ایسے ہی مفاد پرستوں سے خطرہ ہے۔‘

سعدیہ نے ٹویٹ کی کہ 'اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم کو پی ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر پر مکمل اعتماد ہے جو ایک خطیر رقم پر کام کر رہے ہیں اور کیا آپ کو پتا ہے کہ پی ٹی وی خسارے میں چل رہا ہے؟'

آفتاب خان نے لکھا 'نیا یا پرانا کوئی نہیں ہوتا۔ جو کام کرے گا میں اس کی حمایت کروں گا۔ آپ پارٹی میں مسائل پیدا نہ کریں۔'

اسی بارے میں