کراچی: بریانی کھانے سے پانچ بچے اور ایک خاتون ہلاک

بریانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متاثرین نے صدر کے ایک ریستوران سے بریانی لے کر کھائی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں زہریلا کھانا کھانے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے جن میں پانچ بچے شامل ہیں۔ گذشتہ چار ماہ کے دوران کراچی میں اپنی نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

جمعے کو پیش آنے والے اس واقعے میں مرنے والے پانچوں بہن بھائیوں کے علاوہ ان بچوں کی پھوپی بھی شامل ہیں۔ خاتون کی ہلاکت کی تصدیق سنیچر کو ہوئی جبکہ ان کی والدہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

متاثرہ خاندان کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے اور ان کی نماز جنازہ آبائی علاقے خانوزئی میں ادا کرنے کے بعد تدفین کر دی گئی ہے۔

Image caption ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ آبائی علاقے خانوزئی میں ادا کرنے کے بعد تدفین کر دی گئی ہے

کراچی پولیس چیف ڈاکٹر عامر شیخ کے مطابق متاثرہ خاندان کا سربراہ فیصل بلوچستان کے شہر پشین کا ایک زمیندار ہے، وہ گذشتہ شب 11 بجے پشین سے اپنی بیوی، بہن اور پانچ بچوں کے ساتھ کراچی پہنچا۔

انھوں نے سرکاری لاج قصر ناز میں رہائش لینے کے بعد صدر کے ایک ریستوران سے بریانی لے کر کھائی۔ رات کو تین بجے متاثرہ خاندان کی حالت غیر ہونے پر انھیں ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پانچوں بچے ہلاک ہوگئے، جبکہ ماں کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔

مزید پڑھیے

’کراچی کے ریستوران کا کھانا ہی بچوں کی موت کی وجہ بنا‘

مندر میں زہریلا کھانا کھانے سے 11 افراد ہلاک

’گھی لگا کر بچوں کو روٹی دیں تو بچے بیمار ہو جاتے ہیں‘

متاثرہ خاندان کا تعلق ضلع پشین کے علاقے خانوزئی سے ہے جو کہ کوئٹہ سے اندازاً 60 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

مرنے والوں کی میتیں سندھ حکومت نے خصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ پہنچا دیں تھیں جہاں بلوچستان کے حکام نے انہیں وصول کر کے گاڑیوں پر ان کے آبائی علاقے بھجوا دیا تھا۔

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کراچی پولیس جلد واقعہ کی تحقیقات مکمل کرے گی۔ انھوں نے یقین دہانی کروائی کہ سوگوار خاندان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

کراچی پولیس چیف ڈاکٹر عامر شیخ کے مطابق متاثرہ خاندان پشین سے کراچی آئے، راستے میں خضدار سے ایک دوست کے گھر بھی کچھ کھایا تھا۔ پولیس دونوں جگہوں سے شواہد جمع کرے گی۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں، ڈیڑھ سالہ عبدل علی، چار سالہ عزیز فیصل، چھ سالہ عالیہ، سات سالہ توحید فیصل اور نو سالہ سلویٰ شامل ہیں۔

پولیس چیف کے مطابق مذکورہ ریستوران کے 15 ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ریستوران کے مالک کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے۔ ڈائریکٹر آپریشن سندھ فوڈ اتھارٹی ابرار شیخ کا کہنا ہے کہ پولیس نے کھانے کے نمونے لے کر ریستوران اور رہائشی کمرے کو سیل کردیا ہے۔

پولیس چیف نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو تحقیقات مکمل کر کے انکوائری رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

Image caption ہوٹلوں میں رہنے والے لوگوں کے رش کے باعث کئی ریستوران اور کھانے پینے کے ٹھیلے موجود ہیں جو رات گئے تک کھلے رہتے ہیں

نجی ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے بتایا کہ سندھ حکومت متاثرہ خاندان کی ہرممکن طبی اور قانونی مدد کرے گی جبکہ ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد بذریعہ ایمبولینس یا جہاز ان کے آبائی علاقے بھیجی جائیں گی۔

یاد رہے کہ نومبر 2018 میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں زہریلا کھانا کھانے سے دو بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاکتوں کا یہ واقعہ 10 نومبر کو پیش آیا تھا جب عائشہ نامی خاتون اور ان کے دو بچوں کو طبیعت خراب ہونے پر ایک نجی ہسپتال میں لے جایا گیا تھا جہاں ایک بچے کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ دوسرا دوران علاج چل بسا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں