جیش محمد کے مدرسے کا کنٹرول پنجاب حکومت نے سنبھال لیا

جیش محمد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مولانا مسعود اظہر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں مقیم ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام نے بہاولپور میں واقع کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے مرکزی مدرسے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

صوبائی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق پنجاب حکومت نے جیش محمد کا ہیڈکوارٹر سمجھے جانے والے مدرستہ الاصابر اور جامع مسجد سبحان اللہ کے مدرسے کا انتظام سنبھالا ہے اور اس سلسلے میں وہاں ایک حکومتی ایڈمنسٹریٹر بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شدت پسند تنظیم ’جیش محمد‘ کیا ہے؟

حملے کی صورت میں جوابی حملہ کریں گے: عمران خان

جماعت الدعوة اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی

حکومتی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس مدرسے میں 70 اساتذہ جبکہ 600 طالبعلم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب پنجاب پولیس مدرسے میں سکیورٹی اور تخفظ فراہم کر رہی ہے۔

بہاولپور میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز نگیانہ نے بتایا کہ مدرسے کے عملے نے اس کی بندش کی تصدیق کی ہے اور مدرسے کے باہر پنجاب پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہیں تاہم دریافت کرنے پر انھوں نے مدرسے کا کنٹرول سنبھالنے کے معاملے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔

جیشِ محمد نے گذشتہ ہفتے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پلوامہ کے علاقے میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں انڈیا کے نیم فوجی دستے سی پی آر ایف کے 49 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں تھا کہ جیشِ محمد کے خلاف یہ تازہ کارروائی پلوامہ حملے کے بعد اس پر لگنے والے الزامات کی بنیاد پر کی گئی ہے کہ نہیں تاہم حکومتِ پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ اس کارروائی کا فیصلہ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پلوامہ حملے میں انڈیا پیرا ملٹری فورس کے 49 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے

خیال رہے کہ اسی اجلاس میں جماعت الدعوة اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم تنظیمیں قرار دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

14 فروری کو ہونے والے پلوامہ خودکش حملے کے بعد سے انڈین حکام کی جانب سے پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے انڈیا کو پلوامہ میں خودکش حملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انڈیا اس واقعے میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کرتا ہے تو پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔

جیش محمد کیا ہے؟

کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں مقیم ہیں۔ انڈیا نے کئی بار پاکستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے تاہم پاکستان ان کے خلاف شواہد کی عدم موجودگی کے باعث انکار کرتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد بھی ممبئی میں مولانا مسعود اظہر کے خلاف مظاہرہ ہوا تھا۔

اکتوبر 2001 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی عمارت پر خود کش حملے میں 30 لوگ مارے گئے اور اس کی ذمہ داری جیش محمد پر عائد کی گئی۔

دسمبر 2001 میں دلی میں بھارتی پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ ہو یا 2002 کے اوائل میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا قتل، جیش محمد کے نام کی باز گشت ہر اہم واقعے کے ساتھ سنی گئی۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جیش محمد کو 'دہشت گرد' تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد انڈیا کئی مرتبہ مسعود اظہر کو بھی عالمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست کر چکا ہے، لیکن پاکستان کے قریبی اتحادی چین نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں