ایف اے ٹی ایف:'پاکستان دہشت گرد تنظیموں سے لاحق خطرات کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام‘

ایف اے ٹی ایف تصویر کے کاپی رائٹ fatf
Image caption ایف اے ٹی ایف: پاکستان کو فوری اقدامات اٹھانے کی تلقین

بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے کہا ہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے معاملے میں ’محدود بہتری‘ دکھائی ہے تاہم وہ دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں سے لاحق خطرات کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے ’دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق اپنی پالیسی‘ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ مثبت اقدامات کیے ہیں مگر شدت پسند تنظیموں کی طرف سے لاحق خطرات سے متعلق پاکستان کو مناسب سمجھ بوجھ نہیں۔

مزید پڑھیے

پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں شامل نہیں

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

ایف اے ٹی ایف:’پاکستان کو تین ماہ کی مہلت مل گئی‘

بیان میں جن تنظیموں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں داعش، حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کے ساتھ ساتھ لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوۃ، جیشِ محمد اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کا نام بھی شامل ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو 10 نکاتی ایکشن پلان پر جنوری 2019 تک عمل درآمد کرنے کو کہا گیا تھا اور پاکستان کی محدود پیش رفت کے باعث انھیں فوری اقدامات اٹھانے کی تلقین کی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دیے گئے منصوبے پر مکمل عمل درآمد کرنے پر زور دیا ہے اور خصوصی طور پر ان منصوبوں پر جن کی ڈیڈلائن مئی 2019 ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو دیے گئے 10 نکاتی ایکشن پلان کے مطابق اسے یہ واضح کرنا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق اقدامات کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ نہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کی معاونت کرتی رہے گی۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اس کا نام تنظیم کی ’گرے لسٹ‘ سے ہٹا دیا جائے۔

پاکستان کی اس لسٹ میں شمولیت سے حکومت کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے خاص طور سے ایک ایسے وقت پر جب ملک کی معیشت کی حالت اتنی اچھی نہیں۔

گرے لسٹکا پس منظر کیا ہے؟

پاکستان کو گذشتہ برس جون میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ ان کا شمار اس لسٹ میں تب کیا گیا جب پاکستان اس عالمی ادارے کے ممبران کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اٹھائے گئے اقدادمت سے متعلق مطمئن نہ کرسکا۔

اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے گذشتہ سال پیرس میں منعقدہ اجلاس میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔

پاکستان کے مغربی اتحادی کافی عرصے سے پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات اٹھانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس دباؤ میں مزید اضافہ گذشتہ منگل پلوامہ میں حملے کے بعد دیکھا گیا جب انڈیا نے ایف اے ٹی ایف کو دہشت گردی سے متعلق معاونت پر پاکستان کے خلاف شواہد دینے کا دعوی کیا۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔

اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔

اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک 'پالیسی ساز ادارہ' ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں